ناسا کا پرسیویرینس روور مریخ پر لینڈ کرنے کے بعد وہاں اپنا 100واں دن منا رہا ہے۔ یہ روور مریخ پر ماضی میں زندگی کے آثار کے حوالے سے تحقیقات کر رہا ہے جس میں سیارے کی ارضیاتی ساخت اور اس کے ماحول کے حوالے سے انتہائی اہم معلومات اکھٹی کی جا رہی ہیں۔
18 فروری کو مریخ پر اترنے کے بعد سے اس روبوٹ نے سرخ سیارے سے حیرت انگیز تصاویر بھیجی ہیں۔ یہ تصاویر پرسیویرینس روور کی لینڈنگ کے مقام یعنی جزیرو کریٹر کے آس پاس لی گئی ہیں جو کہ ایک تیس میل چوڑا گڑھا ہے اور یہ سرخ سیارے کے خط استوا یعنی اکویٹر سے تھوڑا شمال میں واقع ہے۔
اس مشن سے اب تک جو تصاویر واپس بھیجی گئی ہیں ان میں سے بہترین تصاویر کو اس تحریر کے لیے چنا گیا ہے۔
،تصویر کا ذریعہNASA/JPL-Caltech/MSSS
،تصویر کا کیپشنچھ اپریل کو پرسیویرینس میں نصب واٹسن کیمرے سے روبوٹ نے ایک سیلفی کھینچی جس میں انجینوٹی ہیلی کاپٹر اس کے بغل میں ہی موجود دیکھا جا سکستا ہے۔ یہ تصویر 62 تصاویر سے مل کر بنائی گئی ہے جنھیں زمین پر بھیجے جانے کے بعد ماہرین نے جوڑا تھا
،تصویر کا ذریعہNASA/JPL-Caltech/MSSS
،تصویر کا کیپشناس سیلفی سے کچھ روز قبل ہی انجینویٹی ہیلی کاپٹر کو پرسیویرینس روور کے نیچے سے مریخ پر اتارا گیا تھا
،تصویر کا ذریعہNASA/JPL-Caltech/ASU
،تصویر کا کیپشنایک اعشاریہ آٹھ کلوگرام وزنی اس ہیلی کاپٹر نے مریخ کے کم آکسیجن والی فضا میں اڑان بھری جس کا مقصد یہ ٹیسٹ کرنا تھا کہ آیا مریخ کی فضا میں پرواز ممکن ہے
،تصویر کا ذریعہNASA/JPL-Caltech
،تصویر کا کیپشنگذشتہ ماہ اننجینویٹی نے اس وقت تاریخ رقم کی جب اسے ایک دوسرے سیارے سے کنٹرول کر کے اڑایا گیا۔ اس تصویر کے درمیان میں انجینویٹی کو اڑان بھرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ تین میٹر بلندی تک جا سکا، جس کے بعد اسے لینڈ کروایا گیا
،تصویر کا ذریعہNASA/JPL-Caltech
،تصویر کا کیپشنانجینویٹی نے اپنی دوسری پرواز کے دوران اپنی پہلی رنگین تصویر اتاری۔ یہ ڈرون سطح سے پانچ میٹر بلندی پر رہا، اور پھر واپس لینڈ کر گیا۔ اس تصویر میں آپ پرسیویرینس کا ٹریک دیکھ سکتے ہیں
،تصویر کا ذریعہNASA/JPL-CALTECH
،تصویر کا کیپشنیہاں انجینویٹی کی جانب سے پرسیویرینس کی تصویر لی گئی ہے۔ اس وقت یہ ہیلی کاپٹر 85 میٹر کی بلندی پر پرواز کر رہا تھا۔ اس تصویر میں انجینویٹی کی ایک ٹانگ بھی دکھائی دے رہی، کیا آپ اسے دیکھ سکتے ہیں؟
،تصویر کا ذریعہNASA/JPL-Caltech
،تصویر کا کیپشنسات مئی کو انجینویٹی نے 10 میٹر بلندی حاصل کی اور اس نے تقریباً 129 میٹر فاصلے تک پرواز کی اور ایک نئی جگہ لینڈ کیا
،تصویر کا ذریعہNASA/JPL-Caltech
،تصویر کا کیپشندو ماہ قبل، جیزیرو کریٹر میں لینڈ کرنے کے بعد سے پہلی بار پرسیویرینس اپنی پہلی ڈرائیو پر نکلا تھا۔ اس روور میں جدید آلات نصب ہیں جو اسے سیارے سے متعلق معلومات حاصل کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
،تصویر کا ذریعہNASA/JPL-Caltech/ASU
،تصویر کا کیپشنپرسیویرینس میں ایک لیزر بھی نصب ہے جس کے ذریعے سیارے کی ارضیات سے متعلق معلومات اکھٹی کی جاتی ہیں۔ اس چھ انچ لمبے پتھر کے حوالے سے تحقیق کرتے ہوئے اس مشین نے اس پتھر پر نشان چھوڑے ہیں
،تصویر کا ذریعہNASA/JPL-Caltech/ASU
،تصویر کا کیپشنپرسیویرینس روور میں مختلف اقسام کے کیمرے نصب ہیں۔ یہ تصویر اس کی دائیں آنکھ سے لی گئی ہے جسے ’Mastcam-Z‘ کہا جاتا ہے۔ اس پر لگے کیمرے انسانی آنکھ جیسے ہیں
،تصویر کا ذریعہNASA/JPL-Caltech/ASU
،تصویر کا کیپشنیہ تصویر Mastcam-Z سے لی گئی ہے جو پرسیویرینس کے بائیں جانب نصب ہے اور اسے پرسیویرینس کے مریخ پر چھٹے ہفتے میں انٹرنیٹ پر کیے گئے ووٹ میں ہفتے کی بہترین تصویر کا اعزاز ملا
،تصویر کا ذریعہNASA/JPL-Caltech/ASU/MSSS
،تصویر کا کیپشناس تصویر میں سینٹا کروز چوٹی کو دیکھا جا سکتا ہے جو اس روور سے ڈھائی کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ یہ منظر جیزیرو کریٹر کے انداز سے عکس بند کیا گیا ہے
پرسیویرینس روور کے لیے ابتدائی طور پر مریخ پر ایک سال (زمین کے اعتبار سے دو سال) تک آپریٹ کرنے کے فنڈ موجود ہیں۔