انڈیا: انسانی حقوق کے اقدام پر مایوسی

،تصویر کا ذریعہAmensty
- مصنف, شکیل اختر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی
گذشتہ ہفتے جنیوا میں اقوام متحدہ کی حقوق انسانی کونسل میں انڈیا کے حقوق انسانی کی جائزہ رپورٹ منظور کرلی گئی۔ اس سے پہلے مئی میں رکن ممالک نے انڈیا میں انسانی حقوق کے نظام کو مستحکم اور بہتر کرنے کے لیے 250 مخصوص سفارشات پیش کی تھیں۔
انڈیا نے ان میں سے 152 سفارشات قبول کر لیں لیکن 98 سفارشات کے بارے میں صرف یہ کہا کہ حکومت نے ان سفارشات کو 'نوٹ' کر لیا ہے۔ انڈیا میں کام کرنے والی حقوق انسانی کی تنظیموں نے انڈیا کے اس رویے پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے جنیوا میں جاری کیے گیے ایک بیان میں کہا ہے کہ ہم جنسی کے تعلقات کو جرم کے زمرے سے باہر کرنے، بیوی کے ریپ، اور افریقی نسل کے لوگوں کے خلاف نفرت اور نسل پرستی کے واقعات روکنے سے متعلق سفارشات کو قبول نہ کرنا افسوسناک بات ہے۔
انڈیا نے مسلم اور قبائلی لوگوں پر ہجوم کے تشدد کو روکنے کے لیے بھے کوئی موثر قدم نہیں اٹھایا ہے۔ اس طرح کے واقعات نہ صرف بڑھ رہے ہیں بلکہ ان واقعات میں مرتکبین کو سزائیں بھی نہیں ملتیں۔
حقوق انسانی کی تنظیموں نے سکیورٹی فورسز کو خصوصی اختیارات دینے والے قانون افسپا کو ہٹانے سے متعلق سفارشات بھی تسلیم نہ کیے جانے پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ اس قانون کے تحت سیولین کے حقوق انسانی کی پامالی کے واقعات میں سیکورٹی فورسز کے خلاف کارروائی نہیں کی جا سکتی۔
گذشتہ برسوں میں حکومت نے غیر سرکاری تنظیموں کے لیے کام کرنا انتہائی مشکل کر دیا ہے۔ بالخصوص غیر ممالک سے فنڈ کی فراہمی کا قانون انتہائی سخت کر دیا گیا ہے۔ بہت سی این جی اوز بند ہو چکی ہیں اور بہت سی تنظیمیں حکومت کے سخت دباؤ میں ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اقوام متحدہ میں حقوق انسانی کی کونسل کے بعض ارکان نے انڈیا کو یہ مشورہ بھی دیا تھا کہ وہ بین الاقوامی کرمنل کورٹ کے چارٹر پر دستخط کرے۔ انڈیا نے اسے منظور کرنے کے بجائے صرف اتنا کہا کہ اس نے ان سفارشات کو نوٹ کر لیا ہے۔ بعض ملکوں نے موت کی سزا کو بھی ختم کرنے کا مشورہ دیا تھا جسے انڈیا نے تسلیم نہیں کیا۔
انڈیا نے اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے چارٹر پر بھی دستخط نہیں کیے ہیں۔ حال میں اس نے اعلان کیا تھا کہ انڈیا میں مقیم ہزاروں روہنگیا پناہ گزیں غیر قانونی تارکین وطن ہیں اور انہیں ملک بدر کیا جائے گا۔ حکومت کے اس فیصلے پر اقوام متحدہ میں انڈیا پر تنقید کی گئی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انڈیا کی رپورٹ کو حقوق انسانی کی کونسل میں منظور کر لیا گیا ہے۔ اس موقع پر انڈیا کے حقوق انسانی کے کمیشن نے کہا کہ ملک میں ایک آزاد اور متحرک عدلیہ، فری میڈیا اور ایک الرٹ سول سوسائٹی کی موجودگی کے باوجود حقوق انسانی کا تحفظ ا ایک بڑا چیلنج ہے۔








