امریکہ میں ننھے بچوں کا سکرین ٹائم مزید محدود کرنے کی ہدایات

،تصویر کا ذریعہGETTY IMAGES / SESAME STREET
امریکہ میں بچوں کے ادارے اکیڈمی آف پیڈریاٹکس (اے اے پی) نے کہا ہے کہ دو سال کی عمر تک کے بچوں کو ٹی وی دیکھنے کی اجازت بالکل نہیں ہوتی چاہیے۔
ادارے نے ننھے بچوں کے لیے سکرین ٹائم کے نئے رہنما خطوط کا اعلان کیا ہے۔
اس نے پہلے کہا تھا کہ دو سال سے کم عمر کے بچوں کا کوئی سکرین ٹائم نہیں ہوتا لیکن اب اس نے کہا ہے کہ 18 ماہ سے زیادہ عمر کے بچے اپنے اہل خانہ کے ساتھ ویڈیو چیٹ کر سکتے ہیں اور ڈیڑھ سال سے پانچ سال کی عمر کے بچے اپنے والدین کے ساتھ ہائی کوالٹی کے پروگرامز دیکھ سکتے ہیں۔
بہرحال اس نے کہا ہے کہ جسمانی عمل اور براہ راست رابطوں کو ترجیح دی جانی چاہیے۔
اس نے 'سیسیم سٹریٹ' نام کے پروگرام کو مناسب ٹی وی شو قرار دیا ہے اور اسے مثال کے طور پر پیش کیا گيا ہے۔
اے اے پی کی رپورٹ میڈیا اور ینگ مائنڈس کی سربراہ مصنف جینی ریڈسکی نے کہا: 'والدین کو اپنے بچوں کے میڈیا کے استعمال کے بارے میں مثبت انداز میں ضرور سوچنا چاہیے اور اپنے بچوں سے بات کرنا چاہیے کیونکہ میڈيا کے حد سے زیادہ استعمال سے بچوں کو کھیلنے، پڑھنے، بات چیت کرنے یا سونے کے لیے خاطر خواہ وقت نہیں مل سکے گا۔'
انھوں نے کہا کہ 'سب سے اہم بات یہ ہے کہ میڈیا کے استعمال کے متعلق والدین اپنے بچوں کے معمار ہوں۔ یعنی انھیں یہ سکھائيں کہ میڈیا کو تخلیق رابطے اور سیکھنے کا وسیلہ کیسے بنائیں۔'

،تصویر کا ذریعہThinkstock
اے اے پی نے سکرین کے استعمال کے متعلق میڈیا پلان تیار کرنے کا ایک طریقہ کار لانچ کیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
گائیڈ لائنز میں کہا گيا ہے دو سے پانچ سال کے درمیان کے بچوں کو دن بھر میں ایک گھنٹے تک سکرین کے سامنے رکھا جا سکتا ہے اور بچوں کا خیال رکھنے والوں کو چاہیے کہ وہ ’میڈیا فری‘ وقت بنائیں۔
ماہر نفسیات اور ہاروڈ میں ریسرچ میں شامل ڈاکٹر کیتھرین سٹینر ایڈایئر نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ نئی گائیڈ لائنز کا خیر مقدم کرتی ہیں اور اس میں مزید وضاحت کی ضرورت ہے۔
انھوں نے کہا: 'جب آپ دو سال کے بچے کے ساتھ کوئی ویڈیو دیکھتے ہیں تو آپ الفاظ کو باربار دہراتے ہیں اور روکنے والے بٹن کا استعمال کرتے ہیں جیسے آپ بچوں کو کچھ پڑھ کر سناتے ہیں۔ ایسا نہیں کہ دو لوگ ساتھ ساتھ بیٹھے خموشی کے ساتھ کچھ دیکھ رہے ہوں۔'








