BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 07 January, 2009, 00:36 GMT 05:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’پاک بھارت کو مل کر کام کرنا ہوگا‘
وائٹ ہاؤس
امریکہ میں امکان ظاہر کیا جا رہا ہے امریکہ، بھارت اور پاکستان اس معاملہ کو مل کر حل کریں گے
امریکی دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ ممبئی حملوں کے ذمہ دار لوگوں کو پکڑنے کے لیے بھارت اور پاکستان کو ساتھ مل کر کام کرنا ہوگا۔

دفتر خارجہ کے ترجمان شان مکارمک نے منگل کو کہا ہے کہ یہ وہ پہیلی ہے جس کے حل کا ایک حصہ ایک کے پاس ہے اور دوسرا دوسرے کے پاس ہے اور یہ دونوں کے حق میں ہے کہ وہ اس پر مل کر کام کریں۔

واشنگٹن میں بی بی سی ہندی سروس کے برجیش اپادھیائے نے بتایا کہ پاکستان کی طرف سے اس طرح کی باتیں پہلے ہوئی ہیں کہ وہ ساتھ مل کر اس معاملے کی تہہ تک جانا چاہیں گے لیکن بھارت کی طرف سے کوئی جواب نہیں ملا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ میں اس بات کا زور شور سے ذکر کیا جا رہا ہے کہ ممکن ہے کہ امریکہ، بھارت اور پاکستان اس معاملہ کے حل کے لیے مل کر کام کریں۔

امریکی دفتر خارجہ نے کہا کہ یہ بات تو طے ہے کہ اس حملے کی جڑیں پاکستان میں ہیں اور امریکی وزیرخارجہ کونڈولیزا رائیس بھی یہ کہہ چکی ہیں لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا ہے کہ دونوں ہی ملکوں کے دشمن شدت پسند افراد ہیں اور دونوں کو ایک دوسرے خطرہ نہیں ہے بلکہ خون خرابہ کرنے والے شدت پسندوں سے ہے۔

امریکہ کے نو منتخب نائب صدر جو بائڈن کچھ اور سینیٹروں کے ساتھ پاکستان اور افغانستان کے دورے پر جا رہے ہیں اور ممکن ہے کہ اس دوران اس مشترکہ تفتیشی ٹیم کی تشکیل پر بھی بات چیت کی جائے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد