کورونا وائرس: عالمی ادراۂ صحت کا کہنا ہے کہ ’کووڈ پر ریمڈیسیور کا بہت کم یا بالکل ہی اثر نہیں ہوتا‘

A doctor in Cairo working on the raw materials for remdesivir in June 2020

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنریمڈیسیور کووڈ۔19 کے خلاف استعمال کی جانے والی سب سے پہلی ادویات میں سے ایک ہے

عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی ایک تحقیق میں پتہ چلا ہے کہ اینٹی وائرل دوا ریمڈیسیور کا کووڈ۔19 کے مریضوں پر یا تو بالکل ہی اثر نہیں ہوتا یا پھر بہت تھوڑا ہوتا ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے ٹرائل میں کووڈ۔19 کے علاج کے لیے چار ممکنہ ادویات پر تحقیق کی گئی جن میں ریمڈیسیور اور ہائیڈروکسی کلوروکوئن بھی شامل تھیں۔

ریمڈیسیور کورونا وائرس کے خلاف استعمال کی جانے والی پہلی ادویات میں سے ایک تھی، اور حال ہی میں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہسپتال میں داخل تھے تو انھیں بھی یہ دوا دی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

اسے بنانے والی کمپنی گیلیئڈ نے ٹرائل کے نتائج کو رد کر دیا ہے۔

اپنے ایک بیان میں گیلیئڈ نے کہا کہ تحقیق کے نتائج دوسروں کے ساتھ ’مطابقت‘ نہیں رکھتے، اور اسے اس بات پر تشویش ہے کیونکہ نتائج کا ابھی دوبارہ جائزہ لیا جانا ہے۔

ڈبلیو ایچ کو تحقیق میں کیا ملا؟

اپنے سولیڈیریٹی کلینیکل ٹرائل کے لیے ڈبلیو ایچ او نے کووڈ۔19 کے علاج کے لیے چار ممکنہ ادویات، ریمڈیسیور، جو کہ ایبولا کے خلاف استعمال کی جانے والی دوا تھی، اور ملیریا کے علاج کے لیے استعمال کی جانے والی ادویات ہائیڈروکسی کلوروکوئن، انٹرفیرون اور ایچ آئی وی کی دواؤں کا مرکب لوپیناویر اور ریٹوناویر، پر تجربات کیے تھے۔

یہ ادویات 30 ممالک کے 500 ہسپتالوں میں 11,266 بالغ مریضوں پر استعمال کی گئی تھیں۔

ڈبلیو ایچ او نے جمعرات کو بتایا کہ یہ نتائج، جن کا ابھی بھی از سرِ نو جائزہ لیا جانا ہے، بتاتے ہیں کہ ان میں سے کسی بھی دوا کا کووڈ۔19 سے مرنے کی شرح پر، یا مریض کے ہسپتال میں داخل رہنے کے عرصے پر، کوئی خاطر خواہ اثر نہیں پڑا ہے۔

ڈبلیو ایچ او کی چیف سائنسدان سومیا سوامی ناتھن نے بدھ کو کہا تھا کہ ہائیڈروکسی کلوروکوئن اور لوپیناویر/ریٹوناویر پر تو ٹرائل جون میں ہی روک دیے گئے تھے، کیونکہ ان سے کچھ فائدہ نظر نہیں آ رہا تھا۔ تاہم باقی ٹرائل جاری رہے۔

ڈبلیو ایچ او کے نتائج سے بظاہر لگتا ہے کہ وہ گیلیئڈ کی اس ماہ کے اوائل میں ہونے والی تحقیق کی نفی کر رہے ہیں، جس میں کہا گیا تھا کہ پلیسبو کے مقابلے میں جن مریضوں کو ریمڈیسیور دی گئی ان کی بحالی پانچ دن جلدی ہو گئی۔ ان ٹرائلز میں تقریباً ایک ہزار افراد نے حصہ لیا تھا۔

اس کا ردِعمل کیا ہے؟

گیلیئڈ سائنسز انک نے، جو ریمڈیسیور بناتی ہے، ان نتائج کو رد کر دیا ہے۔

اس نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ہمیں تشویش ہے کہ اس اوپن لیبل ٹرائل سے لیے گئے ڈیٹا کا جائزہ سخت مراحل سے گزار کر نہیں لیا گیا جو کہ تعمیری سائنسی بحث کے لیے ضروری ہے، خاص کر ان ٹرائلز کے ڈیزائن کی بندشوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے۔

Gilead, the manufacturer of remdesivir

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنگیلیئڈ کا کہنا ہے کہ اس کو اس بات کی تشویش ہے کہ تحقیق کا ابھی تک ازسرِ نو جائزہ نہیں لیا گیا

لیکن پروفیسر مارٹن لینڈری نے، جو برطانیہ میں ریکوری ٹرائل کو چلا رہے ہیں، کہا ہے کہ مقدمے کے نتائج ’اہم لیکن ہوش مند تھے۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ ریمڈیسیور کی قیمت اور رسائی کے بارے میں پہلے ہی خدشات موجود تھے۔

انھوں نے کہا کہ ’کووڈ 19 دنیا بھر کے لاکھوں افراد اور ان کے کنبوں کو متاثر کر رہا ہے۔‘

’یہ کوئی غیر معمولی بیماری نہیں ہے۔ ہمیں ایسے علاج کی ضرورت ہے جس تک رسائی ہو، وہ سستا اور مساوی ہو۔ ڈبلیو ایچ او کے سولیڈیریٹی ٹرائل نے واضح، آزاد اور مضبوط نتائج پیش کر کے دنیا پر بہت بڑا احسان کیا ہے، اور ایک مرتبہ پھر بڑے بے ترتیب ٹرائلز کی اہمیت واضح کی ہے اور وہ علم مہیا کیا ہے جس کی ہمیں وبائی امراض کے بدترین نتائج سے نمٹنے کے لیے ضرورت ہے۔‘

ریمڈیسیور کو امریکہ کی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) نے یکم مئی کو ہنگامی بنیادوں پر استعمال کرنے کی اجازت دی تھی، اور اس کے بعد اسے کئی ممالک میں استعمال کی اجازت بھی دی گئی ہے۔

2px presentational grey line

جیمز گیلیگھر کا تجزیہ

جب سے وبائی مرض شروع ہوا ہے ریمڈیسیور کو ممکنہ تھراپی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے اور جب اس کو صدر ٹرمپ کو دی جانے والی ادویات میں شامل کیا گیا تو اسے اور بھی اہمیت مل گئی۔

لیکن ڈبلیو ایچ او کے ٹرائل میں، جسے آن لائن شائع کیا گیا، اس کو تقریباً رد کر دیا گیا ہے۔

اعداد و شمار میں تھوڑی سی غیر یقینی صورتحال موجود ہے لیکن تحقیق میں کہا گیا ہے کہ وہ اس خیال کو بالکل خارج کرتے ہیں کہ ریمڈیسیور بہت زیادہ تعداد جانیں بچا سکتی ہے۔ تحقیق میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ نتائج اس خیال سے ’آرام سے مطابقت رکھتے‘ ہیں کہ اس دوا میں زندگی بچانے والا کوئی اثر نہیں ہے۔

اب تک، ڈاکٹر موجودہ دوائیوں میں سے وہ دوائیاں ڈھونڈ رہے ہیں جو کورونا وائرس کے خلاف کام آ سکتی ہیں۔

ملیریا، ایچ آئی وی، ایم ایس اور اب ایبولا (ریمڈیسویر) کی دواؤں سے نتائج مایوس کن رہے ہیں۔ صرف ایک پرانا سٹیرائڈ ڈیکسامیٹھاسون ہی زندگی بچانے والا ثابت ہوا ہے۔

اب توجہ نئے تجرباتی علاج، جیسے وائرس سے لڑنے کے لیے لیب میں ڈیزائن کردہ اینٹی باڈیز اور نئی، غیر آزمائش شدہ، اینٹی وائرل ادویات کی طرف جا رہی ہے۔

ہم ابھی بھی ان ٹرائلز کے نتائج کا انتظار کر رہے ہیں، لیکن پریشانی یہ ہے کہ دوائیوں میں ’نئی‘ کا مطلب ’مہنگی‘ ہوتا ہے، اور اس سے یہ سوالات اٹھیں گے کہ یہ کن لوگوں کو ملیں گی۔

2px presentational grey line

کووڈ کے دوسرے علاج

ڈاکٹر سوامی ناتھن کہتی ہیں کہ سولیڈیریٹی ٹرائل کے نتائج کے بعد اب ڈبلیو ایچ او ’آگے کی طرف دیکھ رہا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ہم مونوکلونل اینٹی باڈیز کو دیکھ رہے ہیں، ہم امونوموڈیولیٹرز اور کچھ نئی اینٹی وائرل دوائیوں کی طرف دیکھ رہے ہیں جو پچھلے چند مہینوں میں تیار کی گئی ہیں۔‘

دریں اثنا چین میں محققین کا کہنا ہے کہ ایک ویکسین تیار کی جا رہی ہے جو اب تک محفوظ نظر آ رہی ہے اور جو ٹرائلز کے شروع اور درمیانی مرحلوں میں مدافعتی ردعمل کو متحرک کرتی پائی گئی ہے۔

تاہم محققین کا کہنا ہے کہ ایسا ابھی نہیں کہا جا سکتا کہ آیا ویکسین کے ذریعہ اینٹی باڈی کا ردعمل انفیکشن سے بچانے کے لیے کافی ہے، کیونکہ ٹرائل ابھی اس کی افادیت کا اندازہ لگانے کا اہل نہیں ہے۔

بیجنگ انسٹی ٹیوٹ آف بائیولوجیکل پروڈکٹس کی تیار کردہ اس ویکسین کو پہلے ہی ملک میں ہنگامی انوکولیشن (ٹیکہ لگانا) پروگرام کے لیے منظور کیا گیا ہے۔