اسامہ:ڈرائیور کے خلاف مقدمہ شروع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسامہ بن لادن کے سابق ڈرائیور سلیم ہمدان پر امریکی بحریہ کے اڈے گوانتانامو میں مقدمہ شروع ہو گیا ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکہ میں جنگی جرائم کے الزام میں یہ پہلا مقدمہ ہے۔ سلیم ہمدان کو گرفتاری کے ساڑھے چھ برس بعد پہلی مرتبہ فوجی عدالت میں پیش کیا گیا۔ سلیم ہمدان کو نائن الیون کے واقع کے دو ماہ بعد افغانستان سےگرفتار کیا تھا۔ سلیم ہمدان کے علاوہ دو سو ستر اور قیدی بھی گوانتاموبے کےقید خانے میں بند ہیں۔ سلیم ہمدان نے تسلیم کیا ہے کہ وہ 1997 سے لے کر 2001 تک اسامہ بن لادن کے ڈرائیور تھے ۔ ان کا موقف ہے کہ وہ القاعدہ کے ممبر نہیں تھے بلکہ دو سو ڈالر ماہانہ پر اسامہ بن لادن کی ملازمت کرتے تھے۔ بش انتظامیہ کی کوشش ہے کہ گوانتاناموکے ایک درجن قیدیوں پر انہی فوجی عدالتوں میں مقدمے چلائے جائیں۔ سینتیس سالہ سلیم ہمدان کا تعلق یمن سے ہے اور وہ ان چار افراد میں سے ایک ہیں جن پر امریکہ میں فوجی عدالت میں مقدمہ چلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ سلیم ہمدان کے وکیل کا کہنا ہے کہ وہ اسامہ کی ٹویوٹا پک اپ چلاتے تھے جس کا انہیں تقریباً دوسو ڈالر ماہانہ معاوضہ ملتا تھا اور وہ دہشتگردی میں ملوث نہیں ہیں۔ وکیل کے مطابق ہمدان کی بیوی اور دو بچے ہیں اور انہوں نے اسامہ کی نوکری اس لیے کی کہ انہیں اپنے خاندان کی پروش کے لئے رقم درکار تھی۔ ہمدان کو شمالی اتحاد کی فوجوں نے گرفتار کرکے امریکہ کے حوالے کر دیا تھا۔ ہمدان گوانتانامو بے کے پہلے اسیر ہیں جن پر اسامہ بن لادن کی تنظیم القاعدہ سے وابستہ ہونے کا اعلانیہ الزام لگایا گیا ہے۔ | اسی بارے میں 9/11: چھ کے خلاف الزامات عائد11 February, 2008 | آس پاس الجزیرہ کا صحافی گوانتانامو سے رہا01 May, 2008 | آس پاس امریکی فوج کی تفتیش پر تنقید18 June, 2008 | آس پاس ’گوانتانامو کا قیدی دشمن جنگجو نہیں‘23 June, 2008 | آس پاس ’فوجی عدالتیں غیر آئینی ہیں‘29 March, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||