BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 14 October, 2008, 08:01 GMT 13:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کوچی خانہ بدوش مشکلات کا شکار

کوچی
کوچیوں کا کہنا ہے کہ وہ صحت، تعلیم اور بجلی کی سہولیات سے محروم ہیں
رحمت گول جیسے کوچی خانہ بدوش اور ان کے اہلِ خانہ اپنی بقاء کے لیے روزانہ جدوجہد کرنے پر مجبور ہیں۔

میں آٹھ گھٹنے کی دشوار گزار چڑھائی چڑھ کر رحمت کے گھر پہنچنے میں کامیاب ہوا تھا۔ رحمت کا ٹھکانہ مشرقی افغانستان میں ہندو کش کے پہاڑی سلسلے میں ایستادہ ایک خیمہ تھا۔

یہ ایک ایسی جگہ ہے جہاں اس کے ہمسائے یا تو ہندو کش کے بلندو بالا پہاڑ ہیں یا پھر قریبی وادی میں بہنے والے قدرتی چشمے۔

رحمت کا بابر نامی پالتو کتا اس علاقے میں موجود بھیڑیوں اور دیگر خطرناک جنگلی جانوروں پر نظر رکھتا ہے۔ رحمت کا دعوٰی ہے کہ ’شیر اور چیتے تک میرے کتے سے خوفزدہ ہیں‘۔

رحمت کے خاندان کا تعلق جنوب مشرقی افغانستان سے ہے اور یہ لوگ سوویت جارحیت کے زمانے سے مشکلات کا شکار ہیں۔ رحمت کے مطابق ’ جب روسی آئے تو سب لوگ بھاگ گئے۔ لیکن ہم ایسا نہ کر سکے کیونکہ ہمارے پاس سینکڑوں بھیڑیں، بکریاں اور اونٹ تھے۔ ہمارے پاس جانے کو کوئی اور جگہ بھی نہیں تھی چنانچہ ہم یہیں ٹکے رہے‘۔

لیکن افغانستان میں رکے رہنے کا فیصلہ رحمت کے خاندان کے لیے ایک مہنگا فیصلہ ثابت ہوا۔ رحمت کا کہنا ہے کہ’ ایک دن ہم پاکستانی سرحد کے ساتھ واقع افغان علاقے کی جانب روانہ ہوئے اور پھر ایک بارودی سرنگ پھٹی اور میرے خاندان کے پانچ افراد اور درجنوں مویشی ہلاک ہوگئے‘۔

کوچیوں کی بڑی تعداد گلہ بانی کرتی ہے

رحمت کے مطابق’ان ہلاکتوں سے تکلیف دہ عمل یہ تھا کہ ہمیں اپنے گھر والوں کی لاشیں وہیں چھوڑ کر آگے جانا پڑا‘۔

افغانستان کی ڈھائی کروڑ آبادی میں سے کوچی خانہ بدوشوں کی تعداد قریباً ساٹھ لاکھ ہے اور یہ بنیادی طور پر بلوچ اور پشتون ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق افغانستان کی پشتون آبادی میں سے نصف کوچی ہیں۔

اگرچہ کوچی خانہ بدوش سخت طرزِ زندگی کے عادی ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ موجودہ افغان حکومت کے دور میں حالات زیادہ خراب ہوئے ہیں۔ کابل میں موجود ایک کوچی بزرگ کے مطابق ’ہسپتال میں ہمارے بیماروں کا علاج نہیں ہوتا اور قبرستانوں میں ہمارے مردوں کو جگہ نہیں ملتی‘۔

کوچیوں کا کہنا ہے کہ وہ صحت، تعلیم اور بجلی کی سہولیات سے محروم ہیں اور حالات کا جوں کا توں رہنا ناقابلِ برداشت ہے۔ ’ہمیں سکول، ہسپتال اور اپنے حقوق چاہیئیں۔ ہم سب نے کرزئی کو ووٹ دیے لیکن انہوں نے اپنے وعدے کا پاس نہیں کیا‘۔

تاہم ایک کوچی بزرگ کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’ ہم مایوسی کا شکار ضرور ہیں لیکن اپنے حقوق کے حصول کی جدوجہد کر رہے ہیں۔ ہم نے صدر کرزئی سے بھی ملاقات کی ہے جنہوں نے ہماری مشکلات کے خاتمے کا وعدہ کیا ہے اور ہمیں ان کے وعدے پر اعتبار ہے‘۔

افغانستان کی ڈھائی کروڑ آبادی میں سے کوچی خانہ بدوشوں کی تعداد قریباً ساٹھ لاکھ ہے

چودہ سالہ زرغولہ جیسی نوجوان کوچیوں کو بھی امید ہے کہ وہ ایک دن سکول جائیں گی لیکن فی الحال انہیں اپنے خاندان کی بقاء کے لیے گلہ بانی کرنا پڑ رہی ہے۔ زرغولہ گزشتہ پانچ برس سے مویشی چرا رہی ہیں اور جب ان کی عمر سولہ برس ہو جائے گی تو انہیں جانوروں کا دودھ بھی دوہنا پڑے گا۔

زرغولہ کے مطابق’جب ہم کئی دن تک سفر کرتے ہیں تو میں بہت سے لڑکوں اور لڑکیوں کو سکول آتے جاتے دیکھتی ہوں۔ میں بھی ان جیسی بننا چاہتی ہوں لیکن ہم تو ہر وقت سفر کرتے ہیں‘۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ کرزئی انتظامیہ کوچیوں کے مطالبوں پر صرف انتخابات کے زمانے میں غور کرتی ہے لیکن اس غیر یقینی کے دور میں بھی کوچی ہمیشہ کی طرح پر عزم ہیں۔ ایک کوچی خانہ بدوش کے مطابق ’مجھے کوچی ہونا پسند ہے کیونکہ یہی وہ طرزِ زندگی ہے جو میرے آباؤ اجداد گزارتے آئے ہیں اور مجھے اس روایت سے انحراف کا کوئی شوق نہیں۔ ہم سردیاں آنے سے قبل اپنا سامان سمیٹ کر مشرق کی جانب چل پڑیں گے اور مجھے اس حوالے سے کوئی فکر لاحق نہیں کیونکہ یہی تو ہم کوچیوں کی زندگی ہے‘۔

اسی بارے میں
’سیاہ بیوہ‘ کے سائے میں
28 September, 2008 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد