کورونا وائرس: کیا آپ کے ملک میں ویکسین پہنچ گئی ہے؟

جب کورونا وائرس کے خلاف ویکسین کی تقسیم کی بات آتی ہے تو پھر زیادہ تر لوگ ایک سوال ہی پوچھتے ہیں کہ میری باری کب آئے گی؟
آخر کار دنیا کے لیے کورونا وائرس کے خلاف ویکسین زندگی اور موت کا مسئلہ بنی ہوئی ہے۔
بہت محدود تعداد میں کچھ ممالک نے اس حوالے سے بہت واضح انداز سے اپنے اہداف مقرر کیے ہیں مگر دنیا کے بیشتر ممالک میں ابھی یہ صورتحال زیادہ واضح نہیں۔
اس میں ایک پیچیدہ سائنسی عمل کے علاوہ ملٹی نیشنل کارپوریشنز، کئی حکومتوں کے متضاد وعدے اور بیوروکریسی کے طریقے اور قواعد آڑے آ جاتے ہیں جس کا مطلب ہے کہ دنیا بھر میں یہ ویکسین کب اور کیسے ملے گی اس کا کوئی سیدھا جواب نہیں۔
دیکھیے اس وقت دنیا میں ویکسین لگانے کا عمل کس طرح آگے بڑھ رہا ہے۔
دنیا بھر میں ویکسین کی کتنی خوراکیں دی جا چکی ہیں؟
اب تک دنیا کے 100 سے زیادہ ممالک میں مختلف ویکسینز کی 30 کروڑ سے زیادہ خوراکیں دی جا چکی ہیں۔ یہ اتنے بڑے پیمانے پر دنیا میں ویکسینیشن کا اب تک کا پہلا پروگرام ہے۔
سب سے پہلی ویکسینز چین کے شہر ووہان میں کورونا وائرس کے اولین کیسز سامنے آنے کے بعد ایک سال سے بھی کم عرصے کے اندر دی گئیں مگر ویکسین کی عالمی سطح پر فراہمی ناہموار رہی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کچھ ممالک نے بڑی تعداد میں ویکسین کی خوراکیں حاصل کر کے اپنی آبادی کے ایک بڑے حصے کو فراہم کر دی ہیں مگر کئی ممالک اب بھی ویکسینز کی پہلی کھیپ پہنچنے کا انتظار کر رہے ہیں۔
ویکسینیشن کے ابتدائی مرحلوں میں زیادہ تر ممالک مندرجہ ذیل گروہوں کو ترجیحی بنیادوں پر ویکسین فراہم کر رہے ہیں:
- ساٹھ سے زیادہ عمر کے افراد
- طبی عملے کے ارکان
- طبی طور پر خطرے کی زد میں موجود افراد
اسرائیل اور برطانیہ جیسے ممالک میں اس بات کے حوصلہ افزا اشارے مل رہے ہیں کہ ویکسینز کی وجہ سے ہسپتالوں میں داخلے، اموات اور ایک شخص سے دوسرے میں وائرس کے پھیلاؤ کے واقعات میں کمی آئی ہے۔
مگر جہاں تقریباً تمام یورپ اور امریکی ممالک نے ویکسینیشن مہمات کا آغاز کر دیا ہے وہاں اب تک چند ہی افریقی ممالک میں عوام کو ویکسین کی فراہمی شروع ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
اکانومسٹ انٹیلیجنس یونٹ (ای آئی یو) کے گلوبل فارکاسٹنگ ڈائریکٹر اگاتھے دیمارائس نے اس حوالے سے بہت جامع تحقیق کی ہے۔
اس بات کو جاننے کے لیے کہ مختلف ممالک میں لوگوں تک یہ ویکسین کس طرح پہنچے گی ای آئی یو نے اس وقت دنیا میں اس ویکسین کی پیداواری صلاحیت کو پرکھا ہے اور اس کے ساتھ طبی انفراسٹرکچر کا جائزہ بھی لیا ہے۔
اسی طرح کسی ملک کی آبادی کے حجم کو بھی دیکھا گیا کہ وہ کیسے لوگوں تک یہ ویکسین پہنچا سکیں گے۔
اس مطالعے کے نتائج میں امیر اور غریب کے درمیان متوقع فرق واضح طور پر دیکھنے میں آیا ہے۔
اس وقت برطانیہ اور امریکہ اس ویکسین کو صحیح معنوں میں عوام تک پہنچا رہے ہیں کیونکہ وہ ویکسین کی تیاری میں بڑی سرمایہ کاری کی سکت رکھتے ہیں اور اس وجہ سے وہ ویکسین حاصل کرنے کے لیے صف اول میں ہیں۔
اسی طرح کینیڈا اور یورپی یونین میں شامل ممالک برطانیہ اور امریکہ سے ویکسین کے معاملے میں کچھ پیچھے ہیں۔
کئی کم آمدنی والے ممالک نے ابھی تک ویکسین لگانے کا عمل شروع ہی نہیں کیا ہے مگر کچھ ممالک نے ویکسین سے متعلق سرپرائز دیا ہے۔
گذشتہ سال کے اختتام پر اس وقت کینیڈا کو تنقید کا سامنا کرنا پڑا جب اس نے اپنی آبادی کے حجم سے پانچ گنا زیادہ ویکسین کے لیے آرڈر بک کرایا تاہم یہ لگ رہا ہے کہ کینیڈا نے اپنے لیے ویکسین کی ترجیحی فراہمی کا خیال نہیں رکھا۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ کینیڈا نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے ویکسین کی برآمد پر ممکنہ پابندی کے خدشے سے یورپی فیکٹریوں میں سرمایہ کاری کی ہے تاہم یہ کینیڈا کے لیے بہتر فیصلہ ثابت نہیں ہوا۔
ابھی یورپی ممالک کی فیکٹریاں ویکسین کی سپلائی پوری کرنے کی جدوجہد کر رہی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ حال ہی میں امریکہ کے بجائے یورپی یونین میں شامل ممالک اس ویکسین کی برآمد پر پابندی عائد کرنے کی دھمکی دے رہے ہیں۔
اٹلی نے پہلے ہی آسٹریلیا کو ویکسین کی برآمد روک دی ہے۔
اگاتھے دمارائس کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں جب تک یورپی ممالک کو بڑی تعداد میں ویکسین دستیاب نہیں ہو جاتی تو اس وقت تک کینیڈا کو ویکسین بھیجنا ممکن نہیں ہو گا۔
تاہم کچھ ایسے ممالک بھی ہیں جو امیدوں سے بڑھ کر اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔
اپنی عوام تک ویکسین کی فراہمی میں سربیا دنیا میں آٹھویں نمبر پر تھا، جو کہ کسی بھی یورپی ممالک سے آگے تھا۔
اگرچہ سربیا کی عوام تک ویکسین کی فراہمی کی کامیابی کسی حد متاثر بھی ہوئی مگر سربیا ویکسین ڈپلومیسی سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔۔ کیونکہ چین اور روس کے درمیان مشرقی یورپ میں اپنا اثرو رسوخ برقرار رکھنے کی ایک لڑائی جاری ہے۔
سربیا ان چند علاقوں میں سے ایک ہے جہاں روس کی تیار کردہ ویکسین سپونتک فائیو، چین کی ویکسین سائنو فارم، امریکہ اور جرمنی میں تیار کی گئی فائزر کی ویکسین، اور برطانیہ میں تیار کی گئی آکسفورڈ ایسٹرازینیکا ویکسین دستیاب ہیں۔
بظاہر سربیا میں زیادہ تر لوگوں کو سائنو فارم ہی لگائی گئی ہے۔
چین کا اس ملک میں اثر و رسوخ کافی عرصے تک برقرار رہنے کا امکان ہے۔ اگر کوئی ملک پہلی اور دوسری بار چین کی سائنو فارم ویکسین استعمال کرے گا تو پھر مسقبل میں بھی اگر اُنھیں ضرورت ہو گی تو پھر وہ چین سے ہی مزید ایسے نسخے حاصل کرے گا۔
متحدہ عرب امارات بھی زیادہ تر چین کی سائنو فارم ویکسین پر ہی انحصار کر رہا ہے۔ اس وقت 80 فیصد تک اس ویکسین کی خوراکیں لوگوں کو لگائی جا رہی ہیں۔ متحدہ عرب امارات اس وقت ملک میں سائنو فارم کی فیکٹری بھی قائم کر رہا ہے۔

اگاتھے دمارائس کا کہنا ہے کہ چین پیداواری صلاحیت کے ساتھ آ رہا ہے، افرادی قوت کو تربیت دے رہا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ اب چین کا اثر طویل عرصے کے لیے رہے گا اور مستقبل میں بھی چین کی طرف سے آنے والی کسی چیز کو ایسے ممالک انکار نہیں کر سکیں گے۔
محض ویکسین سپر پاور ہونے کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ اس ملک کی عوام کو بھی پہلے ویکسین لگے گی۔
ای آئی یو کی تحقیق کے مطابق چین اور انڈیا میں دنیا کے دو پروڈکشن پاور ہاؤسز میں سب لوگوں کو 2022 تک ویکسین نہیں دی جا سکے گی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دونوں ملکوں کی آبادی زیادہ ہے اور وہاں ہیلتھ ورکرز کی کمی ہے۔
