چیان زیوسن: امریکہ سے بے دخل کیا جانے والا سائنسدان، جس نے چین کو خلا میں پہنچا دیا

چیان زیوسن

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنچیان زیوسن چین کے میزائل اور خلائی پروگرام کے بانی ہیں اور انھیں قومی ہیرو سمجھا جاتا ہے

یہ قصہ اس چینی سائنسدان کا ہے جنھوں نے نہ صرف ایک بلکہ دو سپر پاورز کو چاند تک پہنچانے میں مدد کی لیکن آج انھیں صرف ایک ہی ملک میں یاد کیا جاتا ہے۔ چیان زیوسن کی زندگی کے بارے میں جاننے کے لیے مزید پڑھیے کویتا پوری کی یہ تحریر۔

چین کے شہر شنگھائی میں 70 ہزار یادگاری اشیا پر مبنی ایک میوزیم قائم ہے جو کہ صرف ایک ہی شخص کی یاد میں تعمیر کیا گیا ہے اور وہ شخص ہیں چیان زیوسن جنھیں ’لوگوں کا سائنسدان‘ بھی کہا جاتا ہے۔

چیان زیوسن چین کے میزائل اور خلائی پروگرام کے بانی ہیں اور انھیں قومی ہیرو سمجھا جاتا ہے۔ ان کی تحقیق کی مدد سے ہی چین نے ایسے راکٹ تیار کیے جن کی مدد سے چین کی سیٹلائٹ خلا میں جا سکی اور انھی کے بنائے ہوئے میزائل چین کے جوہری اسلحے میں شامل ہوئے۔

لیکن ایک اور سپر پاور ہے جہاں سے انھوں نے تعلیم حاصل کی اور جہاں انھوں نے ایک دہائی سے زیادہ عرصہ ملازمت کی مگر اُس ملک میں انھیں برائے نام ہی کوئی جانتا ہوگا یا یاد کرتا ہے۔

چیان زیوسن کی پیدائش سنہ 1911 میں اس وقت ہوئی جب چین میں بادشاہت کا دور ختم ہونے والا تھا اور سلطنت، مملکت میں بدلنے والی تھی۔

ان کے والدین اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے اور ان کے والد نے، جنھوں نے پہلے جاپان میں نوکری کی تھی، بعد میں چین واپس آ کر وہاں نظامِ تعلیم کی بنیاد ڈالنے میں کردار ادا کیا۔

یہ بھی پڑھیے

یہ تو بچپن سے ہی واضح تھا کہ چیان زیوسن ایک نہایت ذہین طالبعلم تھے اور اس کے بعد انھوں نے شنگھائی کی جیاؤ ٹونگ یونیورسٹی میں اول پوزیشن حاصل کی اور سکالر شپ کی مدد سے امریکہ کی میساچیوٹس انسٹٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) میں داخلہ حاصل کر لیا۔

یونیورسٹی آف نارتھ جیارجیا میں تاریخ کے پروفیسر کرس جسپرسن کہتے ہیں کہ جب سنہ 1935 میں چیان زیوسن امریکہ پہنچے تو انھیں شاید نسلی تعصب اور نفرت کا سامنا کرنا پڑا ہو لیکن بہت جلد ہی انھیں اس بات کی امید اور یقین ہو گیا تھا کہ چین اب بدلنے والا ہے اور وہاں کئی ایسے لوگ تھے جو چیان زیوسن سے متاثر ہو گئے تھے۔

ایم آئی ٹی سے منتقل ہو کر چیان زیوسن کیلیفورنیا انسٹٹیوٹ آف ٹیکنالوجی چلے گئے جہاں انھوں نے ایرو ناٹیکل انجنئیرنگ کے شعبے میں ہنگری سے تعلق رکھنے والے اُس وقت کے شہرہ آفاق پروفیسر تھیوڈور فون کارمان کی زیر نگرانی اپنی پڑھائی شروع کی۔

وہاں چیان نے ایک اور ممتاز سائنسدان فرینک مالینا کے ساتھ ایک دفتر شیئر کیا جو ایجادات کرنے والے ایک چھوٹے سے گروپ کے اہم رکن تھے۔ یہ گروپ ’سُوسائڈ سکواڈ‘ کے نام سے مشہور تھا۔

