’نیٹو طالبان قبروں کی حفاظت کرے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغان حکومت نے نیٹو افواج سے درخواست کی ہے کہ شمالی افغانستان کے صوبہ جوزجان میں طالبان جنجگوؤں کی اجتماعی قبروں کی حفاظت کرے جہاں سے لاشوں کو چوری کیا جا رہا ہے۔ افغانستان کےصدارتی ترجمان حامد زادہ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ نامعلوم مسلح افراد نے صوبہ جوزجان میں دشتِ لیلی میں اجتماعی قبروں سے لاشوں کو چوری کرنے کی کوشش کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہ اجتماعی قبریں ان طالبان جنگجوؤں کی ہے جو2001 میں شمالی اتحاد قبضے میں تھے۔ افغانستان ہیومن رائٹس کمشن کے ایک ترجمان نے کہا کہ کچھ افراد جنگی جرائم کی شہادتیں ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ افغانستان میں نیٹو افواج کے ترجمان نے کہا ہے کہ انہیں افغان حکومت کی طرف سے اجتماعی قبروں کی حفاظت سے متعلق کوئی درخواست ابھی تک موصول نہیں ہوئی ہے۔ صدر حامد کرزئی کے ترجمان نے کہا کہ شمالی افغانستان کے صوبے جوزجان میں دشتِ لیلی کے مقام پر واقع اجتماعی قبروں میں مردوں کو غائب کرنے کی شکایت موصول ہوئی ہیں۔ افغانستان کے ہیومن رائٹس کمشن کے ترجمان نادر نادرے نے بھی ان اطلاعات کی تصدیق کی ہے کہ کچھ مسلحہ افراد دشتِ لیلی سے مردوں کو غائب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ نادرے کے مطابق کچھ افراد جنگی جرائم کی شہادتیں مٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق سن دو ہزار ایک میں افغانستان پر امریکی حملے کے بعد جنرل رشید دوستم کے قبضے میں سینکڑوں طالبان جنگجو اس وقت دم گھٹنے سے ہلاک ہوگئے تھے جب انہیں کنیٹرز میں بھر کر صوبہ کندوز کی جیل شبرگان میں منتقل کیا جا رہا تھا۔ جنرل رشید دوستم نےاپنے حریف جنرل ملک پر طالبان کی ہلاکت کا الزام لگایا تھا۔ جنرل ملک نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔ | اسی بارے میں اجتماعی قبریں، تحقیقات کا نتیجہ؟27 July, 2007 | آس پاس انتخابات: کرزئی، دوستم مدمقابل23 July, 2004 | آس پاس دوستم کی فوج اہم مقامات پر قابض 08 April, 2004 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||