جرمنی میں سوشل میڈیا سائٹس پر نفرت آمیز مواد کے خلاف قانون

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جرمنی میں ایک ایسا قانون لاگو کیا جا رہا ہے جس کے تحت سوشل میڈیا کی سائٹس سے مطالبہ کیا جائے گا کہ وہ فوری طور پر اپنی سائٹس سے نفرت آمیز مواد، چھوٹی خبریں اور غیر قانونی مواد ہٹا دیں۔
وہ سائٹس جو ’ظاہری طور پر غیر قانونی‘ پوسٹس کو نہیں ہٹائیں گی انھیں پانچ کروڑ یورو تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔
مزید پڑھیئے
اس قانون کے مطابق ان نیٹ ورکس کو پہلے بتایا جائے گا کہ وہ غیر قانونی مواد دکھا رہے ہیں اور اس کے بعد ان کے پاس 24 گھنٹے ہوں گے کہ وہ اسے اتار دیں۔
وہ سوشل نیٹ ورکس اور میڈیا سائٹس جن کے ممبر 20 لاکھ سے زیادہ ہیں اس قانون کی زد میں آئیں گے۔
فیس بک، ٹوئٹر اور یو ٹیوب اس قانون کی بنیادی توجہ کا مرکز رہیں گے لیکن ممکن ہے کہ اس کا ادراک ریڈیٹ، ٹمبلر اور روسی سوشل نیٹ ورک ’وی کے‘ پر بھی ہو۔ دوسری سائٹس جیسا کہ ویمیو اور فلکر بھی اس کی زد میں آ سکتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
’نیٹز ڈی جی‘ قانون جون 2017 میں پاس کیا گیا تھا اور گذشتہ سال اکتوبر میں اس پر عمل درآمد شروع ہوا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سوشل نیٹ ورکس کو 2017 کے آخر تک کا وقت دیا گیا تھا کہ وہ نیٹز ڈی جی کے لیے اپنے آپ کو تیار کر لیں۔
اطلاعات کے مطابق فیس بک نے جرمنی میں کئی سو افراد کو ملازمت دی ہے کہ وہ اس مواد کی نشاندہی کر سکیں جو نیٹز ڈی جی کی خلاف ورزی کرتا ہے اور اس بات کو بھی اچھی طرح مانیٹر کر سکیں کہ لوگ کیا پوسٹ کر رہے ہیں۔
تاہم جرمنی میں اس قانون کو ایک متنازع حیثیت بھی حاصل ہو گئی ہے۔ کچھ کا خیال ہے کہ اس سے نادانستہ طور پر سینسرشپ یا اظہارِ رائے پر پابندی کو فروغ ملے گا۔










