کھانے کے قابل کافی کپس کا ایئر نیوزی لینڈ کی پروازوں میں تجربہ

،تصویر کا ذریعہAir NewZealand
اگر پرواز کے دوران آپ کی ہلکی پھلکی بھوک کافی اور بسکٹ سے نہیں مٹتی تو گھبرائیں نہیں!
نیوزی لینڈ کی قومی ایئرلائن نے اب پروازوں کے دوران آزمائشی بنیاد پر مسافروں کو کافی ’کھانے کے قابل‘ کپس میں پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ایئر نیوزی لینڈ کے مطابق ایسا پرواز کے دوران پیدا ہونے والے کچرے کو کم کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
ایک مقامی کمپنی ٹوائیس کی جانب سے بنائےجانے والے یہ کپس وینیلا کے ذائقے والے بسکٹ سے تیار کیے جاتے ہیں اور کمپنی کے مطابق ان کپس سے ’مشروبات رستے نہیں‘ ہیں۔
خیال رہے کہ ایئر نیوزی لینڈ مسافروں کو ایک برس میں تقریباً 80 لاکھ کافی کے کپ پلاتا ہے۔ ایئرلائن کے مطابق وہ ان پروازوں سے پیدا ہونے والا کچرہ کم کرنا چاہتی ہے۔
تاہم ناقدین کی رائے میں صرف کپس کی تبدیلی ماحول پر مثبت اثر ڈالنے کے لیے ناکافی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایئر نیوزی لینڈ کی جانب سے جاری کردہ ایک اعلامیے کے مطابق یہ کافی کپس ’پرواز کے دوران اور زمین پر بھی‘ آزمائشی بنیادوں پر استعمال کیے جائیں گے۔
ایئر نیوزی لینڈ کی نکی چیو کا کہنا ہے ’یہ کپس ان صارفین میں بہت مقبول ہوئے ہیں جنھوں نے انھیں استعمال کیا ہے اور ہم ان کپس کو میٹھا کھانے کے لیے بھی استعمال کر رہے ہیں۔‘
ٹوائیس کے شریک بانی جیمی کیشمور کے مطابق ان کپس کے استعمال سے ’ماحول پر مثبت اثر پڑے گا۔‘
برطانیہ میں تقریباً ڈھائی ارب کافی کپس پھینک دیے جاتے ہیں جن میں سے صرف صفر اعشاریہ دو پانچ دوبارہ استعمال کے قابل ہوتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایئر نیوزی لینڈ کا کہنا ہے کہ آزمائشی بنیادوں پر استعمال ہونے والے کھانے کے قابل کپس کو متعارف کروانے سے قبل ایئر لائن نے کاغذ اور مکئی سے بنے کپس متعارف کروائے ہیں جنھیں کھاد کے طور پر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
تاہم سوشل میڈیا کے کچھ صارفین نے ایئر لائن کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر انھوں نے ماحول کے لیے کچھ کرنا ہے تو کافی کپ تبدیل کرنے کے علاوہ بھی بہت کچھ کرنا ہو گا۔
خیال رہے جہاز ایندھین جلانے سے گرین ہاؤس گیسز پیدا کرتے ہیں اور ان کے اخراج سے گلوبل وارمنگ میں اضافہ ہوتا ہے۔
ماحول پر کام کرنے والے صحافی جورج مونبیوٹ نے ٹوئٹر پر طنزیہ انداز میں لکھا ’کتنی خوشگوار بات ہے کہ کوئی ایئرلائن ماحول پر اپنے حصے کا بوجھ کم کر رہی ہے، اوہ ایک منٹ ٹھہریے۔۔۔‘
ایک ٹوئٹر صارف نے کہا ’دھوئیں کا اخراج کم کرنے کے بارے میں کیا خیال ہے، اس کی بجائے ہر ہفتے لندن جانے والی ایک پرواز ختم بھی تو کی جا سکتی ہے۔‘
ایئر نیوزی لینڈ پچھلے کچھ عرصے سے ٹوئٹر پر موجود اپنے کسٹمرز کے کھانے سے متعلق تحفظات بھی سن رہی ہے۔
ایک سبزی خور صارف کو بتاتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ان کپس میں انڈوں کا استعمال کیا گیا ہے جبکہ ٹوائیس کے مطابق کپس میں گلوٹن بھی موجود ہے اور اس میں دودھ اور میوہ جات کی کچھ مقدار بھی ہو سکتی ہے۔
ایئر لائن نے زور دیا ہے کہ پودوں کی مدد سے بنائے گئے یہ کپس آزمائشی بنیادوں پر تمام پروازوں میں دستیاب ہوں گے۔












