دبئی کے پل اور بس سٹاپ بنیں گے تھری ڈی پرنٹنگ سے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
دبئی کی روڈ اینڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی (آر ٹی اے) نے اعلان کیا ہے کہ وہ پیدل چلنے والوں کے پل، بس سٹاپ اور سمندر میں واقع ٹرانسپورٹ سٹیشن بنانے کے لیے تھری ڈی پرنٹنگ کی ٹیکنالوجی استعمال کرے گی۔
ادارے کی طرف سے جاری کردہ ایک پریس ریلیز کے مطابق یہ دبئی حکومت کی جانب سے شہر کو 'سمارٹ سٹی' بنانے کی جانب ایک اور قدم ہے۔
اس مقصد کے لیے دبئی کی حکومت نے جرمن کمپنی سیمنز کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ مفاہمت کی یادداشت کے مطابق 'تھری ڈی پرنٹنگ کی مدد سے تعمیرات میں استعمال ہونے والے حصوں کی دستیابی آسان ہو جائے گی، وہ جلد ٹوٹ پھوٹ کا شکار نہیں ہوں گے، اور انھیں زیادہ بہتر طریقے سے ڈیزائن کیا جا سکے گا۔
'اس سے دبئی کے تین برس کے اندر دنیا کا سب سے سمارٹ شہر بننے کے عزم کو تقویت ملے گی، جس سے دبئی کے شہری اور سیاح مزید خوش و خرم اور مطمئن ہوں گے۔'
دبئی کے ریل پروجیکٹ پلاننگ اینڈ ڈیویلپمنٹ کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر عبدالردا عبدالحسن نے کہا: 'تھری ڈی پرنٹنگ ٹیکنالوجی دنیا بھر میں تیزی سے پھل پھول رہی ہے اور آر ٹی اے اس ٹیکنالوجی کے استعمال میں سرِ فہرست رہنا چاہتی ہے۔'
دبئی کے علاوہ ابوظہبی میں بھی تھری ڈی پرنٹنگ پر کام ہو رہا ہے۔ چند ماہ قبل یہ خبر سامنے آئی تھی کہ اتحاد ایئر ویز سیمنز کے ساتھ مل کر اپنے طیاروں کے اندر کا حصہ تھری ڈی پرنٹنگ کی مدد سے بنانے پر کام کر رہے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہEPA
یاد رہے کہ اکتوبر میں نیدرلینڈز میں 'دنیا کے پہلے تھری ڈی سے بنے پُل' کا افتتاح کیا گیا تھا۔
یہ پُل صرف 26 فٹ لمبا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس کی تعمیر میں تین ماہ لگے۔
حکام کا کا مزید کہنا ہے کہ تھری ڈی سے بنے اس پُل کا فائدہ یہ ہے کہ عام طریقے سے تعمیر پُل کے مقابلے میں اس میں سیمنٹ بہت کم لگا ہے۔ 'تھری ڈی صرف اس وقت سیمنٹ جمع کرتا ہے جب ضرورت ہوتی ہے۔'
حکام کا مزید کہنا ہے کہ یہ پُل دو ٹن تک کا وزن برداشت کر سکتا ہے۔