انڈیا میں ویکیسن کی تیاری کا سہرا صرف ایک شخص ادار پونے والا کو جاتا ہے، جس کی کمپنی سیرم انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا دنیا میں ویکسین بنانے والی بڑی کمپنی ہے۔ مگر گذشتہ سال کے وسط میں ان کے خاندان کو لگا کہ وہ اپنا دماغی توازن کھو گئے ہیں۔ وہ اپنی ہی رقم سے کروڑوں ڈالر ویکسین کے لیے خرچ کر رہے تھے جبکہ انھیں یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ یہ کارآمد بھی ہو گی یا نہیں۔
جنوری میں آکسفورڈ کی تیار کردہ ایسٹرا زینیکا ویکسین انڈین حکومت کے حوالے کی گئی۔ اب ادار پونے والا ایک دن میں 2.4 ملین نسخے تیار کر رہا ہے۔

ادار پونے والا کی کمپنی انڈیا کو ویکیسن فراہم کرنے والی دو کمپنیوں میں سے ایک ہے اور یہ کمپنی برازیل، مراکو، بنگلہ دیش اور جنوبی افریقہ کو بھی ویکسین فراہم کر رہی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ’لگتا تھا کہ اب تمام دباؤ اور پاگل پن اب ختم ہو جائے گا کیونکہ ہم نے پروڈکٹ (ویکسین) تیار کر لی ہے تاہم ابھی بھی حقیقی چیلنج ہر کسی کو خوش رکھنا ہے۔‘ ان کے خیال میں دنیا میں ویکسین تیار کرنے والی دیگر کمپنیاں بھی ویکسین کی فراہمی کو یقینی بنائیں گی۔ تاہم افسوسناک بات یہ ہے کہ پہلے اور شاید اس کے بعد کے چار ماہ بعد بھی اس سال ہم ویکیسین کی فراہمی میں کوئی قابل ذکر پیش رفت نہیں دیکھ پائیں گے۔
وہ کہتے ہیں کہ ویکسین کی پیداوار راتوں رات بڑھائی نہیں جا سکتی۔ ادار پونے والا کے مطابق یہ ایک وقت طلب عمل ہے۔ ’اب لوگ یہ سوچتے ہیں کہ سیرم انسٹیٹیوٹ نے جادوئی نسخہ تیار کر لیا ہے۔ ان کے مطابق ہم جو کرتے ہیں وہ اچھا ہے مگر یہ جادوئی نہیں ہے۔
ادار پونے والا کو اب ایک فائدہ حاصل ہے کیونکہ اُن کی کمپنی نے گذشتہ برس مارچ میں ویکسین تیاری سے متعلق کام شروع کیا تھا اور اگست میں کیمیکلز کا سٹاک اور شیشیاں جمع کرنی شروع کر دی تھیں۔
ویکسین تیاری کے مرحلے میں جتنی تعداد میں ویکسین تیار ہوتی ہے ان کا انحصار مختلف مراحل پر ہوتا ہے اور اس دوران کئی مراحل ایسے ہیں جن میں چیزیں غلط بھی ہو سکتی ہیں۔
اگاتھے دمارائس کے مطابق اس میں اتنا ہی آرٹ ہے جتنی کہ سائنس ہے۔
ان ویکسین مینوفیکچررز کے لیے جو ابھی ویکسین کی تیاری کا عمل شروع کرنے جا رہے ہیں انھیں ویکسین کی تیاری میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔ اور یہی معاملہ کسی بوسٹر کی تیاری کا بھی ہے جو اس وائرس کی کسی نئی قسم سے نمٹنے کے لیے درکار ہو گا۔

،تصویر کا ذریعہRex Features
ادرا پونے والا کا کہنا ہے کہ انڈیا کو سب سے پہلے ویکسین کی فراہمی اُن کا پہلا عزم ہے اور پھر اس کے بعد کوویکس کے ذریعے افریقی ممالک کو اس ویکسین کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔
کوویکس عالمی ادارہ صحت، گلوبل ویکسین الائنس (گاوی)، اور ’دی کولیشن فار ایپی ڈیمک پری پیئرڈنس انیشیٹیوز‘ (سی ای پی آئی) کا ایک اقدام ہے۔ اس پروگرام کا مقصد دنیا کے ہر ملک کے لیے قابل برداشت نرخوں پر ویکسین کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔
اس کا وعدہ ہے کہ یہ اس سکیم کے تحت اہل قرار پانے والے ملک کی 20 فیصد تک آبادی کو لگانے کے لیے ویکسین فراہم کرے گا۔