’سکیپ فرام ارتھ: اے سیکرٹ ہسٹری آف دی سپیس راکٹ‘ نامی کتاب کے مصنف فریزر میکڈونلڈ بتاتے ہیں کہ اس گروپ کا یہ نام اس لیے پڑا تھا کہ انھوں نے کیمپس میں راکٹ بنانے کی کوشش کی تھی اور کیمیائی مادوں کے ساتھ ان کے کچھ تجربات بری طرح ناکام ہوئے تھے لیکن ان کے تجربات میں کسی کی موت نہیں ہوئی تھی۔

ایک دن چیان، ملینا اور اس گروپ کے دیگر ممبران کے ساتھ ریاضی کے ایک پیچیدہ مسئلے پر بحث میں الجھ گئے جس کے بعد وہ جلد ہی اس گروپ کا ایک لازمی حصہ بن گئے اور انھوں نے راکٹوں پر بنیادی تحقیق کی۔

جیٹ

،تصویر کا ذریعہAlamy

،تصویر کا کیپشندوسری جنگ عظیم میں ایک طیارہ جیٹ پروپیلر کی مدد سے پرواز کرایا گیا

میکڈونلڈ کا کہنا ہے کہ اس وقت راکٹ سائنس ’خبطی اور خیالی پلاؤ پکانے والوں کا سامان تھا۔۔۔ کوئی بھی اسے سنجیدگی سے نہیں لیتا تھا، کوئی بھی ریاضی میں مہارت رکھنے والا انجینیئر یہ کہہ کر اپنی ساکھ کو خطرے میں نہیں ڈال سکتا تھا کہ یہ ممکن ہے اور یہی مستقبل ہے‘ لیکن دوسری جنگ عظیم کے آغاز کے ساتھ ہی چیزیں تیزی سے بدلنے لگیں۔

خودکش دستوں نے امریکی فوج کی توجہ مبذول کرلی اور اس نے جیٹ کی مدد سے ٹیک آف کرنے کی تحقیق کے لیے فنڈ دیا تاکہ ایسی ٹیکنالوجی تیار کی جا سکے جس میں بوسٹرز کو طیاروں کے پروں سے جوڑا جائے تاکہ وہ مختصر رن وے سے پرواز کر سکیں۔ فوجی فنڈنگ نے سنہ 1943 میں تھیوڈور فون کارمان کی ڈائریکٹر شپ میں جیٹ پروپلزن لیب (جے پی ایل) کے قیام میں بھی مدد کی۔ فرینک مالینا کے ساتھ چیان اس منصوبے کے اہم رکن تھے۔

فریزر میکڈونلڈ کا کہنا ہے کہ چیان چینی شہری تھے لیکن اس وقت چین امریکہ کا اتحادی تھا لہذا ’امریکی خلائی منصوبے کے مرکز میں کسی چینی سائنسدان کا ہونا شبے کی کوئی بات نہیں تھی۔‘ چیان کو خفیہ ہتھیاروں کی تحقیق پر کام کرنے کے لیے سکیورٹی کلیئرنس دی گئی، یہاں تک کہ انھوں نے امریکی حکومت کے سائنس ایڈوائزری بورڈ میں خدمات انجام دیں۔

جنگ کے اختتام تک وہ جیٹ پروپلزن کے متعلق دنیا کے پہلے ماہر تھے اور انھیں تھیوڈور وان کارمن کے ساتھ لیفٹیننٹ کرنل کے عارضی عہدے پر فائز کر کے جرمنی بھیجا گیا۔ ان کا مقصد جرمنی کے ممتاز راکٹ سائنسدان ورنہر فون براؤن سمیت نازی انجینئروں کے انٹرویوز کرنا تھا۔ امریکہ یہ جاننا چاہتا تھا کہ جرمنی کے سائنسدان آخر کیا جانتے ہیں۔

لیکن اس دہائی کے اختتام پر امریکہ میں چیان کا شاندار کیریئر اچانک رُک گیا اور وہاں سے ان کی زندگی بدلنا شروع ہو گئی۔

