BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 18 July, 2008, 14:14 GMT 19:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
غزنی میں پاکستانی عورت، بچہ گرفتار
صدر کرزئی کے مطابق بھارتی سفارت خانے پر حملے میں پاکستانی خفیہ ایجنسیوں کا ہاتھ تھا
افغانستان میں ایک پاکستانی خاتون اور ایک تیرہ سالہ بچے کو خود کش حملوں کی تیاری کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔

غزنی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صوبے کے گورنر ڈاکٹر محمد عثمان عثمانی نے کہا کہ پولیس نے جمعرات کی شب ایک عورت اور ایک بچے کو گرفتار کیا جو خود کش حملہ کرنے کے لیے اپنے جسم پر آتش گیر مادہ باندھ رہے تھے۔

گورنر کے ترجمان اسماعیل جہانگیر کےمطابق وہ گورنر کے گھر کے احاطہ میں داخل ہوکر گورنر اور دوسرے اعلی افسران کو نشانہ بنانا چاہتے تھے۔

افغانستان میں عورتوں کے اس طرح کے حملوں میں ملوث ہونے کے واقعات بہت ہی کم ہوتے ہیں لیکن جنوب مغربی فرح صوبے میں مئی میں جو خود کش حملہ ہوا تھا وہ مبینہ طور پر ایک عورت نے ہی کیا تھا۔

گورنر کے مطابق گرفتارشدہ عورت کا نام صالحہ ہے اور وہ ملتان کی رہنے والی ہے۔ بچے کا نام احسن ہے اور اس کا تعلق تربت سے بتایا گیا ہے۔

ڈاکٹر عثمانی نے کہا کہ پولیس کو ایک نامعلوم عورت نے فون پر خفیہ اطلاع دی تھی جس کے بعد پولیس نے تلاشی کی کارروائی کرتے ہوئے انہیں گرفتار کیا۔

پولیس کا دعوی ہے کہ گرفتار خاتون تین دیگر افراد کے ساتھ افغانستان میں داخل ہوئی تھی۔

بعد میں ان دونوں کو غزنی پولیس کے ہیڈ کواٹر میں صحافیوں کے سامنے پیش کیا گیا۔

پولیس کے مطابق وہ اردو کے علاوہ انگریزی اور عربی زبانیں بھی جانتی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد