اپالو لینڈنگ: دنیا کی سب سے بڑی نشریات

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, جیمز جیفری
- عہدہ, آسٹن، ٹیکس
پچاس برس پہلے جب انسان نے چاند کی سرزمین پر قدم رکھا تو یہ منظر ٹیلیویژن سکرینوں پر براہ راست دیکھایا جا رہا تھا۔ یہ ایسا منظر تھا کہ جس کا ماضی میں سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا اوراس واقعے کی کوریج نے امریکی نفسیات اور پاپ کلچر پر گہرے اثرات مرتب کیے۔
جب 20 جولائی 1969 کو خلائی جہاز اپالو 11 نے چاند کی سطح کو چھوا، تو اس کے ساتھ ٹیلیویژن کیمرے بھی نصب تھے جس نے پہلے خلاباز نیل آرمسٹرانگ کے سہمے سہمے قدموں کی تصاویر ہزاروں میل دور ٹی سکرینوں سے چپکے کروڑوں انسان دیکھ رہے تھے۔
والٹرکرونکٹ سی بی ایس نیٹ ورک کی اپالو مشن کی کوریج کے اینکر تھے اور جب انسان نے چاند کی سر زمین پر پاؤں رکھا پہلے تو ان کی زبان بند ہو گئی اور بالاخر وہ کہنے میں کامیاب ہوئے” انسان چاند پر، کیا بات ہے ۔‘
والٹر کرونکٹ نے بعد میں کہا کہ وہ اس موقع پر وہ کچھ یادگار الفاظ ادا کرنا چاہتے تھے لیکن وہ یہی کچھ کہہ پائے۔
کرونکٹ کے پروڈیوسر رابرٹ وسلر نے ورائٹی میگزین کو بتایا کہ یہ شاید ٹیلیویژن کی تاریخ کی سب سے اعلی نشریات تھی۔

،تصویر کا ذریعہDolph Briscoe Center for American History
انسان کے چاند پر اترنے کی کوریج دراصل تعلقات عامہ کی اس مہم کا عروج تھا جو 1958 میں ناسا کے قیام کا جواز پیدا کرنے کے لیے شروع کی گئی تھی۔
کرونکٹ کی کوریج کی وجہ سے انھیں امریکہ کا سب سے قابل اعتبار شخص تصور کیا جانے لگا تھا۔ ایڈورڈ سلز جو اپالو کے چاند پر پہنچنے کے وقت تیرہ برس کے تھے اور انھوں نے یہ واقعہ نیویارک کے کمرے میں بیٹھ کر دیکھا تھا، کہتے ہیں کہ کربونکٹ کی کوریج شاعرانہ تھی۔
تیرہ سالہ ایڈورڈ سلز ویت نام کی جنگ کے مخالفین کی صفوں میں شامل ہوچکے تھے، لیکن امریکی خلاباز کا چاند پر پہنچنا ایڈورڈ سلز کے لیے انتہائی یادگار تھا۔ کرونکٹ نے اس واقعے کی جس انداز میں نوجوانوں کی نظر سےکوریج کی اس نے بھی اسے یادگار بنایا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایڈورڈ سلز نے انسان کے چاند پر پہنچنے کی کوریج اپنے دادا کے پہلو میں بیٹھ کر دیکھی لیکن جو احساسات ایڈورڈ سلز کے تھے وہ ان کے دادا کے نہیں تھے جو اس واقعے کی اہمیت کو تھوڑے ہی عرصے بعد بھول گئے تھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کرونکٹ کی پیدائش 1893 کی تھی اور وہ اس دور کو بھی اچھی طرح دیکھ چکے تھے جب انسان کے سب سے اعلی سواری گھوڑا بگھی تھی۔ کرونکٹ انسان کے چاند پر قدم رکھنے کے واقعے میں انتہائی متاثر تھے۔ کرونکٹ کہتے ہیں کہ ٹیکنالوجی کا اس انداز میں آگے بڑھنا انتہائی یادگار تھے۔
کرونکٹ اس سے پہلے امریکہ کے راکٹ پروگرام کی کوریج بھی کر چکے تھے۔ امریکی ایئرفورس حکام جو راکٹ پروگرام کے انچارج تھے، وہ کرونکٹ اور سی بی ایس نیٹ ورک کی کوریج سے شاقی رہتے تھے۔
جب 1958 میں ناسا کا قیام عمل میں لایا گیا تو حکومت نے مہنگے پرواجیکٹ کے لیے عوامی حمایت کے لیے تعلقات عامہ کی مہم چلائی۔