کرس جیسپرسن کا کہنا ہے کہ چین میں چیئرمین ماؤ نے سنہ 1949 میں کمیونسٹ عوامی جمہوریہ کی تشکیل کا اعلان کیا اور جلد ہی امریکہ میں چینی شہریوں کو ’شر پسندوں‘ کے طور پر دیکھا جانے لگا۔ انھوں نے کہا کہ ’اس طرح ہم امریکہ میں مختلف ادوار سے گزرتے ہیں جہاں ہمیں پہلے تو چین سے متاثر کیا جاتا ہے اور پھر کچھ ایسا ہوتا ہے کہ ہم چین کو شیطان بنا دیتے ہیں۔‘

اسی دوران جے پی ایل میں ایک نئے ڈائریکٹر کو شبہ ہونے لگا کہ لیب میں جاسوسوں کا ایک گروہ ہے اور انھوں نے عملے کے کچھ ممبران کے بارے میں اپنے شبہات امریکی تفتیشی ادارے ایف بی آئی کے ساتھ شیئر کیے۔

فریزر میکڈونلڈ نے کہا: ’میں نے نوٹ کیا کہ وہ سب یا تو چینی تھے یا پھر یہودی تھے۔‘

سرد جنگ جاری تھی کمیونسٹ مخالف لوگوں کے شکار والا میکارتھی عہد بس آنے ہی والا تھا۔ اسی ماحول میں ایف بی آئی نے چیان، فرینک میلینا اور دیگر پر کمیونسٹ ہونے اور قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہونے کا الزام عائد کیا۔

فرینک میلینا

،تصویر کا ذریعہAlamy

،تصویر کا کیپشنفرینک میلینا کو یہاں ایک میزائل کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ تصویر سنہ 1946 کی ہے

ایف بی آئی نے چیان کے خلاف الزامات امریکی کمیونسٹ پارٹی کے سنہ 1938 کے دستاویز کی بنیاد پر لگائے تھے جس میں یہ دکھایا گیا تھا کہ انھوں نے ایک معاشرتی اجتماع میں شرکت کی تھی جس کے بارے میں ایف بی آئی کو شبہ تھا کہ وہ پیساڈینا کمیونسٹ پارٹی کا اجلاس تھا۔ اگرچہ چیان نے پارٹی کا رکن ہونے سے انکار کیا لیکن نئی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ انھوں نے اسی وقت اس میں شمولیت اختیار کی تھی جب فرینک میلینا سنہ 1938 میں اس میں شریک ہوئے تھے۔

لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ وہ اس سے مارکسی نظریات والے بن گئے تھے۔ فریزر میکڈونلڈ کا کہنا ہے کہ اس وقت کمیونسٹ ہونا نسل پرستی کے خلاف ہونے کا اعلان تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ گروپ فاشزم کے خطرے کے ساتھ امریکہ میں نسل پرستی کی ہولناکیوں کو بھی اجاگر کرنا چاہتا تھا۔ مثال کے طور پر وہ مقامی پیساڈینا سوئمنگ پول کو علیحدہ کیے جانے کے خلاف مہم چلا رہے تھے اور اپنی کمیونسٹ میٹنگز کا استعمال اس پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے کر رہے تھے۔

پومونا کی کیلیفورنیا سٹیٹ پولی ٹیکنک یونیورسٹی میں تاریخ کے پروفیسر زویو وانگ کا کہنا ہے کہ اس بات کے شواہد نہیں ہیں کہ چیان نے کبھی چین کے لیے جاسوسی کی یا پھر جب وہ امریکہ میں تھے تو انٹلیجنس ایجنٹ تھے۔

تاہم ان سے سکیورٹی کلیئرنس چھین لی گئی اور انھیں نظربند کر دیا گیا۔ تھیوڈور فون کارمان سمیت کالٹیک کے ساتھیوں نے حکومت کو چیان کی بے گناہی کے متعلق لکھا لیکن سب بے سود ثابت ہوا۔

