متحدہ عرب امارات کا ’ہوپ مشن‘ سیارہ مریخ کے لیے روانہ

،تصویر کا ذریعہUAE Space Agency
- مصنف, جوناتھن ایموس
- عہدہ, بی بی سی سائنس رپورٹر
متحدہ عرب امارات کا مریخ پر جانے والا خلائی مشن ’ہوپ‘ آج جاپان کے تانیگاشیما خلائی اڈے سے روانہ کر دیا گیا ہے اور یہ سات ماہ کے سفر کے بعد مریخ کے مدار میں پہنچے گا۔
اس سے قبل اس کی 15 جولائی کے لیے طے شدہ لانچ کو خراب موسم کے باعث ملتوی کر دیا گیا تھا۔
پچاس کروڑ کلومیٹر طویل سفر کے بعد یہ روبوٹک خلائی جہاز فروری 2021 میں مریخ تک پہنچے گا۔
مریخ پر اس کی آمد متحدہ عرب امارات کے قیام کی پچاسویں سالگرہ کے موقع پر ہوگی۔
ہوپ مریخ پر رواں ماہ بھیجے جا رہے تین خلائی مشنز میں سے ایک ہے۔ امریکہ اور چین دونوں کی ہی خلائی گاڑیاں اپنی تیاری کے آخری مراحل میں ہیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
متحدہ عرب امارت کا مارس ہوپ مشن کیا ہے؟
متحدہ عرب امارات اپنی تاریخ میں پہلی مرتبہ سیارہ مِرّیخ کا موسم اور اس کی آب و ہوا کے تجزیے کے لیے ایک مصنوعی سیارچہ بھیجنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔
ایک اعشاریہ تین ٹن وزنی اس سیٹلائٹ کا نام ہوپ یعنی اُمید ہے اور اسے جاپان کے ایک دور دراز خلائی اڈے تانیگاشیما سے ایک ایچ ٹو اے راکٹ کے ذریعے لانچ کیا گیا ہے۔
ہوپ کی سائنسی ٹیم کی سربراہ سارہ العامری ہیں جو متحدہ عرب امارات کی وزیرِ سائنسی ترقی بھی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ بھی پڑھیے
وہ کئی لحاظ سے اس مشن کا چہرہ ہیں اور وہ اوائل میں محمد بن راشد سپیس سینٹر سے بطور سافٹ ویئر انجینیئر وابستہ ہوئی تھیں۔ اب وہ خلا کے لیے اپنے اس جذبے کو آگے پھیلانا چاہتی ہیں۔

متحدہ عرب امارات مریخ پر کیوں جا رہا ہے؟
متحدہ عرب امارات کے پاس خلائی جہاز ڈیزائن اور تیار کرنے کا محدود تجربہ ہے اور اس کے باوجود یہ ایسی چیز کی کوشش کر رہا ہے جو اب تک صرف امریکہ، روس، یورپ اور انڈیا ہی کامیابی سے کر پائے ہیں۔
مگر اس سے اماراتیوں کے عزم میں اضافہ ہوا ہے کہ انھیں بھی اس چیلنج پر کام کرنا چاہیے۔
امریکی ماہرین کی زیرِ تربیت ان کے انجینیئروں نے صرف چھ سال کے عرصے میں ایک جدید سیٹلائٹ بنا لی ہے اور جب یہ سیٹلائٹ مریخ تک پہنچے گی تو امید کی جا رہی ہے کہ اس سے نئے سائنسی حقائق سامنے آئیں گے اور اس سیارے کی فضا کے بارے میں تازہ معلومات حاصل ہو سکیں گی۔

