غزنی میں پاکستانی عورت، بچہ گرفتار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں ایک پاکستانی خاتون اور ایک تیرہ سالہ بچے کو خود کش حملوں کی تیاری کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ غزنی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صوبے کے گورنر ڈاکٹر محمد عثمان عثمانی نے کہا کہ پولیس نے جمعرات کی شب ایک عورت اور ایک بچے کو گرفتار کیا جو خود کش حملہ کرنے کے لیے اپنے جسم پر آتش گیر مادہ باندھ رہے تھے۔ گورنر کے ترجمان اسماعیل جہانگیر کےمطابق وہ گورنر کے گھر کے احاطہ میں داخل ہوکر گورنر اور دوسرے اعلی افسران کو نشانہ بنانا چاہتے تھے۔ افغانستان میں عورتوں کے اس طرح کے حملوں میں ملوث ہونے کے واقعات بہت ہی کم ہوتے ہیں لیکن جنوب مغربی فرح صوبے میں مئی میں جو خود کش حملہ ہوا تھا وہ مبینہ طور پر ایک عورت نے ہی کیا تھا۔ گورنر کے مطابق گرفتارشدہ عورت کا نام صالحہ ہے اور وہ ملتان کی رہنے والی ہے۔ بچے کا نام احسن ہے اور اس کا تعلق تربت سے بتایا گیا ہے۔ ڈاکٹر عثمانی نے کہا کہ پولیس کو ایک نامعلوم عورت نے فون پر خفیہ اطلاع دی تھی جس کے بعد پولیس نے تلاشی کی کارروائی کرتے ہوئے انہیں گرفتار کیا۔ پولیس کا دعوی ہے کہ گرفتار خاتون تین دیگر افراد کے ساتھ افغانستان میں داخل ہوئی تھی۔ بعد میں ان دونوں کو غزنی پولیس کے ہیڈ کواٹر میں صحافیوں کے سامنے پیش کیا گیا۔ پولیس کے مطابق وہ اردو کے علاوہ انگریزی اور عربی زبانیں بھی جانتی ہے۔ | اسی بارے میں بھارتی سفارتخانے پر حملہ، 40 ہلاک07 July, 2008 | آس پاس دھماکے:سازش کرنے کا اقبالِ جرم14 July, 2008 | آس پاس پاکستان پر کرزئی کا براہِ راست الزام14 July, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||