جکارتہ: دنیا کا سب سے تیزی سے ڈوبتا شہر

    • مصنف, مایوری مئی لن اور رفیقی ہدایت
    • عہدہ, بی بی سی انڈونیشین
GIF for Jakarta sinking story.

انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ میں قریباً ایک کروڑ شہری رہتے ہیں لیکن یہ شہر دنیا کے تیز ترین ڈوبتے ہوئے شہروں میں سے ایک ہے۔ اور محققین کے مطابق اگر معاملہ ایسے ہی چلتا رہا تو بہت ممکن ہے کہ اس میگا سٹی کے چند حصے پورے کے پورے ڈوب جائیں گے۔ تو کیا اسے روکنے کے لیے بہت دیر ہوگئی ہے؟

جکارتہ دلدل زمین پر قائم ہے جس کے ساتھ جاوا سمندر ہے اور 13 دریا شہر سے گذرتے ہیں تو اس میں ایسی کوئی حیرانی کی بات نہیں ہے کہ یہاں سیلاب اتنی فراوانی سے آتے ہیں۔ لیکن ماہرین کے مطابق اب ان کی تعداد بڑھتی جائے گی اور بات صرف سیلاب کی حد تک نہیں ہے بلکہ شہر بھی آہستہ آہستہ زمین میں ڈوبتا جا رہا ہے۔

Picture of the fishing boats in North Jakarta.

جکارتہ باندُونگ انسٹٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے ہیری آندریاس گذشتہ 20 سال سے جکارتہ کی زمینی تبدیلیوں کے اوپر تحقیق کر رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ 'جکارتہ کا ڈوبنے کا معاملہ کوئی مذاق نہیں ہے۔'

'اگر ہمارے اندازے درست رہے، تو سال 2050 تک جکارتہ شہر کا 95 فیصد حصہ ڈوب جائے گا۔'

Picture of a dike in North Jakarta.

شہر کے باقی حصے بھی سالانہ 15 سینٹی میٹر ڈوب رہے ہیں اور اب نصف سے زیادہ شہر سطح سمندر سے نیچے جا چکا ہے اور یہ تبدیلی شمالی جکارتہ میں سب سے زیادہ نمایاں ہے۔

اس حوالے سے دیکھا جائے تو ہیری آندریاس کی بات درست ہوتی نظر آرہی ہے۔ گذشتہ دس سالوں میں شمالی جکارتہ ڈھائی میٹر ڈوب چکا ہے اور شہر کے چند حصے سالانہ 2.5 سینٹی میٹر ڈوب رہے ہیں۔

شہر کے علاقے موارا بارو میں ایک عمارت مکمل طور پر خالی ہوگئی ہے۔ ایک وقت تھا جب یہاں ایک فشنگ کمپنی کا دفتر تھا لیکن اب یہاں صرف پہلی منزل کا کچھ حصہ ہی زیر استعمال ہے۔

Picture of a sunken building.

گراؤنڈ فلور اب زیر زمین ہو چکا ہے اور ادھر سیلابی پانی بھر گیا ہے۔ کیونکہ یہ حصہ زمین سے نیچے ہے تو یہاں سے پانی نکالنا بھی ممکن نہیں۔

اس جیسی کئی اور عمارتیں ہیں جو ڈوب رہی ہیں لیکن ان کے مالکان کوشش کرتے ہیں کہ مرمت کر کے اسے درست کروا لیا جائے۔ لیکن وہ ان تمام تدبیروں کے باوجود جو چیز وہ درست نہیں کر سکتے وہ ہے دلدلی زمین جو شہر کے اس حصے کو اپنے اندر کھینچ رہی ہے

Picture of a flooded ground floor of the abandoned building.

اس عمارت کے نزدیک ایک مچھلی بازار ہے۔ وہاں اکثر اوقات جانے والے رضوان کہتے ہیں کہ اس مارکیٹ جانے والے راستے اونچے نیچے ہیں اور جن کی وجہ سے لوگ اکثر گر جاتے ہیں۔ ایسا اس لیے ہو رہا ہے کیونکہ زیر زمین پانی کے سطح کم ہوتی جا رہی ہے اور اس کی وجہ سے زمین اپنی ساخت تبدیل کر کے اونچی نیچی ہو رہی ہے۔

Picture of a crack in the foundation of a building.

