انڈیا: انڈمان کے آخری قبائل پر سیاحوں کی نظریں

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا کے انڈمان جزائر میں ایک امریکی شہری کے قتل نے ایک بار پھر قبائلی سیاحت کو بحث کا موضوع بنا دیا ہے۔
جزیر شمالی سینٹینل کے قبائلیوں کا شمار دنیا کے ان آخری چند گروہوں میں ہوتا ہے جن کا بیرونی دنیا سے کوئی رابطہ نہیں۔ گذشتہ ہفتے ایک 27 سالہ امریکی شہری جان ایلن چاؤ اسی قبیلے کے افراد کے ہاتھوں تیروں کا نشانہ بن کر ہلاک ہو گئے تھے۔
پولیس کے مطابق چاؤ نے چھ مقامی مچھیروں کو شمالی سینٹینل تک پہنچانے کے لیے 25000 ہزار انڈین روپے دیے تھے۔ میڈیا میں شائع ہونے والی خبروں کے مطابق چاؤ جزیرے کے افراد کو مسیحی مذہب سے متعارف کروانا چاہتے تھے۔
انڈمان پانچ ایسے قبائل کا گھر ہے جنھیں خاص طور پر ختم ہونے کے خطرے کا سامنا ہے۔ یہ پانچ قبائل جروا، شمالی سینٹینالی، عظیم انڈومانی، اونگے اور شومپن ہیں۔
ان میں سے شمالی سینٹینالی اور جروا کا ابھی تک مرکزی آبادی سے کوئی رابطہ نہیں۔ اور یہی بات انھیں ہر برس اس جزیرے پر آنے والے پانچ لاکھ کے قریب سیاحوں کے لیے دلچسپی اور تجسس کا باعث بنا دیتا ہے۔
اسی برس انڈیا کی وزارت داخلہ نے غیر ملکی سیاحوں کے لیے اس خطے میں 29 جزیروں کی سیر کے لیے خصوصی اجازت نامے کی شرط ختم کر دی تھی۔ تاہم حکام کے مطابق ان سیاحوں کو اب بھی ضلعی انتظامیہ اور محکمہ جنگلات سے اجازت نامہ چاہیے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ان قبائل کو دیکھنے کے لیے سیاح انڈمان کے دارالحکومت پورٹ بلیئر سے بارتنگ تک دو گھنٹے کی بس کی مسافت طے کرتے ہیں جو چونے کی کانوں اور مٹی کے آتش فشاؤں کا گھر ہے۔ اس سفر کے لیے بس کو جروا کے لیے مخصوص ریزرو کے بیچ میں سے گزرنا پڑتا ہے۔
سنہ 2013 میں انڈیا کی سپریم کورٹ نے، ایک ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد جس میں پولیس والے مقامی عورتوں کو سیاحوں کے لیے ناچنے پھر مجبور کر رہے تھے، اس راستے پر سفر کرنے سے منع کر دیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تاہم ریاستی انتظامیہ کی طرف سے آئندہ محفوظ علاقے میں کسی قسم کا کمرشل اور سیاحتی کام نہ کروانے کی یقین دہانی کے بعد عدالت نے یہ فیصلہ واپس لے لیا تھا۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد انتظامیہ نے پورٹ بلیئر اور بارتنگ کے درمیان فیری کا بھی بندوبست کر دیا ہے لیکن سیاح اب بھی زمینی راستے کو ترجیح دیتے ہیں۔
سینٹینلی قبائل
شمالی سینٹینل جزائر کے ساتھ براہ راست رابطے کا کوئی ذریعہ نہیں۔ یہ پورٹ بلییر سے پچاس کلومیٹر مغرب میں واقع ہیں۔ کسی کو وہاں جانے سے روکنے کے لیے کوسٹ گارڈ کڑی نگرانی کرتی ہے لیکن اس کے باوجود مقامی مچھیروں کی مدد سے وہاں جانے کی کوشش کرنے سے باز نہیں آتے۔
انڈیا کی طرف سے ان جزائر کی سیر کے لیے خصوصی اجازت نامے کی شرط کرنے کے فیصلے پر تنقید بھی کی گئی ہے۔ مقامی اخبار انڈمان کرونیکلز کے مدیر ڈینس جائلز کا کہنا ہے کہ حکومت نے یہ فیصلہ یکطرفہ طور پر مقامی لوگوں سے مشورے کے بغیر کیا۔
انھوں نے کہا کہ حکومت کو ایسے اقدامات سے باز رہنا چاہیے جس سے قبائلی سیاحت میں اضافہ ہو۔








