ویکسین ٹھکرانے والے امریکی طالب علم میں چکن پاکس کی تشخیص

،تصویر کا ذریعہBill Kunkel
پاکستان سمیت دنیا کے دیگر ممالک میں سوشل میڈیا پر ویکسین سے جڑے خدشات اور خطرات کو لے کر کافی گرما گرم بحث چلتی رہتی ہے لیکن حال ہی میں امریکہ میں ایک ایسا کیس سامنے آیا جس نے ویکسینیشن کی افادیت اور اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔
گذشتہ ماہ حفاظتی ٹیکے نہ لگوانے کی وجہ سے سکول میں داخلے پر پابندی کا سامنا کرنے والے ایک امریکی نوجوان نے اپنے سکول کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی تھی۔
سکول کے خلاف مقدمہ کرنے میں ناکام ہونے والے 18 سالہ جیروم کنکل گذشتہ ماہ اس وقت سرخیوں میں آئے جب کینٹکی کے آور لیڈی آف سیکرڈ ہارٹ سکول نے ایسے طالب علموں کا سکول میں داخلہ بند کر دیا جنھوں نے حفاظتی ٹیکے نہیں لگوائے تھے۔
لیکن اب ان کے وکیل کے مطابق جیروم میں بھی چکن پاکس کی تشخیص ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھیے!
جیروم کے وکیل کرسٹوفر ویسٹ نے میڈیا کو بتایا کہ بیماری کی علامات پچھلے ہفتے ظاہر ہوئیں۔ ان کے مطابق ان کے موکل نے ویکسین مذہبی وجوہات کی بنیاد پر ٹھکرائی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سکول کے خلاف دائر کیے گئے مقدمے میں طالب علم نے دعویٰ کیا تھا کہ ویکسین ’غیراخلاقی، غیرقانونی ہے اور گناہ کے زمرے آتی ہے‘ اور سکول نے ان کے حقوق کی خلاف ورزی کی ہے۔
کینٹکی کے شہر والٹن میں واقع سکول نے یہ پابندی اس وقت لگائی جب کم از کم 32 طلبا وبا کی زد میں آ گئے۔
کرسٹوفر نے این بی سی نیوز کو بتایا کہ طالب علم کو حفاظتی ٹیکے نہ لگوانے کے اپنے فیصلے پر پچھتاوا نہیں ہے۔
وکیل کا مزید کہنا تھا ’یہ بہت پختہ مذہبی عقائد ہیں، یہ بہت مخلص عقائد ہیں۔ انھوں نے ہمیشہ اس خدشے کو مدِنظر رکھا کہ ان کو بیماری لگ سکتی ہے اور انھیں اس بات سے کوئی مسئلہ نہیں تھا۔‘

،تصویر کا ذریعہCBS
14 مارچ سے شمالی کینٹکی کے محکمہ صحت نے حفاظتی ٹیکے نہ لگوانے والے طلبا کو کلاسز لینے اور غیر نصابی سرگرمیوں میں حصہ لینے سے روک دیا۔
اپریل میں کینٹکی کے ایک جج نے محکمہ صحت کے موقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ ویکسین سے انکار کرنے والے طالب علم کو کھیلوں میں حصہ لینے کا کوئی حق نہیں ہے۔
جیروم کے والد بِل کنکل نے دعوی کیا کہ ویکسین مردہ پیدا ہونے والے بچوں کی باقیات سے بنائی جاتی ہیں اور یہ ان کے خاندان کے مذہبی عقائد کے خلاف ہے۔
ویکسین بنانے کے لیے استعمال کیے جانے والے کچھ وائرس کو ایسے خلیوں کے ساتھ تیار کیا جاتا ہے جو 1960 کی دہائی میں ضائع شدہ مردہ انسانی بچوں کے بقایاجات سے لیے گئے ہیں۔
تاہم حکام اور ادویات بنانے والی کمپنیوں کے مطابق 1960 کے بعد سے اب تک ویکسین بنانے کے لیے نئے انسانی خلیوں کا استعمال نہیں کیا گیا۔
کیتھولک چرچ نے اپنے ممبران کو بتایا ہے کہ ان ویکسینز کا استعمال بالکل اخلاقی ہے، لیکن ساتھ ہی کہا کہ انھیں ایسا متبادل علاج چاہیے جس میں ایسے خلیوں کا استعمال نہ کیا گیا ہو۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
عام طور پر مہلک نہ تصور کیے جانے والی چکن پاکس بہت متعدی بیماری ہے جو چھالوں، خارش اور بخار کا باعث بنتی ہے۔
فلاڈیلفیا کے چلڈرن ہسپتال کے مطابق ویکسین بننے سے پہلے تک ہر سال تقریباً 40 لاکھ امریکی چکن پاکس کا شکار ہوتے تھے تاہم اب ہر سال صرف 12 ہزار کے لگ بھگ افراد اس بیماری کا نشانہ بنتے ہیں۔










