BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 28 September, 2008, 22:54 GMT 03:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ریسکیو پیکج: ’معاہدہ طے پا گیا‘
اس پیکج کو انیس سو تیس کے بعد اقتصادی بہتری کا سب سے برا پیکج قرار دیا جا رہا ہے
امریکہ میں سیاست دانوں میں ملک کو اقتصادی بحران سے نکالنے کے لیے صدر بش کے تجویز کردہ ریسکیو پیکج کے حتمی مسودے پر معاہدہ طے پا گیا ہے۔

ادھر صدر بش نے اس بات کا خیر مقدم کرتے ہوئے توقع کی ہے کہ یہ پیکج فوری طور پر منظور کر لیا جایا گا۔

خیال ہے کہ اس مسودے پر پیر کو ووٹنگ ہوگی۔

سات سو بلین ڈالر کے اس پیکج کو سنہ انیس سو تیس کی اقتصادی بربادی کے بعد مارکیٹ کو سہارا دینے کی سب سے بڑی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

اس پیکج سے امریکی وزارتِ خزانہ سات سو بلین ڈالر خرچ کر کے بیمار اقتصادی اداروں کے خراب قرضہ جات کو اپنے اختیار میں لے لی گی۔

حکمراں ریپبلیکن جماعت کے ایک رکن نے جو اس سلسلے میں ہونے والے مذاکرات میں شریک تھے بتایا ہے کہ وال سٹریٹ بچاؤ پیکج کی تفصیلات طے ہو گئی ہیں جسے اب منظوری کے لیے کانگریس میں بھیجا جائے گا۔

سینیٹر جڈ گریگ کا کہنا تھا کہ اس معاہدے کو فوری طور پر منظور کرانا مارکیٹوں کو سنبھالنے کی خاطر انتہائی اہم ہے۔

ابھی تک یہ بات سامنے نہیں آ سکی کہ اقتصادی پیکج کی تفصیلات کیا ہیں۔ جمعرات کو بھی امریکہ قانون سازوں نے یہ کہا تھا کہ معاہدہ ہوگیا ہے لیکن مذاکرات کے اگلے مرحلے میں یہ معاہدہ ٹوٹ گیا تھا۔

گزشتہ دو ہفتوں کے دوران عالمی سطح پر کئی اہم اداروں کا خاتمہ ہوا ہے کیونکہ اپنے روز مرہ کے کاروبار کو چلانے کے لیے ان کے پاس پیسہ نہیں ہے۔

اس سے قبل ڈیموکریٹ پارٹی سے تعلق رکھنے والی ایوان نمائندگان کی سپیکر نینسی پلوسی نے کہا تھا کہ اس سلسلے میں اہم پیش رفت ہوئی ہے لیکن تفصیلات کو طے کیا جانا ابھی باقی ہے۔

بش انتظامیہ مختلف بینکوں کو ڈوبے ہوئے قرضوں کے عوض سات سو ارب ڈالر دینا چاہتی ہے تاکہ ملک کو اس بحران سے نکالا جا سکے۔

امریکہ کے ایوان نمائندگان میں صدر بش کے اس منصوبے کو منظوری دینے کے لیے اتوار کو رائے شماری متوقع ہے تاکہ سوموار کو حصص بازار کھلنے سے پہلے اعتماد کی فضا بحال کی جا سکے۔

اس منصوبے کے تحت حکومت سات سو ارب ڈالر استعمال کر کے مکانات کی خریداری کے لیے بینکوں کی طرف سے دیئے گئے ایسے قرضے خریدنا چاہتی ہے جو کہ ڈوب چکے ہیں۔ حکومت یہ پیسہ بانڈز جاری کرکے حاصل کرے گی۔

دو سال پر محیط اس پلان کی نگرانی کرنے کے اختیارات امریکی وزیر خزانہ کو حاصل ہوں گے تاہم ناقدین کا خیال ہے کہ اس کی نگرانی کو مزید سخت اور کڑا بنایا جانا چاہیے۔

اسی بارے میں
پیکج منظور ہو جائے گا: بش
27 September, 2008 | آس پاس
صدارتی بحث میں کون جیتا؟
27 September, 2008 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد