ٹک ٹاک سے خودکشی کی ویڈیو ہٹانے کی کوششیں جاری

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ویڈیو شیئرنگ ایپلیکیشن ٹک ٹاک ایک ایسی کلپ ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے جس میں ایک شخص کو خودکشی کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔
یہ فوٹیج اس پلیٹ فارم پر کئی روز سے گردش کر رہی ہے جو فیس بک پر بنائی گئی ہے تاہم بعد میں اسے ٹوئٹر اور انسٹا گرام پر بھی شیئر کیا گیا۔
ٹک ٹاک نوجوانوں میں کافی مقبول ہے اور کئی لوگوں نے اس ویڈو کے سامنے آنے اور اس کی وجہ سے ذہنی اذیت میں مبتلا ہونے کی شکایت کی۔
یہ بھی پڑھیے
ٹک ٹاک کا کہنا ہے کہ وہ ایسے اکاؤنٹ پر پابندی عائد کر دے گا جو بار بار اس کلپ کو اپ لوڈ کر رہے ہیں۔
دوسروں کو تنبیہ
ٹک ٹاک کے نمائندہ کا کہنا تھا ’ہمارا نظام خود کار طریقے سے ایسے کلپس کی شناخت اور ان کے بارے میں خبردار کر رہا ہے جو ہماری پالیسیوں کے خلاف مواد دکھاتے ہیں یا خود کشی کی تعریف کرکے اسے بڑھا چڑھا کر اس کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا ہم اپنے ان صارفین کے معترف ہیں جنہوں نے ایسا مواد رپورٹ کیا اور اسی دیکھنے کے متعلق خبردار کیا اور لوگوں کو اس ویڈیو کو اس شخص اور اس کے خاندان کے احترام میں سوشل پلیٹ فارم پر شیئرنہ کرنے کو کہا۔ ‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
فیس بک نے بی بی سی کو بتایا ’ہم نے اس کی اصلی ویڈیو گذشتہ ماہ ہٹا دی تھی جس روز یہ نشر ہوئی۔ اور اس کی نقلیں ہٹانے کے لیے خود کار نظام کا استعمال کیا گیا۔‘
’ہماری ہمدردیاں اس مشکل گھڑی میں رونی کے خاندان اور دوستوں کے ساتھ ہیں۔‘
خود اذیتی کو سنسنی خیز بنانا
ٹک ٹاک کا ایلگروردھم اکثر صارفین کو ایسے مواد بھی دکھاتا ہے جسے وہ براہ راست فالو نہیں بھی کر رہے ہوتے۔
سنہ 2015 میں فیس بک کی لائیو سٹریمنگ کے لانچ کے بعد سے کئی لوگوں نے اپنی خود کشی کو لائیو دکھایا۔
فیس بک پر ایسی انٹسا گرام پوسٹس شیئر کرنے کا الزام عائد کیا جاتا رہا ہے جس میں لوگ خود اذیتی یا خود کشی کو سنسنی خیز بنانے ہیں۔
سنہ 2017 میں مولی رسل کی موت کے بعد ان کے والد نے کہا تھا کہ ’اس پلیٹ فارم نے ان کی بیٹی کو ہلاک کیا۔‘