شمالی جکارتہ تاریخی طور پر ایک پورٹ سٹی ہے جہاں بندرگاہ ہونے کی وجہ سے کافی مصروفیت اور گہما گہمی ہوتی ہے۔ ابھی بھی یہاں انڈونیشیا کی مصروف ترین بندرگاہ تانجنگ پریوک زیر استعمال ہے۔

شمالی جکارتہ میں 18 لاکھ لوگ رہائش پذیر ہیں اور وہ مختلف ذریعہ معاش سے تعلق رکھتے ہیں جیسے بندرگاہ سے منسلک کاروبار کرنے والے، ساحلی کمیونیٹی کے لوگ اور امیر طبقے سے تعلق رکھنے والے چینی انڈونیشین افراد۔

ان میں سے ایک فورچونا صوفیا ساحل سمندر پر قائم اپنے پرتعیش مکان میں رہتی ہیں۔ اس مکان کے ڈوبنے والے حصے واضح تو نہیں ہیں لیکن وہ کہتی ہیں کہ ہر چھ ماہ بعد گھرکی دیواروں اور ستونوں میں دراڑیں پڑ جاتی ہیں۔

Fortuna

"'ہمیں بار بار اس کی مرمت کرنی پڑتی ہے۔ کام کرنے والے مزدور کہتے ہیں کہ مکان کے نیچے کی زمین ہلنے کی وجہ سے ان دیواروں میں دراڑیں پڑتی ہیں۔'

فورچونا اس مکان میں چار سال سے رہ رہی ہیں لیکن یہاں متعدد بار پانی بھر چکا ہے۔

'سمندر کا پانی یہاں کئی بار آچکا ہے اور اس کی وجہ سے میرے مکان کا سوئمنگ پول بھر جاتا ہے اور ہمیں گھر کا سارا سامان پہلی منزل پر لے جانا پڑتا ہے۔'

لیکن اس دلدلی زمین کی وجہ سے ہونے والی تباہی سمندر کے ساتھ قائم چھوٹے مکانات پر زیادہ اثر انداز ہوتی نظر آتی ہے۔ وہ مکین جن کو اپنے گھر سے ساحل سمندر نظر آتا تھا اب انھیں صرف ایک چھوٹا بند نظر آتا ہے جس کی مدد سے سمندری پانی کی آمد روکنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

مہاردی نامی مچھیرے نے بتایا کہ 'ہر سال یہاں لہروں کی اونچائی پانچ سینٹی میٹر بلند ہوتی ہے۔'

لیکن ان تمام حقائق کے باوجود بلڈرز نے اپنا کام جاری رکھا ہوا ہے۔ شمالی جکارتہ کے ساحل پر بلند و بالا عمارتوں کی تعمیر ان خطرات کے باوجود جاری ہیں اور اسے دیکھتے ہوئے انڈونیشیا کی ایسوسی ایشن آف ہاؤسنگ ڈیولیپمینٹ کے رکن ایڈی گنیفو حکومت پر زور دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان نئی تعمیرات کو فوری طور پر روکا جائے۔

لیکن انھوں نے ساتھ ساتھ کہا کہ 'جب تک ان اپارٹمنٹس کی فروخت جاری رہے گی، ان کی تعمیر بھی جاری رہے گی۔'

Map of Indonesia and Jakarta
presentational white space

شمالی جکارتہ کے علاوہ باقی شہر بھی ڈوب رہا ہے لیکن اس کی رفتار قدرے کم ہے۔ دنیا کے دوسرے ساحلی شہروں میں بھی اسی نوعیت کی شکایات ہیں لیکن جکارتہ میں دنیا بھر میں سب سے تیز رفتاری سے یہ عمل دیکھنے میں آ رہا ہے اور ماہرین اس سے کافی پریشان ہیں۔

لیکن دوسری جانب حیرانی اس بات کی ہے کہ شہر کے باسی اس سے زیادہ پریشان نہیں ہیں کیونکہ جکارتہ میں کئی اور بنیادی مسائل ہیں جن سے وہ روزانہ نپٹ رہے ہوتے ہیں۔

جکارتہ کے مسائل میں سے ایک بڑا مسئلہ زیر زمین پانی کا ہے جسے نکالنے کے لیے زمین میں کھدائی کی جاتی ہے کیونکہ پانی کی سپلائی موثر نہیں ہے۔ اس مسلسل کھدائی کے نتیجے میں زمین کی سطح دھنس جاتی ہے۔

،ویڈیو کیپشنجکارتہ کیوں ڈوب رہا ہے؟

اس حقیقت کے باوجود، شہری قوانین کے مطابق کسی بھی شخص اور ادارے کو پانی کے حصول کے لیے کھدائی کی پوری اجازت ہے۔

ہیری آندریاس اس بارے میں کہتے ہیں کہ 'پانی نکالنے کا حق تمام لوگوں کو ہے اگر وہ قواعد کی پابندی کریں لیکن ایسا ہوتا نہیں ہے اور ہر کوئی دی گئی اجازت سے تجاوز کرتا ہے۔'

عوام ک کہنا ہے کہ ان کے پاس زیر زمین پانی نکالنے کے لیے کھدائی کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں ہے کیونکہ حکومت ان کو پانی پوری طرح فراہم نہیں کرتی اور شہر کی صرف 40 فیصد ضروریات کا پانی دیا جاتا ہے۔

Picture of a water pump.