،تصویر کا ذریعہUT Austin’s Briscoe Center for American History
ذرائع ابلاغ کے لیے انسان کے چاند پر پہنچنے کا واقعے کی اہمیت من و سلوا سے کم نہ تھی۔
یونیورسٹی آف ٹیکساس کے شعبہ صحافت سے تعلق رکھنے والی ٹریسی ڈالبی کہتی ہیں کہ ناسا نے اس پراجیکٹ کی تشہیر کے لیے بہت اعلی کام کیا اور وہ اپنی کارروائیاں عوام سے چھپانے کے بجائے مسلسل میڈیا کے ذریعے عوام تک پہنچانے رہے۔
ناسا نے اپنے خلابازوں کو ڈرامے کےہیرو کے طورپیش کیا اور ذرائع ابلاغ نے انھیں اسی پیرائے میں قبول کیا۔ یہ سب کچھ اس وقت ہو رہا تھا جب ساری خبریں ویت نام کی جنگ اور ملک کی ہنگامہ خیز سیاست کے حوالے سے ہوتی تھیں۔ اپالو مشن کے وقت ٹی وی انڈسٹری نے خلائی پروگرام کی کوریج کے لیے کافی بڑی سرمایہ کاری کی تھی۔
مسٹر رائٹ کہتے ہیں کہ ٹیلیوژن انڈسٹری نے خلائی پروگرام کی کوریج کے لیے اپنی مہارت کو بڑھا لیا تھا۔ اس وقت ٹیلیوژں کی سپلٹ سکرین ٹیکنالوجی ابھی متعارف نہیں ہوئی تھی لیکن اینکرز جس انداز میں ایک کے بعد ایک مہمان کو کوریج میں شامل کر رہے تھے وہ سلپٹ سکرین جیسا ہی ماحول پیدا کرتی تھی۔
سی بی ایس نیوز نے اس کی کوریج کے لیےایک انتہائی پیچدہ طریقہ کار اپنایا اور اس نے مختلف براعظموں میں کئی مقامات پر اپنے رپورٹرز تعینات کیے۔ سی بی ایس نے اپالو الیون کی کوریج کے لیے خصوصی ہدایات تیار کیں۔۔ سی بی ایس کے ایک نوٹ میں لکھا گیا کہ انسان کی چاند پر پہنچنے کی سہی زمین کی شروعات کو صحیح تناظر میں پیش کرنے کی ایک کوشش ہے۔

،تصویر کا ذریعہUT Austin’s Briscoe Center for American History
اپالو الیون مشن کا شمار بھی تاریخ کے ان واقعات میں ہوتا ہے جنہیں ماضی میں شعرا، تاریخ دانوں نے قلمبند کرکے انسان کےسمندروں کو مسخر کرنے نئے براعظموں کی تلاش، پہاڑوں کی چوٹیوں کو سر کرنے کا تجسس اور کوششوں کو جلا بخشی۔
انسان کے چاند پر پہنچنے کی کوریج کرنے کی سوچ صرف ٹی وی چینلوں کے دفاتر میں بیٹھے لوگوں کی نہیں تھی ۔ انشورنس انڈسٹری میں کام کرنے والے باب ایکارٹ والٹر کرونکٹ کو لکھے گئےاپنے خط میں تجویزکیا کہ انسان کی چاند پر پہنچنے کی خبروں اس انداز میں پیش کیا جائے کہ امریکہ کرہ ارض پر بسنے والوں قوموں میں سے عظیم تر ہے اور انھیں اس پر فخر ہونا چاہیے۔
سی بی ایس اور اے بی سی نیٹ ورکس نے اپالو الیون کی کوریج پر مجموعی طور پر ایک کروڑ تیس لاکھ ڈالرخرچ کیےاور اس خرچ کے برابر تھا جو دونوں نیٹ ورکس نے1968 کی صدارتی مہم کی کوریج پر خرچ کیے تھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ناسا نے ٹی وی نیٹ ورکس کے کام کو آسان بنایا۔ ناسا نے انسان کے چاند پر پہنچنے کی آڈیو، ویڈیو اور تصاویر نیوز چینلوں کو تواتر کے ساتھ مہیا کیں۔ ایسے کرنےمیں ناسا کا اپنا مفاد بھی تھا تاکہ مستقبل میں ان کا بجٹ منظور ہوتا رہے۔ ناسا اور ذرائع ابلاغ کی کوشش کا نتیجہ یہ تھا کہ94 فیصد امریکیوں نے جنہوں نے ٹی وی سکرینوں پر امریکی خلا باز کو چاند پراترتے دیکھا، ان کے اس کے اثرات دیکھے جا سکتے تھے۔
ٹیلیوژن کی غیر موجودگی میں انسان کے چاند پر پہنچنے کاواقعہ صرف ایک اچھی کامیابی یا کچھ ناراض لوگوں کی نظر میں ایک مہنگےکرتب کے طور پر یاد رکھا جانا تھا۔
چاند پر پہنچنے کی اچھی خبر ایسے وقت آئی جب ساٹھ کی دہائی میں ملک میں افراتفری تھی ، ویت نام کی جنگ کے خلاف ملک میں احتجاج ہو رہا تھا۔ لوگوں کے حقوق کی بات کرنے والے رہنماؤں اور سیاستدانوں کو قتل کرنے کی مایوس کن خبروں کے درمیان چاند پر امریکی خلا باز کے پہنچنے کی خبر نے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ انسان کے چاند پر پہنچنے کے واقعے کی کوریج کا ایک پہلو یہ بھی تھا کہ امریکہ کا حریف سوویت یونین اپنی سیٹلائٹ سپٹنگ کو خلا میں بھیج چکا تھا۔
ایریزونا سٹیٹ یونیورسٹی کے پروفیسر جان کرافٹ کے مطابق امریکی شہریوں کو لگ رہا تھا دنیا میں امریکی بالادستی کو مشکلات کا سامنا ہے لیکن ایک امریکی خلا باز نے جب چاند کی سطح پر قدم رکھا تو لوگوں کو محسوس ہوا کہ امریکہ ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کرونکٹ نے اپالو الیون کی لینڈنگ پر کمنٹری کرتے ہوئے انسان کے چاند پر پہنچے کے واقعے کو کرسٹوفر کولمبس کے امریکہ کو دریافت کرنے سے موازنہ کیا۔
تاریخ دان انسان کے چاند پر پہنچنے کی اہمیت کو پینسلین یا مائیکرچپ سے موازنہ کرتے رہتے تھے۔

