امریکہ میں پھر سے بدترین خشک سالی کا خطرہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ مغربی امریکہ کی تاریخ میں آنے والی بدترین خشک قحط جیسی صورت حال ایک مرتبہ پھر پیدا ہو رہی۔
تحقیق کار اسے 'میگا ڈراوٹ' یا بڑی خشک سالی کا نام دے رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے اس نے اس خطے کو سنہ 2000ر سے اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔
موسمیاتی تبدیلی گو کہ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کا باعث بن رہی ہے لیکن اس نے خشک سالی کو زیادہ شدید کر دیا ہے۔
کچھ تحقیق کار اس بارے میں زیادہ محتاط ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اس خطے میں پیدا ہونے والی اس صورت حال کو 'میگا ڈراوٹ' قرار دینا قبل از وقت ہو گا۔
یہ بھی پڑھیے
میگا ڈراوٹ ہوتا کیا ہے؟
ایک نئے تحقیقاتی مکالے کے مطابق شمالی امریکہ میں'میگا ڈاروٹ' کا مطلب کئی دہائیوں پر محیط ایک ایسی صورت حال ہے جس میں کچھ ایسے طویل اور شدید دورانیے بھی آ سکتے ہیں جو انیسویں اور بیسویں صدی میں مشاہدے میں نہیں آئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس مکالے کے مصنفین نے کہا ہے کہ مغربی امریکہ میں نویں صدی کے شروع ہونے سے لے کر سنہ 2018 تک خشک سالی کے 40 دور آ چکے ہیں۔
ان میں سے چار ایسے دور تھے جو کہ سنگینی کے اعتبار سے 'میگا ڈراوٹ' پر پورے اترتے ہیں۔ یہ نویں، بارہویں، تیرہویں اور سولہویں صدی میں آئے تھے۔
تحقیق کاروں کو کس طرح معلوم ہوا کہ ماضی میں آنے والے قحط میں کیا صورت حال تھی۔
اس تحقیق میں سب سے اہم عنصر درخت کے تنوں کی تہیں ہوتی ہیں جن سے گذشتہ بارہ سو برس میں زمین میں پائی جانے والی نمی کا اندازا لگایا جاتا ہے۔
ماہرین کی ٹیم کو اس کے علاوہ دیگر شواہد سے بھی اس کا اندازہ لگانے میں مدد ملی ہے۔ ان میں قرون وسطی کے دور میں اُن درختوں کے تنے ہیں جو عام طور پر دریاوں کے کناروں پر اگتے ہیں، تیرہویں صدی میں قحط کے سخت ترین دنوں میں جو تہذیبیں ہجرت کرنے پر مجبور ہو گئی تھیں ان کے کھنڈرات یا باقیات سے اور خشک جھیلوں میں جمع ریت اور مٹی سے جن سے خشک سالی کے دوران جنگل کی آگ لگنے کے واقعات کی کثرت کا علم ہو جاتا ہے۔
اس تحقیق سے کیا معلوم ہوا؟
تحقیق کاروں نے ماضی میں آنے والے قحط کے بدترین 19 سالوں کی صورت حال کا سنہ 2000 سے سنہ 2018 تک کے زمین کی نمی کے ریکارڈ کا جب موازنہ کیا تو ان پر یہ بات عیاں ہوئی کہ موجودہ دور گزشتہ چار میں سے تین 'مگاڈراوٹ' سے زیادہ سنگین ہے۔
تاریخ کا چوتھا بدترین قحط جو سنہ 1575 سے 1603 کے درمیان آیا تھا وہ اپنی شدت کے لحظ سے سب سے شدید تھا لیکن حالیہ قحط اور سولہویں صدی کے قحط میں زیادہ فرق نہیں ہے۔
نیویارک کی کولمبیا یونیورسٹی کے پروفیسر اور اس تحقیق کے سربراہ ڈاکٹر پارک ولیم کے مطابق موجوہ قحط کی پہلی دو دہائیوں میں صورت حال بالکل ویسی ہی ہے جیسی گزشتہ چار بڑی قحط سالی کے دنوں میں تھی۔ انہوں نے کہا کہ در حقیقت گزشتہ بیس برس ماضی کے بدترین قحط کے پہلے بیس برس کی طرح ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
موجودہ قحط کیا ایک قدرتی عمل ہے یا یہ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے آیا ہے؟
اس تحقیقی مکالے کے مصنفین کا کہنا ہے کہ موجودہ خشک سالی یا قحط قدرتی ہے لیکن موسمیاتی تبدیلیوں سے اس کی شدت میں اضافہ ہو گیا ہے۔
اس صورت حال میں موسم کے ایل نینو اور لا نینا اثرات کا بھی بڑا عمل دخل ہے۔
ڈاکٹر ولیم کا کہنا ہے کہ 'ہم جانتے ہیں بہت سے شواہد سے کہ جب لانینا جیسے اثرات بحرالکاہل پر پڑتے ہیں تو براعظم امریکہ کے جنوب مغربی حصوں اور شمالی میکسیکو میں خشک سالی آ جاتی ہے اور یہی کچھ ہم گزشتہ دو دہائی سے دیکھ رہے ہیں'۔
لیکن موسمیاتی تبدیلی نے اس صورت حال کو بہت سنگین کر دیا ہے۔ ان ماہرین کا کہنا ہے کہ سنہ 2000 کے بعد سے مغربی امریکہ میں درجہ حرارت میں ایک اعشاریہ دو سینٹی گریڈ کا اضافہ ہوا ہے۔ گرم ہوائیں زیادہ نمی لیتی ہیں اور یہ نمی زمین سے نکل جاتی ہے۔
ان کا خیال ہے کہ اس قحط کی نصف سے زیادہ سنگینی موسمیاتی تبدیلی کو وجہ سے ہے۔
کولمبیا یونیورسٹی اور امریکی خلائی ادارے 'گوڈارڈ انسٹی ٹیوٹ' برائے خلائی تحقیق سے منسلک ڈاکٹر بینجمن کک کا کہنا ہے کہ 'اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ یہ اب تک کا بدترین قحط ہے یا نہیں۔'
ان کے خیال میں فرق اس بات سے پڑتا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے اس کی شدت جو ہونی چاہیے تھی اس سے کہیں زیادہ ہو گئی ہے۔
'میگا ڈراوٹ' کے کیا اثرات ہوتے ہیں؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس خطے کے دو بڑے اہم آبی ذخائر جن میں پاول اور میڈ جھیلیں شامل ہیں ان کی وسعت میں نمایاں کمی آئی ہے۔ خطے میں جنگل کی آگ بڑہک اٹھنے کے واقعات بھی بڑھ گئے ہیں۔
ڈاکٹر ولیم کا کہنا ہے کہ اب ایک سال میں جنگلوں میں آگ بڑہک اٹھنے کے دس گنا زیادہ واقعات پیش آتے ہیں جتنے 40 سال پہلے ایک سال میں آتے تھے۔
اس خشک سالی کی شدت سے نمٹنے کے لیے جس چیز نے مدد دی ہے وہ ہے زیر زمین پانی کے ذخائر۔
زراعت کے لیے زیر زمین پانی کے استعمال میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
خشک سالی طویل ہونے کے ساتھ ہی لوگ زیادہ گہرائیوں سے پانی نکالتے ہیں اور اس کی وجہ سے زیر زمین ذخائر کو دوبارہ بھرنے میں زیادہ وقت لگتا ہے۔
کیا ماہرین میں اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ اس وقت 'میگا ڈراوٹ' کی سی صورت حال در پیش ہے؟
اس کا جواب نفی میں ہے۔ اس نئی تحقیق پر اختلاف رائے ہے خاص طور پر 'میگا ڈراوٹ' جیسی اصطلاح کی تشریح پر اور اس ضمن میں بحث جاری ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اسے موجودہ کیفیت کو 'میگا ڈراوٹ' قرار دینا ابھی قبل از وقت ہے۔
لیکن جو لوگ اس بات سے اتفاق نہیں کرتے کہ یہ صورت حال 'میگا ڈراوٹ' یا بڑے قحط جیسی ہے وہ اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ خطے میں پانی کی کمی ہے اور یہ آنے والے دنوں میں اور زیادہ شدت اختیار کر جاے گی۔
امریکہ میں فضا پر تحقیق کے ادارے نیشنل سینٹر فار ایٹموسفیرک ریسرچ سے منسلک ڈاکٹر اینجلین پینڈرگراس کا کہنا ہے کہ چاہے مغربی امریکہ کی موجودہ صورت حال اس سطح پر پہنچ چکی ہے یا نہیں کہ اسے کوئی خاص لفظ سے بیان کیا جائے لیکن موجودہ صدی میں یہ بات بالکل واضح ہے کہ پانی مغربی امریکہ میں ایک انتہائی قیمتی وسیلہ ہے کیونکہ اس خطے میں لمبے عرصے تک بارشیں نہیں ہوتیں۔
ان کے مطابق موسمیاتی تبدیلی سے اس میں کوئی بہتری نہیں آئے گی یہ صورت حال موسمیاتی تبدیلی سے اور زیادہ سنگین ہو جائے گی۔