،تصویر کا ذریعہMBRSC
بالخصوص سائنسدانوں کا خیال ہے کہ اس سے ہماری فہم میں اضافہ ہوگا کہ مریخ نے کس طرح اپنی فضا کا بڑا حصہ گنوا دیا جس کے ساتھ ہی اس پر موجود پانی کی کثیر مقدار بھی ختم ہوگئی۔
ہوپ کو ایک ایسا متاثر کُن مشن قرار دیا جا رہا ہے جس سے امارات اور عرب خطے میں زیادہ نوجوان لوگ سکولوں اور یونیورسٹیوں میں سائنس کی تعلیم حاصل کرنے کی حوصلہ افزائی ہو سکے گی۔
یہ بات اہم ہے کہ ہوپ پر کام کرنے والے اماراتیوں میں سے 34 فیصد خواتین ہیں۔ سارہ کہتی ہیں کہ 'مگر یہ بات زیادہ اہم ہے کہ ہمارے پاس اس مشن کی قیادت کرنے والی ٹیم میں بھی صنفی مساوات ہے۔'
متحدہ عرب امارات کی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ سیٹلائٹ اُن کئی منصوبوں میں سے ایک ہے جن کا مقصد ملکی معیشت کا انحصار تیل اور گیس سے ختم کر کے اسے سائنس و ٹیکنالوجی پر مبنی ایک معیشت بنانا ہے۔
مگر مریخ کے معاملے میں ہمیشہ کی طرح اس مرتبہ بھی خطرات بہت ہے۔ سرخ سیارے تک بھیجے گئے تقریباً نصف مشن ناکام ہوئے ہیں۔ ہوپ کے پراجیکٹ ڈائریکٹر عُمران شریف ان خطرات سے آگاہ ہیں مگر ان کا اصرار ہے کہ ان کا ملک کوشش کرنے میں حق بجانب ہے۔

،تصویر کا ذریعہMBRSC
بی بی سی نیوز سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ 'یہ ایک تحقیقی مشن ہے اور ناکامی کا امکان بالکل موجود ہے۔'
'تاہم بحیثیتِ قوم ترقی کرنے میں ناکامی کا آپشن موجود نہیں ہے۔ اور یہاں پر سب سے زیادہ معنی جو چیز رکھتی ہے، وہ اس مشن سے متحدہ عرب امارات کو حاصل ہونے والی صلاحیت اور علم ہے۔'
متحدہ عرب امارات کی حکومت نے پراجیکٹ کی ٹیم کو بتایا کہ وہ کسی بڑی غیر ملکی کمپنی سے خلائی جہاز نہیں خرید سکتے اس لیے انھیں یہ سیٹلائٹ خود بنانی ہوگی۔
اس کا مطلب اُن امریکی یونیورسٹیوں کے ساتھ شراکت داری کرنا تھا جن کے پاس اس حوالے سے تجربہ موجود تھا۔ اماراتی اور امریکی انجینیئروں اور سائنسدانوں نے مل خلائی جہاز کے سسٹم اور وہ تین آلے تیار کیے جو مریخ کی فضا کا جائزہ لیں گے۔
زیادہ تر تیاری یونیورسٹی آف کولوراڈو کی ایک لیب میں ہوئی مگر خاصا کام دبئی میں محمد بن راشد سپس سنیٹر میں بھی ہوا۔

،تصویر کا ذریعہESA/DLR/FU BERLIN
یہ سیارچہ مریخ پر کیا کرے گا؟
اماراتی صرف وہ سائنس نہیں کرنا چاہتے تھے جو دوسرے ادارے پہلے ہی کر چکے ہیں۔ اس لیے وہ ناسا کے پاس گئے اور ان سے پوچھا کہ متحدہ عرب امارات ایسی کیا سائنس کر سکتا ہے جو موجودہ علم میں اضافہ کرے گی۔
ناسا کے مارس ایکسپلوریشن پروگرام اینالیسس گروپ کی سفارشات کی روشنی میں اس پراجیکٹ کے مقاصد طے کیے گئے۔
یہ سیٹلائٹ یہ جانچے گی کہ مریخ کی فضا میں توانائی کیسے منتقل ہوتی ہے، اور یہ پیمائش دن کے تمام اوقات اور سال کے تمام موسموں میں کی جائے گی۔
اس کے علاوہ یہ مریخ پر موجود اس مٹی کا بھی جائزہ لے گی جو اس سیارے کے درجہ حرارت پر اثرانداز ہوتی ہے۔
اس کے علاوہ یہ فضا کے بالکل اوپر موجود ہائیڈروجن اور آکسیجن کے ایٹموں کا بھی جائزہ لے گی۔ سائنسدانوں کو شبہ ہے کہ یہ ایٹم مریخ کی فضا کے بتدریج خاتمے میں کردار ادا کرتے ہیں۔
اس سب سے یہ معلوم ہو پائے گا کہ مریخ پر اب پانی کیوں موجود نہیں جو کہ ماضی میں واضح طور پر موجود تھا۔
یہ مشاہدات کرنے کے لیے ہوپ مشن سیارے سے 22 ہزار سے 44 ہزار کلومیٹر کے فاصلے پر پرواز کرے گا۔