کچھ مبصرین کا خیال تھا کہ امریکہ کے چاند پر پہنچنے سے دنیا میں امن کے فروغ میں مدد ملے گی لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا اور دنیا کا کاروبار ایسے ہی چلتا رہا جیسے اس سے پہلے چل رہا تھا۔
مٹسر رائٹس کے مطابق انسان کے چاند پر پہہچنا ایک ’سفید فام تجربہ‘ تھا۔ سوٹ میں ملبوس لوگ اس کے بارے میں بات کر رہےتھے۔ اس تجربے میں عورت یا رنگ کا کوئی عمل دخل نہیں تھا، حتیٰ کہ سپیس سوٹ کا رنگ بھی اتنا سفید تھا جتنا سفید ہونا ممکن ہے۔
اپالو الیون کا مشن بہت مہنگا تھا۔ آج سے پچاس برس پہلے اس پر 19.4 ارب ڈالر کی لاگت آئی تھی اور اگر اس رقم کو موجود ریٹ پر پرکھا جائے تو یہ 116 ارب ڈالر بنتی ہے۔
اس پروگرام کے نقادوں کا موقف تھا کہ اتنی بڑی رقم ملک کی پسماندہ آبادی اور بچوں کی بہتری کے لیے استعمال ہو سکتی تھی۔
لیکن اگر صحافت کا معیار وہ ہوتا جو آج ہے تو شاید اس منصوبے کی افادیت پر اور باریک بینی سے سوالات اٹھائے جانے تھے۔

،تصویر کا ذریعہUT Austin’s Briscoe Center for American History
اپالو مشن کی کامیابی کے بعد ناسا نے اپنی کارروائیوں کی خوب تشہیر کی لیکن ستر کی دہائی میں عوام اور میڈیا کی طرف خلائی تحقیق کے پروگراموں پر اٹھنے والے اخرجات پر سوال اٹھائےجانے لگے۔ لیکن امریکی خلا باز کے چاند پر پاؤں رکھنے کا اثر بے بہا ہوا اور ایسے الفاظ جیسے„ ایگل ہیز لینڈیڈ‘ ۔ ڈارکرسائیڈ آف دی مون‘ ون سمال سٹیپ فار مین‘ جیسے جملے روز مرہ کی لغت کا حصہ بن گئے۔
پچاس برس پہلے چاند پر پہنچنے کی تصاویر آج بھی ایسی بحثوں کو جنم دیتی ہیں کہ کیا اس طرح کے مہنگے مشن کا کوئی فائدہ بھی تھا یا نہیں۔
"کرونکٹ نے2010 میں اپنی کتاب ’کنروسیشن ود کرونکٹ‘ میں لکھا کہ ہمارے زمانے میں سائنس اور ٹیکنالوجی میں حیران کن ترقی ہوئی ہے لیکن صرف ایک واقعہ جس میں ایک انسان اس دنیا سے کسی دنیا میں پہنچ گیا اس کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
لیکن جوں جوں وقت بدلہ، امریکہ ذرائع ابلاغ بھی بدل گیا اور عوامی خدمت کےجذبے کی جگہ منافع نے لے لی۔ اب ذرائع ابلاغ کے زیادہ تر ادارے کاروبار بن چکے ہیں اور وہ اپنی شیئر ہولڈر کوجوابدہ ہیں۔








