مریخ پر ناسا کے ’انجینیوٹی‘ ہیلی کاپٹر کی کامیاب پرواز، ’رائٹ برادران کا لمحہ‘

ناسا

،تصویر کا ذریعہNASA

،تصویر کا کیپشنناسا کا چھوٹا ہیلی کاپٹر انجینیوٹی مریخ کی سطح سے ذرا اوپر اڑتا ہوا

امریکی خلائی ادارے ناسا نے کہا ہے کہ اس نے کامیابی کی ساتھ اپنا چھوٹا ہیلی کاپٹر مریخ پر اڑایا ہے۔

اس بات کی تصدیق مریخ پر موجود ایک سیٹلائٹ نے ہیلی کاپٹر کا ڈیٹا زمین پر بھیج کر کی۔

یہ کسی دبسرے سیارے پر پہلی پاورڈ اور کنٹرولڈ پرواز ہے۔

کیلیفورنیا کے علاقے پیسیڈینا میں موجود ناسا کی جیٹ پروپلشن لیبارٹری (جے پی ایل) میں انجینیوٹی نامی ہیلی کاپٹر پراجیکٹ کی منیجر میمی آنگ نے کہا کہ ’ہم اب یہ کہہ سکتے ہیں کہ انسانوں نے کسی دوسرے سیارے پر روٹرکراف اڑایا ہے۔‘

Selfie of helicopter and rover

،تصویر کا ذریعہNasa

،تصویر کا کیپشنپریزروینس روور اور انجینیوٹی ہیلی کاپٹر کی ایک سیلفی

’ہم مریخ پر اپنے 'رائٹ برادران کے لمحے‘ کے بارے میں اتنے عرصے سے بات کر رہے ہیں، اور یہ ہو گیا ہے۔‘

ابھی تک منصوبہ یہ ہے کہ مریخ پر انجینیوٹی کو تقریباً 3 میٹر تک ہوا میں بلند کیا جائے، اسے تقریباً 30 سیکنڈ تک اڑایا جائے اور پھر اتار لیا جائے۔

لیکن کیونکہ اس طرح کی ٹیکنالوجی کو پہلے کبھی استعمال نہیں کیا گیا اور مریخ پر پرواز کے حالات بھی بڑے مشکل ہیں، اس لیے پرواز کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیئے

مارس

اس سے پہلے ناسا کی جیٹ پروپلشن لیبارٹری (جے پی ایل) کی سسٹم انجینئر فرح علی بے نے کہا تھا کہ ’یہ بالکل دیوانہ پن لگتا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ہم زمین پر صرف 100 سال سے اڑ رہے ہیں، اور اب ہم جیسے ’واہ، اب ہم کسی دوسرے سیارے پر جا کر اڑیں گے'۔ یہ پاگل پن ہے. لیکن یہی تلاش کرنے کی خوبصورتی ہے۔ یہی انجینیئرنگ کا حسن ہے۔‘

انجینیوٹی کا منصوبہ پیر کے روز 07:30 جی ایم ٹی ( 08:30 بی ایس ٹی) پر پرواز کا تھا اور اس کے متعلق تین گھنٹے کے بعد ہی زمین آئیں کیونکہ معلومات زمین تک آنے میں وقت لگتا ہے۔

یہ معلومات ناسا کے پرزیورینس روور اور مریخ کے ایک مصنوعی سیارے کے ذریعہ جاری ہوئیں جس نے اسے جے پی ایل کو بیم کیا۔

پرواز کہاں اڑے گی؟

پرزیورینس روور سرخ سیارے کے ایک ایسے خطے میں ہے جسے جیزیرو کریٹر کہا جاتا ہے۔ روبوٹ فروری میں ہیلی کاپٹر کے ساتھ مریخ کی سطح پر اترا تھا۔

اس کے بعد پرزیورینس ایک ’فضائی پٹی‘ کی طرف گیا جو کہ اس کی لینڈنگ کی جگہ سے تقریباً 20 میٹر میٹر کے فاصلے پر تھی۔ یہاں پر اس نے انجینیوٹی کو زمین پر اتارا اور دونوں کی ایک سیلفی لی۔

