الیکٹرانک موسیقی سے مچھروں سے بچاؤ ممکن

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سوچیں آپ کسی مرطوب آب و ہوا کے ملک میں چھٹیاں گزارنے گئے ہیں۔ آپ کا چہرہ سورج کی روشنی سے تمتا رہا ہے اور ٹھنڈی ہوا آپ کے بالوں کو چھو رہی ہے، کوئی آپ کو انناس میں سٹرا ڈال کر دیتا ہے اور آپ اس سے لطف اندوز ہونا شروع ہی کرتے ہیں تو آپ کے چہرے پر کوئی پنجے گاڑ دیتا ہے، اور آپ اپنے آپ کو مچھروں سے بچانے میں مصروف ہوجاتے ہیں۔
سائنسدانوں کی ایک عالمی ٹیم نے ایدیس آگپتی پر، جسے عرفِ عام میں زرد بخار والا مچھر بھی کہا جاتا ہے، الیکٹرانک میوزک کے اثرات کے ٹیسٹ کیے ہیں۔
مچھروں کی یہ قسم خطرناک اور زیکا وائرس جیسی جان لیوا بیماریوں کا باعث بنتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سائنسدانوں کی ٹیم نے ان مچھروں کو ڈی جے سکریلیکس کے گانے سنائے اور پھر ان کی مختلف حرکات کی نگرانی کی۔ سائنسدانوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ الیکٹرانک میوزک سن کر مچھروں میں خون چوسنے اور سیکس کرنے کی صلاحیت میں کمی واقع ہوئی۔
تحقیق کاروں کی رپورٹ جو ایکٹا ٹروپیکا جریدے میں شائع ہوئی، میں لکھا گیا ہے کہ شور اور ارتعاش سے حشرات الارض کی جنسی سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تحقیق کے مطابق مادہ مچھر سکریلیس کا میوزک خصوصاً ان کے گانے 'سکیری مونسٹر، اور' نائس سپرائٹس' سن کر بہت محظوظ ہوئیں اور اپنے مہمانوں پر زیادہ وقفے سے اور کم تواتر سے حملے کیے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سائنسدانوں کو یہ بھی پتہ چلا کہ جب مچھروں کو میوزک سنایا جا رہا تھا اس وقت ان میں مباشرت کم ہو گئی۔
سائنسدانوں کےاس مشاہدے سے انسانوں کی مچھروں سے بچاؤ کی نئی راہیں کھل گئی ہیں۔
اور اگلی بار جب آپ چھٹیوں پر ہوں اور مچھروں کے ہاتھ زچ ہو رہے ہوں تو آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ مچھروں سے بچاؤ کے لیے آپ کو کونسا میوزک سننا چاہیے۔









