آتش فشانی حلقے کی سرگرمی معمول کے مطابق ہے: سائنس دان

،تصویر کا ذریعہDEIMOS IMAGING
امریکہ کی ریاست الاسکا میں گذشتہ ہفتے آنے والے زلزلے اور آتش فشاں نے دسویں ہزاروں افراد کی زندگی کو متاثر کیا۔
یہ زلزلہ جاپان اور فلپائن میں آتش فشاں پھٹنے کے واقعات چند دنوں کے دوران رونما ہوا۔ اس تمام خطے کو ’آتش فشانی حلقہ‘ یا ’رنگ آف فائر‘ قرار دیا گیا ہے۔
ان واقعات کے بعد اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے ڈزاسٹر رسک ریڈکشن نے منگل کی صبح ایک ٹویٹ کی جس میں بتایا گیا کہ اس خطے میں یہ حلقہ فعال ہو گیا ہے۔ اس ٹویٹ کے بعد متعدد افراد یہ پوچھ رہے ہیں کہ آیا یہ بات تشویش کا سبب ہے کہ کچھ بھی سنگین ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
واضح رہے کہ انڈونیشیا کے جزائر جس جگہ موجود ہیں انھیں 'رنگ آف فائر' بھی کہا جاتا ہے کیونکہ وہاں پر زیر زمین پلیٹیں اکثر آپس میں ٹکراتی ہیں جس کی وجہ سے وہاں پر زلزلے اور آتش فشاں کا خطرہ رہتا ہے۔
ایک محتاط اندازے کے مطابق 90 فیصد آتش فشاں اس علاقے کے آس پاس ہوتے ہیں اور یہاں دنیا کے 75 فیصد فعال آتش فشاں اور 452 فعال پہاڑ ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
امریکی ریاست الاسکا کے ساحل پر رواں ہفتے 7.9 کی شدت کا زلزلہ آیا۔ اس زلزلے کے بعد الاسکا کے ساحلی کنارے کے علاقوں اور کینیڈا میں برٹش کولمبیا کے لیے تھوڑی دیر کے لیے سونامی کی وارننگ جاری کی گئی۔ اس روز جاپان میں ایک سپاہی ہلاک اور کم از کم 11 افراد زخمی ہو گئے تھے۔
انڈونیشیا میں گذشتہ سال ماؤنٹ آگنگ کے آتش فشاں پھٹنے سے شہر کا بین الاقوامی ہوائی اڈا بند کر دیا گیا اور ایک لاکھ سے زیادہ افراد کو وہاں سے نکالا گیا۔
سماٹرا سے 3,000 کلومیٹر دور واقع سینابنگ کی پہاڑی سنہ 2010 میں آتش فشاں اگلنے سے پہلے 400 سال تک خاموش رہی۔
سنہ 2016 میں اس علاقے گرم راکھ اور گیس کے اخراج کے باعث کم سے کم سات افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ سینابنگ کی پہاڑی نے سنہ 2017 میں دوبارہ آتش فشاں اگلنا شروع کر دیا جو اب تک جاری ہے۔
لیکن آسٹریلیا کی کرٹن یونیورسٹی میں جیالوجی کے ماہر پروفیسر کرس ایلڈرز کا کہنا ہے کہ سینابنگ کی پہاڑی کا آتش فشاں اگلنا باکل نارمل ہے۔
انھوں نے بی بی سی کو بتایا ’اس وقت ہم جو دیکھ رہے ہیں وہ غیر معمولی نہیں ہے۔‘
ان کے مطابق ’خطے کے مختلف حصوں میں ایک ہی وقت میں ایسا ہوتا ہے اور اس کے درمیان کوئی تعلق نہیں ہے۔‘
پروفیسر کرس ایلڈرز کا کہنا ہے کہ خطے میں آتش فشانی اور ٹیکٹونک ایکٹویٹی سینکڑوں ہزاروں سال سے جاری ہے۔‘








