’منتظر نے معافی مانگ لی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراقی وزارتِ عظمیٰ کے دفتر نے کہا ہے کہ صدر بش پر جوتا پھیکنے والے صحافی نے عراقی وزیراعظم سے معافی مانگ لی ہے۔ وزیراعظم کے ترجمان یٰسین مجید کے مطابق مقامی ٹی وی کے صحافی منتظر الزیدی نے وزیراعظم نوری المالکی کے نام ایک خط لکھا ہے، جس میں انہوں نے اپنی ’غلیظ حرکت‘ پر وزیراعظم سے معافی طلب کی ہے۔ مسٹر زیدی اتوار کو نیوز کانفرنس کے دوران صدر بش پر جوتا پھینکنے کے بعد سے حراست میں ہیں۔ ان کے اس اقدام نے انہیں عرب دنیا کے کچھ حصوں میں ہیرو بنا دیا ہے۔ عراقی حکام نے ان کے اس اقدام کو شرمناک قرار دیا ہے۔ مسٹر زیدی پر ’ایک صدر کے خلاف جارحیت‘ کا الزام عائد کیا گیا ہے اور جرم ثابت ہونے پر انہیں پندرہ سال تک جیل کی سزا ہو سکتی ہے۔ یٰسین مجیدی نے کہا کہ مسٹر زیدی نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ ’ہر چند کے میرا انتہائی غلیظ اقدام قابلِ معافی نہیں ہے لیکن مجھے یاد آتا ہے کہ جب دو ہزار پانچ کے موسمِ گرما میں میں نے عالی مرتبت کا انٹرویو کیا تھا تو آپ نے مجھ سے کہا ’یہ تمہارا ہی گھر ہے، آتے رہنا‘ اس لیے میں آپ کے پدری جذبات سے درخواست کرتا ہوں کہ مجھے معاف کر دیں‘۔
تاہم خبر رساں ادارے رائٹر کے مطابق مسٹر زیدی کے ایک بھائی نے خط کے بارے میں بے یقینی کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’یہ اطلاع مطلقاً غیر درست ہے۔ یہ جھوٹ ہے۔ منتظری میرا بھائی ہے اور میں اسے اچھی طرح جانتا ہوں۔ وہ معافی نہیں مانگ سکتا‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’اور اگر انہوں نے معافی مانگی بھی ہے تو یہ ضرور کسی نے کسی دباؤ کا نتیجہ ہو گی‘۔ منتظر الزیدی کو حراست میں لیے جانے کے بعد ایک عدالت میں پیش کیا گیا ہے اور اس کے جج دھیا الکنعانی کا کہنا ہے کہ مسٹر زیدی کے جوتوں کو امریکی اور عراقی سکیورٹی ایجنٹوں اور دھماکہ خیز اشیا کے ماہرین نے تباہ کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’میں جوتوں کو ثبوت کے طور پر مقدمے کا حصہ بنانے کو ترجیح دیتا لیکن اب چونکہ مسٹر زیدی خود اس کا اعتراف کر چکے ہیں اور اس واقعے کی ٹیلی ویژن پر بھی دکھایا جا چکا ہے تو ان تفتیش جاری رکھی جا سکتی ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ عدالت سے مسٹر زیدی کی ضمانت پر رہائی کی درخواست کی گئی تھی لیکن یہ درخواست منظور نہیں کی گئی۔ | اسی بارے میں عراقی صحافی سے ناراض نہیں: بش17 December, 2008 | آس پاس جوتے اٹھا کر مظاہرہ کرنے کا اعلان16 December, 2008 | آس پاس بش پر جوتے پھینکے والے پر’تشدد‘16 December, 2008 | آس پاس جوتے کے پیچھے کا ’عام عراقی صحافی‘18 December, 2008 | آس پاس ’صحافی اور ایکٹیوسوٹ میں فرق ہونا چاہیے‘ 15 December, 2008 | آس پاس پاکستان کے ساتھ کام کرنا اہم: بش15 December, 2008 | آس پاس صدر بش اچانک عراق کا وداعی دورہ14 December, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||