جہاں ایک ایک سیکنڈ اہم ہو وہاں ایک ایموجی سے فرق پڑ سکتا ہے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کسی بحرانی صورت حال میں شاید ایموجی آپ کی گفتگو کی پہلی سطر نہیں ہو سکتی۔
لیکن محققوں کا کہنا ہے کہ زلزلے جیسی صورتحال میں جہاں ایک ایک سیکنڈ کی اہمیت ہوتی ہے وہاں ایک ایموجی سے فرق پڑ سکتا ہے۔
سائنسدانوں کے ایک بین الاقوامی گروپ نے یونی کوڈ سیٹ میں زلزلے کی ایموجی کے شامل کیے جانے پر زور دینا شروع کیا ہے۔
خیال رہے کہ دنیا بھر میں معیاری ڈیجیٹل ڈیوائسز پر مختلف صورتحال کو پیش کرنے کے لیے ایموجیز بنے ہوئے ہیں۔
لیکن کیا بحرانی صورتحال میں ایک ایموجی سے فرق پڑ سکتا ہے؟
ساؤتھیمپٹن یونیورسٹی میں زلزلہ کے ماہر اور زلزلے کے لیے ایموجی مہم کے بانی ڈاکٹر سیٹفن ہکس نے وضاحت کی کہ 'دنیا کی تقریباً ایک تہائی آبادی کو کسی نہ کسی قسم کے زلزلے کے خطرات درپیش ہیں۔ ایسے میں ہم مختلف زبانوں والے ان علاقوں سے کچھ کہنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے ایک ایموجی حیرت انگیز چیز ہوگی۔'
اس مہم میں زلزلے کی مناسبت سے ایک مناسب ڈیزائن کی تلاش ہے تاکہ اسے یونی کوڈ میں جمع کیا جاسکے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
امریکہ کی جیولوجیکل سروے میں کمیونیکیشن کی ماہر ڈاکر سارہ میکبرڈی بھی اس مہم کا حصہ ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے بی بی سی کو بتایا: 'ایموجی تحریری زبانوں کی سرحدوں کو عبور کرتا ہے اور ایسے لوگوں سے رابطہ کرنے میں مدد کرتا ہے جو کسی خاص زبان کو پڑھنے سے قاصر ہیں۔۔۔۔ (یہ) ہمیں پیچیدہ خطرات کو زیادہ لوگوں تک زیادہ تیزی کے ساتھ پہنچانے میں مدد کرتا ہے۔'
زلزلہ ہی کیوں؟
ڈاکٹر ہکس نے کہا: 'زلزلہ کے ساتھ یہ پریشانی ہے کہ یہ بہت پیچیدہ ہے۔ یہ ایک طرح سے پوشیدہ ہے۔ یہ کسی سمندری طوفان یا آتش فشاں کی طرح بہت واضح نہیں ہے۔'
دوسرے موسمیاتی اور ماحولیاتی واقعات جن میں زیادہ وقت ملتا ہے اور جن کی واضح علامات ہیں ان کے مقابلے میں زلزلہ بہت تیزی کے ساتھ وقوع پزیر ہوتا ہے اور جب یہ ہو رہا ہوتا ہے اس وقت اس کا ماپنا بھی بہت مشکل ہے۔

،تصویر کا ذریعہJMA
جاپان اور میکسیکو میں رہنے والے لوگ زلزلے کی تیز وارننگ پر بھروسہ کرتے ہیں جو ان تک ان کے ڈیجیٹل ڈیوائسز یا نشریات کے ذریعے پہنچائی جاتی ہیں۔
ڈاکٹر ہکس کہتے ہیں کہ 'آپ کو خود کو بچانے کی خاطر میز کے نیچے جانے کے لیے چند سیکنڈ ملتے ہیں۔ بہت سے معاملات میں یہ جان بچانے والا عمل ہو سکتا ہے۔ اور اگر آپ اس کا الرٹ جاری کریں تو آپ بہت زیادہ الفاظ کا استعمال نہیں کریں گے۔'
یہ بھی پڑھیے
نسبتاً نئی علامتی زبان ہونے کی وجہ سے ایموجی کے متعلق کوئی قطعی مطالعہ نہیں ہوا کہ ناگہانی صورت حال میں اس پر حرکت میں آنے کے لیے کتنا وقت لگتا ہے۔
بہر حال تصویری اور بصری مواد کا ماضی کا ریکارڈ رہا ہے کہ وہ تحریری اطلاعات سے زیادہ تیز اور آسان ہے۔ اسی لیے ہوائی جہاز کی سیٹ کے پیچھے سیفٹی کارڈ تصویری ہوتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ڈاکٹر میک برڈی کہتے ہیں کہ 'بعض مطالعوں میں یہ معلوم چلا ہے کہ ایموجی کے استعمال سے ذہنی طور پر معلومات کو سمجھنے میں کم وقت لگتا ہے۔'
تاہم وہ کہتے ہیں کہ ہیں کہ 'ہمیں ہمیشہ زیادہ معلومات چاہیے ہوتی ہے۔'
اس لیے ایموجی نہ صرف وارننگ کے نظام میں اہم کردار ادا کرے گا بلکہ یہ ماہر زلزلہ کو اس بات میں بھی مدد کرے کہ زلزلہ کہاں اور کب آیا ہے۔
ابھی لوگ اپنی زبان میں یہ مواد بھیجتے ہیں کہ 'کیا ابھی ہم نے زلزلہ محسوس کیا؟'
لیکن دنیا بھر میں اگر ایک زلزلے کی ایموجی کا استعمال ہوتا ہے تو اس سے اس کے بہت سے متبادل سے بچا جا سکتا ہے۔










