چینگہ فائیو: چین کے چاند مشن کو کامیاب بنانے والی 24 سالہ سائنسدان جنھیں ’بڑی بہن‘ کے نام سے جانا جاتا ہے

،تصویر کا ذریعہCCTV
چاند کی سطح کا جائزہ لینے والے چین کے سپیس پروگرام ’چینگہ فائیو‘ میں کام کرنے کی وجہ سے 24 سالہ خاتون خلائی کمانڈر جو چنگیو سوشل میڈیا پر بہت زیادہ وائرل ہوئی ہیں۔
وینچینگ سپیس کرافٹ لانچ سائٹ پر سب سے کم عمر کمانڈر ہونے کے باوجود جو چنگیو کو ان کے کام کی جگہ عزت و احترام کے سبب ’بڑی بہن‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔
گذشتہ سات برسوں میں چاند پر روانہ کیا جانے والا چینگہ فائیو چین کا تیسرا کامیاب مشن ہے۔
چینگہ فائیو مشن کا مقصد چاند کی سطح پر موجود چٹانوں اور مٹی کو اکٹھا کرنا ہے تاکہ سائنسدانوں کو چاند کی تشکیل کے بارے میں مزید جاننے میں مدد مل سکے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جو چنگیو اہم راکٹ کنیکٹر سسٹم کی انچارج تھیں جس کا خلائی مشن میں کردار انتہائی کلیدی تصور کیا جاتا ہے۔
23 نومبر کو جب سے چین کے سرکاری میڈیا نے چینگہ فائیو کی قمری تحقیقات کی کامیاب لانچ میں شامل نوجوان خاتون کا ذکر کیا ہے، اس دن سے وہ چینی سوشل میڈیا ’سائٹ وے با‘ پر ٹرینڈ کر رہی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہcctv
خاص طور پر ان کی کہانی جواں عمری کی وجہ سے عوام میں معروف ہو رہی ہے۔ سوشل میڈیا صارفین ان کی ’قابلیت‘ کا جشن منا رہے ہیں اور انھیں ملک کے لیے ’باعث افتخار‘ قرار دے رہے ہیں۔
بہت سے افراد نے ان کی تعریف کے ساتھ مذاقاً اپنی اپنی کامیابیوں کا بھی ذکر کیا اور اس احساس کا بھی اظہار کیا کہ وہ ان کے مقابلے میں زندگی میں کتنے پیچھے رہ گئے ہیں۔
بہرحال گویجو صوبے کی رہنے والی جو پر ان ساری تعریفوں سے کوئی خاص اثر نہیں پڑا ہے۔ نیوز سائٹ ’ڈوکائی گویجو نیٹ‘ کے مطابق جو نے انٹرویو کے لیے کی جانے والی مسلسل درخواستوں کو مسترد کر دیا کیونکہ وہ شہرت کو اپنے کام میں رخنہ ڈالنے کی وجہ نہیں بننا دینا چاہتی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہCNSA/CLEP
واضح رہے کہ اس مشن کا نام چاند کی دیوی ’چینگہ‘ کے نام پر رکھا گیا ہے۔
اگر یہ کامیاب رہا تو 40 سال سے زیادہ عرصے میں یہ پہلا موقع ہو گا جب چاند کے نمونے دوبارہ زمین پر لائے جائیں گے اور امریکہ اور سویت یونین کے بعد چین ایسا کرنے والا تیسرا ملک بن جائے گا۔
یہ مشن بیجنگ کے خلائی سپر پاور بننے کی کوششوں کا حصہ ہے جبکہ چینی سرکاری میڈیا نے اس ’خلائی خواب‘ کو صدر شی جن پنگ کے الفاظ میں ’قومی قوت کی بحالی‘ کی راہ میں ایک قدم قرار دیا ہے۔
چین نے خلائی دریافتوں کا استعمال اپنی بڑھتی ہوئی تکنیکی صلاحیت کے مظاہرے کے ساتھ عالمی سطح پر اپنے آپ کو ایک قابل قدر قوت کے طور پر منوانے کے لیے بھی کیا ہے۔
ملک کے اعلیٰ سائنسدانوں میں سے ایک پروفیسر اویانگ ژیان نے بہت پہلے سنہ 2006 میں چین کے سرکاری اخبار پیپلز ڈیلی کو بتایا تھا کہ ’چاند کا جائزہ کسی ملک کی جامع قومی طاقت کی عکاسی کرتا ہے۔‘
گذشتہ سال چین پہلا ملک بنا جس نے چاند کے دوسرے حصے پر ایک روبوٹک خلائی جہاز کامیابی کے ساتھ اتارا۔ اگلی چند دہائیوں میں اس کا چاند پر ایک ریسرچ سٹیشن بنانے اور لوگوں کو مریخ پر بھیجنے کا منصوبہ ہے۔

،تصویر کا ذریعہcctv
میڈیا تجزیہ کار کیری ایلن کا تجزیہ
اکثر چینی چاند کی دیومالائی دیوی ’چینگہ‘ کی کہانی سے واقف ہیں۔ یہ ایک ایسی کہانی ہے جو رومیو اور جولیٹ سے بہت مختلف نہیں ہے جس میں ایک عورت بھول کر سارا آبِ حیات پی لیتی ہے اور اپنے شوہر کے لیے کچھ نہیں چھوڑتی، اور پھر بے وزن ہو کر اڑتی ہوئی چاند پر پہنچ جاتی ہے تاکہ وہ اس کی موت تک اس کے قریب رہ سکے۔
یہ کہانی ہر سال چین کے وسط خزاں مںی آنے والے چاند فیسٹیول کے دوران بتائی جاتی ہے اور اس طرح لوگ چاند کی دیوی کے رومانوی تصور کے بغیر ’چینگہ‘ کا ذکر نہیں سنتے۔
اس وجہ سے چاند پر چین کے مشن کے لیے مضبوط خواتین شخصیت کی ضرورت تھی۔ اور اسی لیے 24 سالہ جو چینگیو کی تصاویر ریاستی میڈیا میں چھائی رہیں جس میں ان کے لیے ’ایرو سپیس کے میدان میں فرنٹ لائن سپاہی‘ اور ’بڑی بہن‘ جیسے الفاظ استعمال کیے گئے تاکہ نوجوان چینی نسل ان کی طرف مثال کے لیے دیکھ سکے۔
چین ملک میں مضبوط خواتین شخصیات کو زیادہ سے زیادہ اجاگر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ملک کی اعلیٰ قیادت انتہائی مردانہ اکثریت کی حامل ہے لیکن نومبر میں قومی اخبار گلوبل ٹائمز نے انٹرنیٹ پر سرگرم لوگوں سے کہا کہ وہ طبی سائنس دان چن وی، وزارت خارجہ کی ترجمان ہوا چون ینگ اور یو ایف سی فائٹر جانگ ویلی جیسی خواتین کے کارناموں پر تبصرہ کریں۔
لیکن چین میں بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ ملک میں اب بھی بہت ساری صنعتوں اور شعبوں میں خواتین کے کردار کو کم پیش کیا جاتا ہے۔
ستمبر میں یہ اس وقت گفتگو کا بڑا موضوع بنا جب چین کی کووڈ 19 کے خلاف لڑائی میں خواتین کے کردار کو اجاگر کرنے والے ایک ٹی وی ڈرامے کو بڑے پیمانے پر جنسی عصبیت کے طور پر دیکھا گیا۔










