’نفرت انگیز مواد‘ کی تقسیم پر دو افراد کو چھ سال قید

- مصنف, ذیشان حیدر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر فیصل آباد میں انسدادِ دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے فرقہ وارانہ اور نفرت انگیز مواد کی تقسیم کے جرائم میں دو افراد کو چھ ، چھ سال قید اور دو لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی ہے۔
انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں تعینات اہلکار شیر زمان نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ منگل کو جن دو افراد کو سزا سنائی گئی ان میں چنیوٹ سے تعلق رکھنے والے رمضان سلام اور عامر محمد شامل ہیں۔
ان دونوں افراد کا تعلق ایک کالعدم تنظیم سے بتایا گیا ہے۔
اہلکار کا کہنا تھا ان پر رواں برس اکتوبر میں ایک مذہبی اجتماع کے دوران اس تنظیم کے مواد کی تشہیر اور نفرت انگیز مواد بانٹنے کے الزامات تھے۔
شیر زمان نے بتایا کہ جج نے انھیں انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ نو کے علاوہ دفعہ 11 ڈبلیو کے تحت سزا سنائی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کے مطابق دونوں مجرمان کو چھ، چھ سال قید کی سزا دی گئی ہے تاہم دونوں سزائیں ساتھ شروع ہونے کی وجہ سے انھیں تین برس کا عرصہ جیل میں کاٹنا ہوگا۔
اہلکار کا کہنا تھا کہ اگر یہ دونوں جرمانے کی ادائیگی میں ناکام رہے تو انھیں مزید ایک سال قید بھگتنی ہوگی۔
خیال رہے کہ پاکستان میں نفرت انگیز مواد کی تشہیر پر سزائیں دیے جانے کے عمل میں حالیہ چند ماہ میں تیزی آئی ہے۔
فیصل آباد کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے ہی گذشتہ چند ہفتوں کے دوران فیس بک اکاؤنٹ پر بظاہر نفرت انگیز مواد پوسٹ کرنے کے جرم میں ایک شخص کو 13 سال جبکہ ایک اور ملزم کو پانچ سال قید کی سزا سنائی تھی۔
اسی طرح کے ایک اور مقدمے میں کچھ عرصہ قبل اہل سنت والجماعت کے سابق صدر مفتی تنویر کو چھ مہینے قید کی سزا سنائی گئی تھی۔