ایسے ممالک جو یہ ویکسین نہیں خرید سکتے انھیں خصوصی فنڈز سے یہ ویکسین مفت فراہم کی جائے گی۔ دیگر ممالک اس ویکسین کے لیے ادائیگی کریں گے مگر اس پروگرام کے تحت وہ ویکسین کی قیمت پر بہتر بھاؤ تاؤ کر سکتے ہیں۔
کوویکس کا ارادہ ہے کہ سال کے اختتام تک عالمی طور پر دو ارب خوراکیں فراہم کی جائیں۔
گھانا 24 فروری کو کوویکس کے ذریعے ویکسین حاصل کرنے والا پہلا ملک بن گیا ہے۔
کوویکس پلان کو کمزور کیا جا رہا ہے۔ بہت سے ممالک اپنے طور پر ویکسین کے لیے اس پروگرام سے ہٹ کر ڈیل کر رہے ہیں۔
ادار پونے والا کا کہنا ہے کہ تقریباً ہر افریقی رہنما ان کے ساتھ ویکسین فراہمی کے لیے آزادانہ طور پر رابطے میں ہے۔ گذشتہ ہفتے یوگنڈا نے اعلان کیا ہے کہ اس نے سیرم انسٹی ٹیوٹ سے فی خوراک سات ڈالر کے حساب سے 18 ملین خوراکیں خریدی ہیں۔ کوویکس کے تحت 4 ڈالر فی خوراک کے حساب سے اس ویکسین کی فراہمی سے یہ ریٹ کہیں زیادہ ہے۔
سیرم انسٹیٹیوٹ کا کہنا ہے کہ وہ یوگنڈا سے مذاکرات کر رہے ہیں مگر انڈین کمپنی نے یوگنڈا سے طے پانے والی کسی ڈیل سے انکار کیا ہے۔
ادار پونے والا عالمی ادارہ صحت سے ابتدائی منظوری حاصل کرنے کے بعد کوویکس کو اے زیڈ 200 ملین نسخے فراہم کریں گے۔ ادرا پونے والا نے کوویکس کو 900 ملین نسخے دینے کا وعدہ کیا ہے تاہم انھوں نے اس حوالے سے یہ نہیں بتایا کہ وہ کب تک یہ دے دیں گے۔ اگرچہ وہ اس پروگرام سے متعلق خاصے پرعزم تھے تاہم وہ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ اس میں انھیں مسائل کا سامنا ہے۔
ان کے مطابق کوویکس بہت ساری ویکسین تیار کرنے والی کمپنیوں سے ڈیل کر رہی ہے۔ ان میں سے ہر ویکسین کی علیحدہ قیمتیں اور فراہمی کی مختلف تاریخیں ہیں۔
اگاتھے دمارائس اور ای آئی یو کوویکس کے پروگرام سے متعلق زیادہ پر امید نہیں ہیں۔ ان کے مطابق اگر یہ کامیاب بھی ہو گیا تو اس پروگرام کے تحت دنیا کی 20 سے 27 فیصد آبادی تک ہی ویکسین فراہم کی جا سکے گی۔ دمارائس کے مطابق یہ پروگرام محدود پیمانے پر فرق ڈالے گا مگر یہ کوئی گیم چینجر نہیں ہے۔
اگاتھے دمارائس کی اکانومسٹ انٹیلی جنس یونٹ کے لیے پیش گوئی کے مطابق 2023 تک کچھ ممالک میں ویکسین سرے سے یا مکمل طور پر نہیں لگائی جا سکے گی۔ تمام ممالک کے لیے ویکسین لگانا ترجیح نہ ہو خاص طور پر ایسے ممالک جہاں کی آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہو اور وہاں بیمار لوگوں کی تعداد زیادہ نہ ہو۔
اس منظرنامے کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ جب تک وائرس کہیں پنپ سکتا ہے تو پھر یہ کہیں بھی جا سکتا ہے اور اپنی ہییت بدل سکتا ہے۔ ویکسین کے خلاف مزاحمت کرنے والے وائرس کی قسم پیدا ہو سکتی ہے۔
یہ کوئی مکمل طور بری خبر بھی نہیں۔ اس وقت تیزی سے ویکسین تیار کی جا رہی ہے مگر اس ٹاسک کا حجم بہت بڑا ہے جہاں 7.7 ارب لوگوں کو یہ ویکسین دینی ہے۔ اس سے قبل ایسی کوئی کوشش کبھی نہیں ہوئی۔
اگاتھے دمارائس کا کہنا ہے کہ حکومتیں اپنی عوام سے دیانتدار رہیں کہ کیا کچھ ممکن ہے۔ اگرچہ یہ کسی حکومت کے لیے کہنا بہت مشکل ہے کہ نہیں ہم کئی برسوں تک ویکسین لگانے کا ہدف حاصل نہیں کر سکیں گے۔ کوئی بھی یہ نہیں کہنا چاہتا۔
ڈیٹا جرنلزم: بیکے ڈیل اور ناسوس سٹیلیانو










