انڈونیشیا: غار میں سے 44 ہزار سال قدیم پینٹنگ دریافت

انڈونیشیا کے ایک غار کی دیوار سے ایک پینٹنگ دریافت ہوئی ہے جو کہ 44 ہزار سال پرانی ہے۔

غار کی دیوار سے ملنے والے فن پارے میں ایک بھینس نظر آ رہی ہے اور انسان اور جانور کے دھڑ پر مشتمل مخلوقات جنھوں نے نیزے اور ممکنہ طور پر رسیاں پکڑ رکھیں ہیں، اس بھینس کا شکار کر رہی ہیں۔

کچھ محققین کا خیال ہے کہ یہ منظر دنیا کی سب سے پرانی کہانی ہو سکتی ہے جسے ریکارڈ کیا گیا۔

ان نتائج کو آسٹریلیا کے شہر بریسبین کی گرّفِتھ یونیورسٹی کے ماہرِ آثارِ قدیمہ نے ’نیچر‘ نامی جریدے میں پیش کیا۔

یہ بھی پڑھیے

گرّفِتھ یونیورسٹی کے ماہرِ آثارِ قدیمہ ایڈم بروم نے پہلی بار ان تصاویر کو دو سال پہلے دیکھا جب انڈونیشیا میں ان کے دفتر کے ساتھی نے غار تک پہنچنے کے لیے انجیر کے پیڑوں کو راستے سے ہٹایا۔

ایڈم کہتے ہیں کہ ’مجھے اپنے آئی فون پر یہ تصاویر موصول ہوئیں۔ میرا خیال ہے کہ اس وقت میں نے ایک چار حرفوں پر مشتمل خصوصی آسٹریلوی لفظ بہت اونچی آواز میں بولا۔‘

انڈونیشیا میں ملنے والی پینٹنگ دنیا کی سب سے پرانی پینٹنگ نہیں ہے۔ گذشتہ برس سائنسدانوں کے مطابق انھوں نے جنوبی افریقہ میں پتھر کے ایک ٹکڑے پر سے 'انسانیت کی سب سے پرانی پینٹنگ' دریافت کی جو 73 ہزار سال پرانی ہے۔

پینٹنگ میں ہے کیا؟

یہ پینٹنگ بورنیو کے مشرق میں واقع انڈونیشیائی جزیرے سُلاویسی میں لیانگ بولوسپونگ 4 نامی غار میں دریافت کی گئی۔

پینٹنگ تقریباً پانچ میٹر چوڑی ہے اور اس میں اینووا کہلانے والی بھینس کی ایک قسم اور سُلاویسی میں پائے جانے والے جنگلی خنزیر موجود ہیں۔

ان کے ساتھ ساتھ انسان کی طرح دکھنے والے چھوٹی جسامت کی مخلوقات بھی موجود ہیں جن کی تھوتھنی اور دُم جیسی خدوخال ہے۔

تصویر کے ایک حصے میں موجود اینووا کو نیزے پکڑ کر کھڑی مخلوقات نے گھیر رکھا ہے۔

ایڈم کہتے ہیں کہ ’میں نے پہلے کبھی ایسا کچھ بھی نہیں دیکھا۔ میرا مطلب ہے کہ اس علاقے میں ہم نے پتھر پر سینکڑوں فن پارے دیکھے ہیں لیکن شکار کے اس منظر جیسا کچھ نہیں دیکھا۔‘

تاہم، دیگر محققین نے سوال اٹھایا ہے کہ آیا یہ پینٹنگ ایک بار میں بنائی گئی یا لمبے عرصے تک اس تصویری سلسلے میں نقش بنا کر اضافہ کیا گیا۔

ڈرہم یونیورسٹی میں ماہرِ آثار قدیمہ اور پتھر کے فن پاروں کے ماہر پال پٹیٹ نے نیچر کو بتایا ’اس بات پر سوالیہ نشان ہے کہ آیا یہ ایک منظر ہے۔‘

ہمیں کیسے علم ہوا یہ 44 ہزار سال پرانی پینٹنگ ہے؟

ٹیم نے پاپ کارن کی شکل میں پینٹنگ پر جمع ہونے والے کیلشیئم کاربونیٹ کا تجزیہ کیا۔

معدنیات میں موجود ریڈیو ایکٹیو یورینیئم تابکار کشی کے بعد تھوریئم میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ اس وجہ سے ٹیم نے ان عناصر میں مختلف آئسوٹوپس کے لیول دیکھے۔

ٹیم کو پتا چلا کہ خنزیر پر جمع شدہ کاربونیٹ 43900 سال پرانا ہے جبکہ بھینس پر موجود کاربونیٹ 40900 سال پرانا ہے۔

صرف سُلاویسی میں قدیم تصاویر والے کم از کم 242 غار ہیں اور ہر سال نئی جگہیں دریافت ہوتی ہیں۔

باقی قدیم فن پاروں سے اس پینٹنگ کا موازنہ

بلاشبہ یہ سب سے پرانی پینٹنگ نہیں ہے لیکن محققین کا کہنا ہے کہ شاید یہ اب تک کی سب سے پرانی کہانی ہو سکتی ہے۔

نیچر میں شائع کی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 'اس سے پہلے یورپ کی سائیٹس سے ملنے والے پتھر کے فن پارے 14 ہزار سے 21 ہزار سال پرانے تھے اور انھیں دنیا کے سب سے پرانے بیانیے والے فن پارے تصور کیا جاتا رہا ہے۔

سُلاویسی پینٹنگ ابھی تک کی دنیا کی سب سے پرانی جانوروں کی پینٹنگ ہو سکتی ہے۔

گذشتہ سال بورنیو کی ایک غار میں جانور کی سب سے پرانی پینٹنگ تصور کیا جانے والے فن پارہ کم از کم 40 ہزار سال پرانا تھا۔