آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ماؤنٹ ایورسٹ کی صفائی، ٹنوں کچرہ بلند ترین چوٹی پر موجود
ماؤنٹ ایورسٹ پر کوہ پیمائی کے سیزن کے آغاز کے سے پہلے وہاں موجود کچرے کی صفائی کی ایک بڑی مہم شروع ہو گئی ہے۔
ٹنوں کے حساب سے پرانے آلات، کچرا اور انسانی فضلہ دنیا کی اس بلند ترین چوٹی پر موجود ہیں۔
اب کوہ پیماؤں سے کہا گیا ہے کہ وہ اس صفائی کے کام میں مدد کریں۔
ماؤنٹ ایورسٹ پر مختلف کیپموں میں پلاسٹک کے تھیلے چھوڑ دیے گئے تھے۔ سنہ 2014 کے بعد سے کوہ پیماؤں کو اپنے ہمراہ کچرا واپس نہ لانے پر جرمانے کیے جانے لگے۔
ایورسٹ کو کئی بار دنیا کا سب سے بڑا کوڑا ذخیرہ کرنے کا مقام قرار دیا گیا۔
سب سے زیادہ کچرا کیمپ نمبر دو میں پایا گیا جو سطح سمندر سے 6400 میٹر بلند ہے۔ یہاں سے کچرا نیچے لانے کے لیے ہیلی کاپٹرز کا استمعال کیا گیا۔ اس کچرے میں دو آکسیجن ٹینکس، خیمے، خوراک کے باقیات اور دیگر سامان تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ماضی میں 16 ٹن تک کوڑا کرکٹ ہپاڑ سے نیچے لایا جا چکا ہے لیکن اب بھی صحیح علم نہیں ہے کہ کتنی مقدار میں مزید کوڑا وہاں موجود ہے۔
معمول کے کوڑے کے علاوہ سنہ 2015 میں آنے والے زلزلے سے صورتحال مزید خراب ہوئی جہاں ایک طرف پورے نیپال میں 9000 لوگ مارے گئے وہیں ماؤنٹ ایورسٹ پر کئی لوگ کیمپس کو وہیں چھوڑ کر لوٹ آئے۔
مقامی شرپا یہ کوڑا صاف کرنے کے لیے فی کلو دو ڈالر طلب کرتے ہیں تاہم رضاکار اور سیاح یہ کام بلامعاوضہ کر رہے ہیں۔
لیکن ایک چیز کو اس سامان کے ساتھ واپس نیچے نہیں لایا جا رہا ہے اور وہ ہے ہلاک ہونے والے کوہ پیما۔ خیال ہے کہ کم سے کم 200 لاشیں اب بھی ماؤنٹ ایورسٹ پر موجود ہیں جو اس مہم جوئی کے خطرات سے متعلق ایک یاددہانی بھی ہے۔