مشاہد اللہ: سیلابی پانی کے لیے زیر زمین ٹینک بنانے کے منصوبے پر چین سے بات کی ہے

- مصنف, نازش ظفر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کے وفاقی وزیر مشاہد اللہ خان نے کہا ہے کہ ایک اندازے کے مطابق پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کم کرنے اور اس سے مطابقت پیدا کرنے کے لیے سالانہ 54 ارب ڈالر کی ضرورت ہے جبکہ صرف سی پیک منصوبے کی کل مالیت 56 ارب ڈالر ہے۔
پاکستان کا شمار ان ترقی پذیر ممالک میں ہے جو خود کاربن کے اخراج سے موسمیاتی تبدیلی کی وجہ نہیں بن رہے لیکن اس امر سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ اس اثر کو کم کرنے کے لیے درکار اخراجات پورے کرنا بھی پاکستان جیسے ملک کے بس کی بات نہیں۔
مشاہد اللہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی ایک عالمی نوعیت کا مسئلہ ہے اور پاکستان جیسے ملک کو اپنا کردار ادا کرنے کے لیے انھی امیر ممالک کی مالی مدد درکار ہے جو خود کاربن کے اخراج کے ذمہ دار ہیں۔
موسمیاتی تبدیلی کی وزارت نے چین سے زیر زمین پانی کے ٹینک بنانے کے منصوبے کے لیے ابتدائی بات چیت کی ہے۔ اس تکنیک کے تحت سیلابی پانی کو محفوظ کر کے بوقت ضرورت استعمال کیا جا سکتا ہے۔
مشاہد اللہ کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان ان چند ممالک میں سے ہے جنھوں نے موسمیاتی تبدیلی کے لیے الگ وزارت بنائی اور وفاقی بجٹ میں اس کے لیے آٹھ فیصد بجٹ کا مختص ہونا بھی بڑی بات ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کی وزارت کے ماحول کی بہتری کے لیے قابل ذکر عملی اقدام کے بارے میں سوال پر ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کے گرین پاکستان پروگرام کے تحت دس کروڑ درخت لگائے گئے جبکہ اسلام آباد میں گھر گھر شجر پروگرام کے تحت طلبا سے درخت لگوائے گئے۔
اس ضمن میں انھوں نے خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کے بلین ٹری سونامی پروگرام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا میں ایک ارب 22 کروڑ درخت واقعی لگے ہوتے تو پشاور میں اس وقت برفباری ہو رہی ہوتی، اور اس پر وہ تحریک انصاف کو سیلیوٹ کرتے۔
کراچی میں 2015 کے بعد اس سال بھی گرمی کی شدید لہر کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ 2015 میں ہلاکتوں کی تعداد ہزاروں میں تھی، اس سال بھی گرمی کی لہر سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدام دیکھنے میں نہیں آئے۔
اس حوالے سے سوال پر مشاہد اللہ کا کہنا تھا کہ ان کی وزارت کے تحت آگاہی مہم چلائی گئی اگرچہ یہ ان کی انتظامی ذمہ داریوں میں شامل بھی نہیں تھا۔

،تصویر کا ذریعہAmeen Aslam
گلیشیئر پگھلنے، سمندری سطح بڑھنے اور سیلابی صورتحال سے زرعی اراضی زیر آب آنے کا امکان پاکستان کے لیے ایک مستقل خطرہ ہے۔
مشاہد اللہ کا کہنا تھا کہ دنیا میں موسمیاتی تبدیلی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے گزشتہ دو دہائیوں کے دوران تیزی سے کام ہوا ہے۔ پاکستان میں بھی رد عمل موجود ہے لیکن مزید کام کرنے کی ضرورت یقیناً ہے۔












