’پاک بھارت کو مل کر کام کرنا ہوگا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ ممبئی حملوں کے ذمہ دار لوگوں کو پکڑنے کے لیے بھارت اور پاکستان کو ساتھ مل کر کام کرنا ہوگا۔ دفتر خارجہ کے ترجمان شان مکارمک نے منگل کو کہا ہے کہ یہ وہ پہیلی ہے جس کے حل کا ایک حصہ ایک کے پاس ہے اور دوسرا دوسرے کے پاس ہے اور یہ دونوں کے حق میں ہے کہ وہ اس پر مل کر کام کریں۔ واشنگٹن میں بی بی سی ہندی سروس کے برجیش اپادھیائے نے بتایا کہ پاکستان کی طرف سے اس طرح کی باتیں پہلے ہوئی ہیں کہ وہ ساتھ مل کر اس معاملے کی تہہ تک جانا چاہیں گے لیکن بھارت کی طرف سے کوئی جواب نہیں ملا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ میں اس بات کا زور شور سے ذکر کیا جا رہا ہے کہ ممکن ہے کہ امریکہ، بھارت اور پاکستان اس معاملہ کے حل کے لیے مل کر کام کریں۔ امریکی دفتر خارجہ نے کہا کہ یہ بات تو طے ہے کہ اس حملے کی جڑیں پاکستان میں ہیں اور امریکی وزیرخارجہ کونڈولیزا رائیس بھی یہ کہہ چکی ہیں لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا ہے کہ دونوں ہی ملکوں کے دشمن شدت پسند افراد ہیں اور دونوں کو ایک دوسرے خطرہ نہیں ہے بلکہ خون خرابہ کرنے والے شدت پسندوں سے ہے۔ امریکہ کے نو منتخب نائب صدر جو بائڈن کچھ اور سینیٹروں کے ساتھ پاکستان اور افغانستان کے دورے پر جا رہے ہیں اور ممکن ہے کہ اس دوران اس مشترکہ تفتیشی ٹیم کی تشکیل پر بھی بات چیت کی جائے۔ | اسی بارے میں ’حملوں کے پیچھے سرکاری ایجنسی ‘06 January, 2009 | انڈیا ’سنجیدہ تحقیقات کے امکانات معدوم‘06 January, 2009 | انڈیا ثبوت نا کافی ہیں: قائمہ کمیٹی06 January, 2009 | پاکستان ممبئی حملہ’ شواہد‘ پاکستان کے حوالے05 January, 2009 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||