دولتِ اسلامیہ سوشل میڈیا کی جنگ کیسے لڑ رہی ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے جنگجو بہت سے محاذوں پر لڑ رہے ہیں جن میں سے ایک ڈیجیٹل محاذ ہے۔
دولتِ اسلامیہ یہ بھی جنگ بھی اس تندہی سے لڑتی ہے جتنی میدان میں اور اپنے ڈیجیٹل کارکنوں کو 'میڈیا شہید' قرار دیتی ہے۔
دوسری شدت پسند تنظیموں کی طرح دولتِ اسلامیہ بھی ویب اور سوشل میڈیا کا بڑھ چڑھ کر استعمال کرتی ہے، اور انھیں اپنی کامیابیوں کی تشہیر اور بھرتی کے آلے کے طور پر برتتی ہے۔
ستمبر 2015 میں دولتِ اسلامیہ کی آن لائن سرگرمیوں میں اس وقت ایک اہم موڑ آیا جب اس نے ٹیلی گرام نامی میسجنگ ایپ استعمال کرنا شروع کر دی۔
اصل میں ٹوئٹر نے دولتِ اسلامیہ کے اکاؤنٹ بند کرنا شروع کر دیے تھے۔ اس کے مقابلے پر ٹیلی گرام زیادہ محفوظ تھی کہ اس کے پیغامات انکرپٹڈ ہوتے ہیں۔
اسی دوران ٹیلی گرام نے 'چینل' نامی فیچر شروع کر دیا تھا جس کے تحت ایک صارف لاتعداد دوسرے صارفین کو پیغام بھیج سکتا ہے۔ جہادیوں نے جلد ہی اسے اپنے مقاصد کی خاطر استعمال کرنا شروع کر دیا۔
تاہم ٹیلی گرام نے بھی دولتِ اسلامیہ کے اکاؤنٹ بند کر دیے جس کے بعد سے اس تنظیم کو زیرِ زمین جانے پر مجبور ہونا پڑا۔
تاہم دولتِ اسلامیہ کے کارکنوں نے بہت سے مِرر چینل کھول رکھے ہیں اور وہ آفیشل چینل پر دیے گئے پیغامات کو بار بار دہراتے رہتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہNASHIR/NASHIR NEWS AGENCY
یہ 'مِرر' چینل دولتِ اسلامیہ کی کارروائیوں کو بارے میں بیک وقت مواد کی سٹریمنگ کرتے رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ دولتِ اسلامیہ کی نیوز ایجنسی اعماق کی خبریں بھی نشر ہوتی رہتی ہیں۔
ان مرر چینلوں کو ناشر نیوز ایجنسی کہا جاتا ہے، اور یہ بھی معطل ہوتے رہتے ہیں۔
اس کا توڑ کرنے کے لیے دولتِ اسلامیہ کے کارکن ایک عام سا چینل کھولتے ہیں اور جب اس کے فالوورز کی تعداد کافی ہو جائے تو اچانک انھیں دولتِ اسلامیہ کے چینلوں میں تبدیل کر دیتے ہیں۔
یہ چینل دولتِ اسلامیہ میں بھرتی کے بارے میں لنک دیے جاتے ہیں اور فالوورز سے کہا جاتا ہے کہ وہ اسے آگے نشر کر دیں۔
عام طور پر ایسے چینلوں کے فالوورز کی تعداد ایک ہزار سے بڑھ جائے تو انھیں بند کر دیا جاتا ہے، تاہم اس سے خاصے لوگوں تک رسائی ممکن ہو جاتی ہے اور وہ اپنا پیغام مطلوبہ ناظرین تک پہنچا دیتے ہیں۔
ٹیلی گرام میں جامع سرچ کی آپشن نہیں ہے، اس لیے دولتِ اسلامیہ کے چینلوں کو تلاش کرنا آسان نہیں۔
اپریل کے وسط میں ناشر ایجنسی نے اعلان کیا تھا کہ اس کے مرر اکاؤنٹوں کی تعداد ایک سو ہو گئی ہے۔
اس کے بعد ناشر ایجنسی کی کامیابیوں کے 12 ماہ مکمل ہونے کا جشن منایا گیا۔ اس مہم کے دوران لوگوں سے کہا گیا کہ وہ مضامین اور تصاویر بھیجیں جن میں دولتِ اسلامیہ کے کام کو سراہا گیا ہو۔

،تصویر کا ذریعہIS PROPAGANDA
بڑی تعداد میں لوگوں نے ایسا ہی کیا۔
بی بی سی نے ٹیلی گرام سے دولتِ اسلامیہ کی سرگرمیوں کے بارے میں پوچھا لیکن اس کا جواب نہیں ملا۔
تاہم اس نے کہا ہے کہ وہ گذشتہ دسمبر سے دولتِ اسلامیہ کے حامیوں کے چینل بند کر رہی ہے۔
ایک حالیہ پیش رفت میں ناشر نے ٹیلی گرام پر اپنے فالوورز سے کہا ہے کہ اس کا پیغام فیس بک اور ٹوئٹر پر بھی پھیلاتے رہیں۔