جب چیان کی نظر بندی کے پانچ سال ہو گئے تو سنہ 1955 میں صدر آئزن ہاور نے انھیں جلاوطن کر کے چین بھیجنے کا فیصلہ کیا۔ سائنسدان چیان اپنی اہلیہ اور امریکہ میں پیدا ہونے والے دو بچوں کے ساتھ کشتی کے ذریعے روانہ ہوئے۔ انھوں نے منتظر اخباری نامہ نگاروں کو بتایا کہ وہ پھر کبھی امریکہ کی سرزمین پر قدم نہیں رکھیں گے اور انھوں نے اپنا وعدہ نبھایا۔

صحافی اور مصنف تیانیو فینگ کہتے ہیں ’وہ امریکہ کے ممتاز ترین سائنسدانوں میں سے ایک تھے۔ انھوں نے امریکہ کو بہت کچھ دیا تھا اور مزید بہت کچھ دے سکتے تھے۔ اس لیے یہ صرف ان کے لیے بے عزتی ہی نہیں بلکہ ان میں دغا کھانے کا احساس بھی تھا۔‘

چین میں چیان ہیرو کی طرح پہنچے لیکن فوری طور پر انھیں چینی کمیونسٹ پارٹی میں شامل نہیں کیا گیا۔ ان کا ریکارڈ بہت پاک صاف نہیں تھا۔ ان کی اہلیہ ایک قوم پرست رہنما کی بیٹی تھیں جو کہ شاہی گھرانے سے تعلق رکھتی تھیں اور امریکہ کی نظروں میں گرنے سے قبل تک چیان امریکہ میں خوشی خوشی زندگی گزار رہے تھے، یہاں تک کہ وہ شہریت کے لیے درخواست بھی دے سکتے تھے۔

جب سنہ 1958 میں وہ آخر کار پارٹی کے ممبر بنے تو انھوں نے اسے قبول کیا اور ہمیشہ حکومت کے طرف رہنے کی کوشش کی۔ وہ ثقافتی انقلاب کے مظالم سے بچ گئے اور اس طرح ایک غیر معمولی کیریئر بنانے میں کامیاب رہے۔

جب وہ چین پہنچے تھے تو راکٹ سائنس کے بارے میں وہاں بہت کم سمجھ تھی لیکن 15 سال بعد انھوں نے خلا میں پہلی چینی سیٹلائٹ کو لانچ کرنے کی نگرانی کی۔ کئی دہائیوں کے دوران انھوں نے سائنسدانوں کی ایک نئی نسل کو تربیت دی اور ان کے کام سے چین کے اپنے ہی لوگوں کو چاند پر بھیجنے کی بنیاد پڑی۔

چیان زیوسن

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنچیان زیوسن سنہ 1950 میں ایک سماعت کے دوران اپنے وکیل گرانٹ کوپر کے ساتھ

ستم ظریفی یہ کہ چیان نے جس میزائل پروگرام کی تیاری میں چین کی مدد کی اس کے نتیجے میں اسلحہ برآمد ہوا جو بعد میں امریکہ کے خلاف استعمال کیا گیا۔

فریزر میکڈونلڈ کا کہنا ہے کہ سنہ 1991 کی خلیجی جنگ میں امریکیوں پر چیان کے بنائے ہوئے ’سِلک وارم‘ میزائل داغے گئے تھے اور سنہ 2016 میں یمن میں حوثی باغیوں کے ذریعے یو ایس ایس مشن کے خلاف ان کا استعمال ہوا۔

’تو یہ ایسے عجیب انداز میں گھوم کر آیا۔ امریکہ نے جس مہارت کو ملک سے نکالا تھا، وہی گھوم کر انھیں کاٹنے کے لیے واپس آئی۔‘ ان کا خیال ہے کہ اپنے گھریلو کمیونزم کے خلاف سخت اقدام کے نتیجے میں امریکہ نے ایک ’ایسے ذریعے کو نکال دیا جس نے ان کے اہم مخالف کمیونسٹ ملک کو ان کا میزائل اور خلائی پروگرام دیا جو کہ ایک غیر معمولی جغرافیائی سیاسی غلطی تھی۔‘

امریکی بحریہ کے سابق سکریٹری ڈین کم بال جو بعد میں راکٹ پروپلزن کمپنی ایئروجیٹ کے سربراہ بنے، انھوں نے ایک بار کہا تھا کہ ’اس ملک نے اب تک کا سب سے احمقانہ کام کیا ہے۔‘

