برطانوی امداد میں دوگنا اضافہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ نے پاکستان کو دی جانے والی مالی امداد بڑھانے اور اسکے استعمال کے طریقہ کار میں بعض اہم تبدیلیاں کرتے ہوئے قبائلی علاقوں کو بھی اس امدادی پروگرام میں شامل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ برطانیہ کی جانب سے آئندہ پانچ برس کے دوران پاکستان میں غربت کے خاتمے اور سماجی شعبے کی بہتری کے لیے اڑتالیس کروڑ پاؤنڈ خرچ کیے جائیں گے۔ اس بارے میں پاکستان کے دورے پر آئے غیر ملکی امداد کے برطانوی وزیر ڈگلاس الیگزینڈر اور خزانے کے وزیر نوید قمر نے جمعرات کے روز ایک یادداشت پر دستخط کیے۔ برطانیہ کی جانب سے ملنے والی امداد دوگنا کرنے کے علاوہ برطانوی وزیر نے اس موقع پر اعلان کیا کہ اس پیکج سے پاکستان سب سے زیادہ برطانوی امداد حاصل کرنے والے ممالک کی فہرست میں دوسرے نمبر پر آگیا ہے۔ اس رقم کا بیشتر حصہ غربت کے خاتمے کے لیے استعمال ہو گا تاہم پہلی مرتبہ برطانیہ نے قبائلی علاقوں میں تعلیم کے فروغ کے لیے بھی رقم مختص کی ہے تاہم ان علاقوں میں امن عامہ کی صورتحال کے پیش نظر یہ واضح نہیں ہے کہ یہ رقم وہاں کس طریقہ کار کے تحت خرچ کی جائے گی۔ برطانوی وزیر نے اس ’ کنٹری پروگرام‘ کے اجرا کے موقع پر وزارت خزانہ میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امداد کی اس رقم میں سے پچیس کروڑ ڈالر افغانستان کی سرحد کے ساتھ واقع قبائلی علاقوں میں صرف کیے جائیں گے۔ پروگرام کا ایک مقصد پچاس لاکھ بچوں کو سکول میں داخل کروانا ہے۔ اسکے علاوہ انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں کے انتظامی مرکز فاٹا سیکریٹیریٹ کے ساتھ ملکر کام کیا جائے گا اور بلوچستان پر بھی توجہ دی جائے گی۔ | اسی بارے میں ’پاکستان کی امداد پر نظرثانی کریں‘ 28 May, 2008 | آس پاس ’پچاس ارب ڈالر کی امداد چاہیے‘ 12 June, 2008 | آس پاس ’غیر فوجی امداد میں اضافہ کیا جائے‘26 June, 2008 | آس پاس ’امداد مقاصد حاصل کرنے میں ناکام‘17 May, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||