Mars helicopter under the rover

،تصویر کا ذریعہNasa

،تصویر کا کیپشنروور اپنے ’پیٹ‘ سے روور کو زمین پر اتارتے ہوئے

انجینیئرز نے کہا تھا کہ ہیلی کاپٹر اپنی پہلی آزمائشی پرواز کے لیے اچھی حالت میں نظر آرہا ہے۔ حالیہ دنوں میں تکنیکی خرابی کی دیکھ بھال کرنے کے لیے ایک ’سافٹ ویئر پیچ‘ نصب کیا گیا تھا اور اسے چیک بھی کر لیا گیا تھا۔ لیکن اب ایک سب سے بڑے مرحلے کے لیے سب کچھ تیار رہنا چاہیئے۔

جمعہ کو مکمل طور پر جانچ کے لیے ایک ’فل سپیڈ روٹر رن اپ‘ بھی کیا گیا تھا۔

انجینیوٹی کی پراجیکٹ مینیجر ایمی آنگ نے پرواز سے قبل ایک پریس بریفنگ میں کہا تھا کہ ’ہم نے پوری طرح تصدیق کی ہے کہ انجینیوٹی کے پاس اس پرواز کو مریخ پر انجام دینے کے لیے ضروری توانائی اور طاقت ہو۔‘

آنے والے دنوں میں مزید چار پروازوں کی کوشش کی جائے گی، اور ہر پرواز میں ہیلی کاپٹر کو مزید آگے لے کر جانے کی کوشش کی جائے گی۔

Flight zone

،تصویر کا ذریعہNASA/JPL-CALTECH/HiRISE

،تصویر کا کیپشناس پرواز کو اس جگہ کے قریب ہی سے اڑایا جائے گا جہاں روور فروری میں لینڈ ہوا تھا

مریخ پر پرواز کرنا اتنا مشکل کیوں ہے؟

مریخ پر فضا انتہائی پتلی ہے، جو کہ زمین پر کثافت کے مقابلے میں ایک فیصد ہے اور اس کی وجہ سے ہیلی کاپٹر کو اڑنے کے لیے زیادہ ہوا نہیں ملتی۔

سرخ سیارے پر کشش ثقل تو کم ہے، جو کہ اڑنے میں مدد کر سکتی ہے، لیکن انجینئئروں نے ہیلی کاپٹر کو پہلے ہی بہت ہلکا بنایا ہے تا کہ آسانی سے اسے وہاں تک لے کے جایا جا سکے۔ اس کا وزن تقریباً 1.8 کلوگرام ہے۔

مزید پڑھیئے

اس کے دو 1.2 میٹر لمبے پر 2،500 آر پی ایم کی رفتار تک مخالف سمت میں گھومتے ہیں۔ یہ انتہائی تیز ہے، واقعی بہت تیز، اور روٹر کے سرے مریخ پر آواز کی رفتار سے تقریبا دو تہائی تیز حرکت کر رہے ہوں گے۔ یہ انجینیوٹی کو درکار اٹھان دینے میں مدد فراہم کریں گے۔

ناسا جیزیرو میں ہواؤں پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ یہ 20 میٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے چل سکتی ہیں، جو کہ اس سے بہت زیادہ ہیں جن پر زمین پر تجربہ کیا گیا تھا۔ لیکن ٹیم کا خیال ہے کہ ہیلی کاپٹر انھیں برداشت کر لے گا۔

ہمیں کس طرح کی تصاویر نظر آئیں گی؟

انجینیوٹی کے اوپر دو کیمرے لگے ہوئے ہیں۔

ایک بلیک اینڈ وائٹ کیمرا جو نچلی سطح کی طرف اشارہ کرتا ہے، جو نیویگیشن کے لیے استعمال ہوتا ہے، اور دوسرا ایک ہائی ریزولوشن ولا رنگین کیمرا جو افق کی طرف دیکھتا ہے۔