،تصویر کا ذریعہAFP

جکارتہ کے ایک رہائشی اور مالک مکان ہینڈری گذشتہ دس سالوں اپنے گھر کے لیے زیر زمین پانی استعمال کرتے ہیں تاکہ ان یہاں رہنے والے ان کے کرائے داروں کو پانی مل سکے۔

'خود سے پانی حاصل کرنا زیادہ بہتر ہے بجائے حکومت پر بھروسہ کرنے کے۔'

جکارتہ کی مقامی حکومت نے صرف حال ہی میں اعتراف کیا ہے کہ زیر زمین کھدائی کے ذریعے غیر قانونی طور پر پانی حاصل کیا جا رہا ہے۔

مئی میں حکومت نے جکارتہ کے وسطی حصے میں 80 عمارتوں کا معائنہ کیا جہاں یہ پتہ چلا کہ 56 بڑی عمارتوں میں زیر زمین پانی حاصل کرنے کی مشینیں لگی ہوئی تھیں جن میں سے 33 غیر قانونی طور پر پانی حاصل کر رہی تھیں۔

جکارتہ کہ گورنر انیس بسویدن نے کہا کہ پانی نکالنے کے لیے لائسنس ہونا لازمی ہوگا جس سے یہ معلوم ہو سکے گا کہ کس نے کتنا پانی نکالا ہے اور جس نے لائسنس کے بغیر پانی نکالا تو ان کے کاروبار اور عمارت کا اجازت نامہ منسوخ کر دیا جائے گا۔.

Picture of skyscrapers in Central Jakarta

،تصویر کا ذریعہAFP

حکام کا ارادہ ہے کہ چار ارب ڈالر کی مالیت سے گریٹ گروڈا نامی سمندری دیوار اور 17 مصنوعی جزائر تعمیر کرنے سے وہ شہر کو ڈوبنے سے بچا سکتے ہیں۔

اس منصوبے کے لیے نیدرلینڈز اور جنوبی کوریا کی حکومتیں انڈونیشیا کی حکومت سے تعاون کر رہی ہیں۔

Aerial picture of Jakarta's giant sea wall

،تصویر کا ذریعہGetty Images

لیکن نیدرلینڈز سے تعلق رکھنے والی تین کمپنیوں نے اس منصوبے کے بارے میں رپورٹ شائع کی جس میں انھوں نے اس کے فوائد پر شکوک کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ شاید جکارتہ میں زمین کے دھنس جانے کے مسئلہ کا حل نہ فراہم کر سکیں۔

ڈچ ماہر جان جاپ برنک مین نے کہا کہ یہ منصوبہ صرف عارضی طور پر کوئی فائدہ دے سکتا ہے اور جکارتہ میں زمین کے دھنس جانے کے مسئلہ کو صرف 20 سے 30 سال تک آگے بڑھا سکتا ہے لیکن ختم نہیں کر سکتا۔

'سب جانتے ہیں کہ اس مسئلے کا واحد حل ہے اور وہ کیا ہے۔'

Picture of the unfinished construction of the sea wall

،تصویر کا ذریعہGetty Images

وہ حل ہے کہ سارے شہر میں پانی کی کھدائی پر مکمل پابندی لیکن اس حل پر نہ کوئی عمل ہو رہا ہے اور جکارتہ کے گورنر کے نزدیک اتنا سخت قدم اٹھانا مناسب نہیں ہوگا۔

Picture of the Citarum river filled with rubbish

،تصویر کا ذریعہAFP

ان کا کہنا ہے کہ غیر قانونی طور پر پانی حاصل کرنے کے بجائے بایوپوری نامی طریقے سے پانی حاصل کریں۔

اس عمل کے ذریعے زمین میں مخصوص پیمائش کے مطابق سوراخ کیا جائے تاکہ پانی اس کے ذریعے واپس مٹی میں مل سکے۔

ناقدین کہتے ہیں کہ اس کے ذریعے صرف تھوڑا سا ہی پانی واپیس جائے گا جبکہ جکارتہ میں پانی نکالنے کے لیے کئی سو میٹر تک کھدائی کرنی پڑتی ہے۔

Picture of a dike in North Jakarta.

ایسی ٹیکنالوجی موجود ہے جو زیر زمین پانی کو نکالنے کے بعد بحال کر سکے لیکن وہ نہایت مہنگی ہے۔

جکارتہ کے مسئلہ کے حل کے لیے دوسرے ذرائع ضروری ہیں۔

ہینری آندریاست کہتے ہیں کہ جکارتہ کے دریا، ڈیمز اور جھیلیں صاف کرنے میں دس سال لگیں گے جس کے بعد اسے زیر زمین پانی کے نعم البدل کے طور پر کسی بھی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکے گا۔

Joko Widodo

،تصویر کا ذریعہBiro Pers Setpres

جکارتہ کے شہری اس معاملے کو تقدیر پر ڈالنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

فورچونا صوفیا کہتی ہیں: 'یہاں رہنا خطرناک ہے۔ اور یہاں کے لوگ اس خطرے کے عادی ہو چکے ہیں۔'

اضافی رپورٹنگ کے لیے ٹام ڈی سوزا