آج ایک بار پھر چین اور امریکہ کے مابین کشیدگی میں اضافہ ہے۔ اس بار یہ نظریاتی نہیں بلکہ تجارتی ہے، ٹیکنالوجی کی سکیورٹی سے متعلق خدشات ہیں اور بقول صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین نے کووڈ 19 پر قابو پانے کے لیے مزید کام نہیں کیا۔

اگرچہ بیشتر امریکیوں کو چیان اور امریکہ کے خلائی پروگرام میں ان کے کردار کے بارے میں کوئی علم نہیں لیکن تیانیو فینگ کا کہنا ہے کہ امریکہ میں بہت سے چینی نژاد امریکی اور چینی طلبہ ان کے بارے میں جانتے ہیں کہ وہ کون تھے اور انھیں امریکہ کیوں چھوڑنا پڑا اور وہ اس میں موجودہ دور کے ساتھ مماثلت دیکھتے ہیں۔

ان طلبہ کا کہنا ہے کہ ’امریکہ اور چین کے تعلقات اتنے خراب ہو چکے ہیں کہ وہ جانتے ہیں کہ وہ بھی اسی طرح کے شکوک و شبہات میں گھر سکتے ہیں جیسا کہ چیان کی نسل کے ساتھ ہوا۔‘

فریزر میکڈونلڈ کے خیال میں چیان کی کہانی ایک انتباہ ہے کہ جب آپ علم کو نکال دیتے ہیں تو کیا ہوتا ہے۔ ’امریکی سائنس کی پوری کہانی یہ ہے کہ اسے باہر سے آنے والے لوگوں نے آگے بڑھایا ہے۔۔۔ لیکن قدامت پسندی کے اس دور میں یہ ایک ایسی کہانی ہے جس پر جشن منانا مشکل ہے۔‘

میکڈونلڈ کا خیال ہے کہ امریکی خلائی پروگرام میں جرمن سائنسدانوں کی نسبت جیٹ پروپلزن لیب (جے پی ایل) کی کوششوں کو بہت زیادہ نظرانداز کیا گیا۔ خیال رہے کہ ان جرمن سائنسدانوں کو فون کارمان اور چیان کے دورے کے فوراً بعد ہی خفیہ طور پر امریکہ لایا گیا تھا۔

میزائل

،تصویر کا ذریعہAlamy

،تصویر کا کیپشنشنگھائی کے میوزیم میں ایک میزائل کی نمائش

میکڈونلڈ کا کہنا ہے کہ براؤن ایک نازی رہے تھے لیکن اس کے باوجود ان کی کامیابیوں کو اس طرح سراہا گیا جس طرح کبھی جے پی ایل میں چیان اور دیگر کی کامیابیوں کو نہیں سراہا گیا۔ انھوں نے کہا ’یہ خیال کہ امریکہ کا پہلا قابل عمل خلائی پروگرام آبائی ماہر سوشلسٹوں نے شروع کیا تھا، خواہ وہ یہودی رہے ہوں یا چینی لیکن حقیقت میں یہ وہ کہانی نہیں جو امریکہ خود کے بارے میں سننا چاہتا ہے۔‘

چیان کی زندگی تقریباً ایک صدی پر محیط رہی۔ اس دوران چین معاشی طور پر کمزور ملک سے زمین اور خلا میں ایک سپر پاور بن گیا۔ چیان اس تبدیلی کا حصہ تھے لیکن ان کی کہانی ایک عظیم امریکی شہری کی بھی کہانی ہو سکتی تھی جہاں کہیں کی بھی صلاحیت پھلتی پھولتی ہے۔

گذشتہ سال جب چین نے تاریخ رقم کی اور اس کا ایک مشن چاند کے دوسرے کنارے پر اترا تو فون کارمان دہانے پر اترا تھا جس کا نام اس ایروناٹیکل انجینیئر کے نام پر رکھا گیا تھا جنھوں نے چیان کو تیار کیا تھا۔ شاید یہ اس حقیقت کے اعتراف میں کیا گیا تھا کہ امریکہ کی جانب سے اشتراکیت کی مخالفت نے چین کو خلا میں جانے میں مدد کی۔