کچھوؤں کے سمگلر کے خلاف مقدمہ چلانےکا حکم

کچھووں کی سمگلنگ کسٹم قوانین اور آئین پاکستان کے آرٹیکل 4 اور 9 کی بھی خلاف ورزی ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنکچھووں کی سمگلنگ کسٹم قوانین اور آئین پاکستان کے آرٹیکل 4 اور 9 کی بھی خلاف ورزی ہے
    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

سندھ ہائی کورٹ نے ایک فیصلے میں کہا ہے کہ آئین پاکستان کے تحت ہر شہری کو صاف ستھرے ماحول، جنگلی حیات اور قدرتی ماحول میں رہنے کا حق حاصل ہے۔

سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس سجاد علی شاہ پر مشتمل بینچ نے یہ فیصلہ جنگلی حیات کے لیے کام کرنے والی عالمی تنظیم ورلڈ وائلڈ فنڈ ، پاکستان اینیمل ویلفئیر سوسائٹی اور شہری نامی تنظیم کی مشترکہ درخواست پر جاری کیا۔

ان تنظیمیوں نے کراچی ایئرپورٹ سے 218 کچھوں کی سمگلنگ میں گرفتار ملزم سجاد چیمہ کی ضمانت اور ان پر صرف محکمہ جنگلی حیات کے قانون کے تحت مقدمہ درج کرنے کے خلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔

ملزم سجاد نے دریائی پانی کے یہ کچھوے بینکاک سمگل کرنے کی کوشش کی تھی۔

کچھوؤں کے تحفظ کے نام سے اس آئینی درخواست میں وفاقی وزارت داخلہ، کلائمیٹ چینج ڈویژن، فیڈرل بورڈ آف ریوینیو ، کسٹم اور محکمہ جنگلی حیات سندھ کو فریق بنایا گیا تھا۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ کچھوؤں کی سمگلنگ کسٹم قوانین اور آئین پاکستان کے آرٹیکل 4 اور 9 کی بھی خلاف ورزی ہے۔ جس کے تحت کوئی بھی کسی شخص کی جان، مال، زندگی اور آزادی کو نقصان نہیں پہنچا سکتا۔

عدالت نے اپنے حکم میں یہ بھی قرار دیا ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں جنگلی حیات بلخصوص کچھوؤں کو تحفظ فراہم کرنے اور ان کی سمگلنگ روکنے میں ناکام رہی ہیں۔

عدالت نے درخواست گذار سے اتفاق کرتے ہوئے دونوں حکومتوں کو حکم جاری کیا کہ ملزمان کے خلاف کسٹم قوانین کی خلاف ورزی کا بھی مقدمہ درج کیا جائے۔

بلیو ڈبلیو ایف کے مطابق پاکستان میں میٹھے پانی کے کچھوں کے آٹھ اقسام پائی جاتی ہیں

،تصویر کا ذریعہRohit Ghosh

،تصویر کا کیپشنبلیو ڈبلیو ایف کے مطابق پاکستان میں میٹھے پانی کے کچھوں کے آٹھ اقسام پائی جاتی ہیں

ہائی کورٹ نے وفاقی اور صوبائی حکومت کو ہدایت جاری کی ہے کہ مقامی جنگلی حیات اور ناپید جانداروں کی سملگنگ کی روک تھام کے لیے ایک جامع منصوبہ شائع کیا جائے تاکہ طرح کے واقعات کو روکا جا سکے۔

وفاقی حکومت کے وکیل نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ کچھوؤں کے تحفظ کے لیے حکومت تمام اقدامات اٹھائے گی۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف کے مطابق پاکستان میں میٹھے پانی کے کچھوؤں کے آٹھ اقسام پائی جاتی ہیں۔ جن میں سے پانچ کا شمار ان میں ہوتا ہے، جن کی بقا خطرے میں ہے اور یہ ماحول کے بقا کے لیے کام کرنا ادارے آئی یو سی این کے ریڈ لسٹ میں شامل ہیں۔ تنظیم کے مطابق ان کچھوؤں کے غیر قانونی سمگلنگ کی جاتی تھی۔

ماہرین کے مطابق پہلے کچھوؤں کی سمگلنگ کا مقدمہ جنگلی حیات کے قوانین کے تحت دائر کیا جاتا تھا۔ جس سے ملزم آسانی سے رہائی حاصل کرلیتے تھے لیکن اس فیصلے کے بعد انہیں کسٹم قوانین کا بھی سامنا کرنا ہوگا۔