ڈیڑھ صدی بعد چاند گرہن، بلیو اور سپر مون کا نظارہ

،تصویر کا ذریعہAFP
دنیا بھر میں بدھ کی رات آسمان پر ایک انوکھا منظر دیکھا جا رہا ہے جب تین قمری واقعات ایک ساتھ رونما ہو رہے ہیں۔
بدھ کو نہ صرف چاند گرہن ہوا بلکہ مہینے کا دوسرا مکمل چاند زمین سے سب سے کم فاصلے پر بھی ہے۔
اس واقعے کو 'سپر بلیو بلڈ مون' یعنی بڑا نیلگوں اور خونی چاند کا نام دیا گیا ہے۔
چاند گرہن 10 بج کر 51 منٹ جی ایم ٹی پر شروع ہوا اور اس کا اختتام 16 بج کر آٹھ منٹ جی ایم ٹی پر ختم ہو گا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
مغربی نصف کرۂ زمین پر رہنے والے اس کا نظارہ زیادہ بہتر طور پر کر سکیں گے۔ آخری مرتبہ اس نوعیت کا منظر دنیا میں بسنے والوں نے 1866 میں دیکھا تھا۔
'سپر بلیو بلڈ مون' یا عظیم نیلگوں خُونی چاند دراصل نیلے چاند کا ہی نتیجہ ہوتا ہے۔
نیلگوں چاند تو اس مہینے میں دوسری مرتبہ طلوع ہو گا لیکن گرہن کی وجہ سے چاند پر پڑنے والا زمین کا عکس سرخ رنگ کا نظر آئے گا اور اسی وجہ سے اسے بلڈ مون یا خونی چاند بھی کہا جاتا ہے۔
زمین اور چاند کا فاصلہ سات فیصد کم ہونے کی وجہ سے چاند معمول سے 14 فیصد زیادہ روشن ہو گا اور یہ معمول سے بڑا نظر آے گا ۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
امریکہ میں ستاروں کے مشاہدے کے شوقین افراد نے اس نیلگوں خونی چاند کا نظارہ بدھ کو علی الصبح طلوع آفتاب سے پہلے کیا۔
اس سے قبل واشنگٹن میں امریکی خلائی ادارے ناسا کے ہیڈ کوارٹر کے ماہر گورڈّن جونٹسن نے کہا تھا کہ یہ چاند امریکہ کے مغربی حصہ الاسکا اور ہوائی میں سب سے واضح دکھائی دے گا۔ انھوں نے ایک سرکاری بیان میں کہا کہ شمال مغربی امریکہ، الاسکا اور ہوائی 31 جنوری کو چاندنی میں نہا جائیں گے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
ناسا کا کہنا ہے کہ گرہن کی وجہ سے ماہرین اس بات کا مشاہدہ بھی کر سکیں گے کہ جب چاند کی سطح تیزی سے ٹھنڈی ہوتی ہے تو اس کے کیا اثرات ہوتے ہیں۔
امریکی یونیورسٹی کولاراڈو بولڈر میں خلا اور زمینی فضا کے ماہرین پال ہینی کا کہنا ہے کہ تھرمل کیمروں سے چاند کو دیکھنے سے یہ بالکل مختلف نظر آئے گا۔
چاند کو تاریکی میں دیکھنے سے اس کے خدوخال مزید واضح ہو جائیں گے اور چاند کے وہ حصے جو عام طور پر دیکھے نہیں جا سکتے وہ قدر واضخ نظر آئیں گے کیونکہ چاند کی گھاٹیوں کے ارد گرد چٹانیں چمکتی ہوئی دکھائی دیں گی کیونکہ انھیں سرد ہونے میں وقت لگے گا جب کہ گھاٹیاں جلد سرد پڑ جائیں گی۔
۔










