انسداد بدعنوانی کا عالمی دن: کچھوؤں کو بچانے کے لیے بی بی سی کے اشتراک سے’آپریشن ڈریگن‘

،تصویر کا ذریعہWildlife Justice Commission
وائلڈ لائف جسٹس کمیشن نے انسداد بدعنوانی کے عالمی دن کے حوالے سے اپنی ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں خشکی اور پانی پر رہنے والی کچھوؤں کی تجارت میں بدعنوانی اور غیر قانونی خرید و فروخت کے بارے میں نئے شواہد سامنے آئے ہیں۔
ڈبلیو جے سی نے ان تحقیقات کو ’آپریشن ڈریگن‘ کا نام دیا ہے۔ یہ تحقیقات 2016 سے 2018 یعنی دو سال تک جاری رہی اور اس دوران جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا میں ان کچھوؤں کو درپیش خطرات اور ان کی لاکھوں ڈالرز کی غیر قانونی تجارت کے بارے میں معلومات حاصل ہوئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
اس کے علاوہ اس بدعنوانی کے بارے میں بھی معلوم ہوا جو اس طرح کے وائلڈ لائف جرائم کو ہوا دیتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہWILDLIFE JUSTICE COMMISSION
واضح رہے کہ وائلڈ لائف جسٹس کمیشن دنیا بھر میں جنگلی حیات، درختوں اور مچھلیوں کی منظم انداز میں غیر قانونی تجارت کرنے والے نیٹ ورکس ختم کرنے میں مدد کرتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
آپریشن ڈریگن کے دوران ڈبلیو جے سی نے انڈیا کے وائلڈ لائف کرائم کنٹرول بیورو، ڈیپارٹمنٹ آف وائلڈ لائف اینڈ نیشنل پارکس پیننسولرملائشیا اور انٹرپول انوائرمنٹل کرائم پروگرام کے ساتھ مل کر کام کیا۔
اس اشتراک سے ٹھوس نتائج سامنے آئے ہیں جیسے کہ جنگلی حیات کی غیر قانونی خرید و فروخت کرنے والے آٹھ نیٹ ورکس ختم کر دیے گئے، 30 گرفتاریاں ہوئیں اور پانچ غیرقانونی خرید و فروخت کرنے والے پہلے ہی جیل میں ڈال دیے گئے ہیں جبکہ دیگر مشتبہ افراد کو مقدمات کی سماعت کا انتظار ہے۔

،تصویر کا ذریعہWILDLIFE JUSTICE COMMISSION
انتظامیہ نے پالتو جانوروں کی غیر قانونی تجارت کرنے والوں سے چھ ہزار سے زائد زندہ ریپٹائلز (رینگنے والے جاندار) قبضے میں لیے۔
ڈبلیو جے سی کی سینیئر انویسٹیگیشن مینیجر سارا سٹونر کا کہنا ہے کہ ’ڈبلیو جے سی کی جانب سے کی گئی اس خفیہ تحقیقات اور معلومات کے جامع تجزیے سے ایسے اہم شواہد ملے ہیں جس سے انفرادی کردار اور نیٹ ورک کو گہرائی میں سمجھنے میں مدد ملی ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ایسے جرائم سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والے اعلیٰ درجے کی غیر قانونی خرید و فروخت کرنے والوں کو ہدف بنانے میں آسانی ہوئی ہے۔‘
کمیشن کے تفتیش کاروں کو 16 مختلف شہروں سے 20400 سے زائد تازہ پانی اور خشکی میں رہنے والے کچھوے فراہم کیے گئے۔

،تصویر کا ذریعہWILDLIFE JUSTICE COMMISSION
اس آپریشن کے دوران ڈبلیو جے سی کو ان کی قیمت کے بارے میں معلومات بھی حاصل ہوئی ہیں۔ سمگلرز کی اپنی قیمت کی فہرست کے مطابق ان جانوروں کی ہول سیل قیمت 30 لاکھ ڈالرز سے زیادہ ہے، جبکہ ان کی ریٹیل قیمت ممکنہ طور پر زیادہ ہیں۔
یہ اعداد حالیہ قیمتوں کی بنیاد پر مختلف ممالک اور ایک طویل عرصے کے دوران مختلف ڈیٹا پوائنٹس سے حاصل کیے گئے ہیں۔
سارا سٹونر نے مزید بتایا کہ ’ہماری ٹیم نے نایاب اور تازہ پانی کی اہم نسلوں کے کچھوؤں کی غیر قانونی خرید و فروخت میں بھی اضافہ دیکھا ہے۔ ان کی نسل کو درپیش خطرات کے باعث یہ خدشات پائے جاتے ہیں کہ انھیں ان کے مقام سے دور کرنے سے ان کی صحت یابی کی اہلیت پر اثر پڑ سکتا ہے۔‘