روور تقریباً 65 میٹر دور تک تصاویر کھینچ سکے گا۔ یہ اس دوران اپنے کیمرے کے زوم بھی استعمال کرے گا تاکہ سطح کو قریب سے بھی دیکھ سکے۔ اگر قسمت نے ساتھ دیا تو ہم کچھ ویڈیو بھی دیکھ سکیں گے۔

ان سب میں کچھ پیچیدگیاں بھی ہیں۔ روور اور ہیلی کاپٹر دونوں خودمختاری کے ساتھ کام کرتے ہیں اور دونوں میں الگ الگ گھڑیاں لگی ہوئی ہیں۔ فوٹو گرافی کے لیے دونوں کی ٹائمنگ ڈیوائسز میں ہم آہنگی بہت ضروری ہے۔

پیر کے روز ڈیٹا ڈاؤن لنک میں ترجیحی واپسی کے لیے اہم فریموں کا انتخاب پہلے ہی کیا جا چکا ہے۔

اپ لنک آپریشنز کی سربراہ ایلسا جینسن کہتی ہیں کہ ’ہم نے اس کی پریکٹس کی ہے، لہذا ہم امید کرتے ہیں کہ سب کچھ ٹھیک ہو۔۔۔ لیکن ہمیں معلوم ہے کہ وہاں سرپرائز بھی ہوں گے۔‘

Helicopter on surface

،تصویر کا ذریعہNASA

،تصویر کا کیپشنیہ پرواز دوسری دنیاؤں کی کھوج کا طریقہ بدل کے رکھ دے گی

یہ پرواز ضروری کیوں ہے؟

امریکی خلائی ایجنسی کا کہنا ہے کہ یہ پرواز ’رائٹ برادران والا لمحہ‘ ہو گی۔ جو کہ سنہ 1903 میں زمین پر پہلی طاقت سے چلنے والی، کنٹرولڈ ایئر کرافٹ پرواز کی طرف ایک اشارہ ہے۔

اس رابطے کو ہمیشہ یاد رکھنے کے لیے رائٹ برادران کے ہوائی جہاز کے ایک بازو سے ڈاک کی ٹکٹ کے سائز کے کپڑے کے ٹکڑے کو زمین پر ہی ٹیپ کر دیا گیا تھا۔ یہ بات قابل غور ہے کہ رائٹ برادران کی پہلی پرواز صرف 12 سیکنڈ تک ہی ہوا میں رہی تھی۔ عظیم کام چھوٹے چھوٹے قدموں سے ہی شروع ہوتے ہیں۔

The Wright Brothers fabric is taped just under Ingenuity's solar panel

،تصویر کا ذریعہNASA/JPL-CALTECH

،تصویر کا کیپشنرائٹ برداران کے جہاز سے لیے گئے کپڑے کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا بھی انجینیٹی کے ساتھ چپکا دیا گیا تھا

امید ہے کہ اس چھوٹی سی ٹیکنالوجی سے ایسی تبدیلی آئے کہ وہ دور کی دنیاؤں کی کھوج کے طریقے کو ہی بدل کے رکھ دے۔

انجینیوٹی کے چیف پائلٹ ہاورڈ گرفت کہتے ہیں کہ ’آپ زمینی گاڑیوں کی طرح مختف جگہوں پر بغیر کسی رکاوٹ کے جا سکتے ہیں۔‘

’یہ مستقبل کے روورز کے لیے یا شاید خلابازوں کے لیے بھی سکاؤٹنگ مشن کر سکتا ہے، اور پھر ہم یہ بھی سوچ رہے ہیں کہ یہ ممکنہ طور پر سائنسی آلات کو ایسی جگہوں تک لے جانے کی صلاحیت رکھ سکتا ہو جہاں تک رسائی مشکل ہے۔‘

زحل کے بڑے چاند ٹائٹن کے لیے ناسا نے پہلے ہی ایک ہیلی کاپٹر مشن کی منظوری دے دی ہے۔ اس کی فضا بہت بھاری ہے۔ ڈریگن فلائی نامی مشن کو 2030 کے وسط میں ٹائٹن پہنچنا ہے۔