اولمرت سے استعفے کا مطالبہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیل کے وزیرِ دفاع ایہود باراک نے وزیرِ اعظم ایہود اولمرت سے مطالبہ کیا ہے کہ یا وہ چھٹی پر چلے جائیں یا استعفٰی دے دیں۔ وزیرِ اعظم ایہود اولمرت پر بدعنوانی کے الزامات ہیں اور ان کے خلاف ان الزامات کی تفتیش کی جا رہی ہے۔ ایہود باراک نے خبردار کیا کہ اگر ایہود اولمرت اپنے عہدے سے علیحدہ نہ ہوئے تو اُن (ایہود باراک) کی لیبر پارٹی حکمران اتحاد سے تعاون ختم کر کے الگ ہو جائے گی۔ ایہود باراک کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعظم اولمرت کو روز مرہ کے حکومتی انتظامات سے علیحدہ ہونا پڑے گا۔ ایہود اولمرت کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی انتخابی مہم کے لیے نہ پانچ لاکھ امریکی ڈالر کا ناجائز عطیہ لیا اور نہ رشوت لی۔ وزیرِ اعظم اولمرت قدیمہ جماعت کے صدر ہیں اور ان کا دعویٰ ہے کہ انہیں جو بھی رقوم ملیں، وہ قانونی طور پر درست چندہ تھا۔
وہ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ وہ اپنا منصب نہیں چھوڑیں گے تا وقیکہ ان پر فردِ جرم عائد نہیں کی جاتی۔ بدھ کو ایک نیوز کانفرنس میں سابق وزیرِ اعظم ایہود باراک نے کہا کہ ان کے خیال میں اپنے خلاف الزمات کاجواب دینے کے ساتھ ساتھ ایہود اولمرت حکومت نہیں چلا سکتے۔ ایہود باراک کا تازہ بیان امریکی تاجر کے تفتیش کاروں کے روبرو اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے کہ انہوں نے ایہود اولمرت کو کیش سے بھرے ہوئے لفافے دیئے تھے۔ امریکی تاجر مورس تلانسکی پر اولمرت کے وکلاء کی ٹیم جولائی میں جرح کرے گی۔ منگل کو ایک اسرائیلی عدالت کے سامنے بیان میں امریکی تاجر نے کہا کہ انہوں نے پندرہ سال کے دوران ایہود اولمرت کو اپنی ذاتی رقم سے کبھی خود اور کبھی اپنے ساتھیوں کے ذریعے ایک لاکھ پچاس ہزار ڈالر دیئے تھے۔ باقی رقم پارٹی کے لیے فنڈ جمع کرنے کی مہم کے دوران ملی تھی۔ امریکی تاجر کا کہنا تھا کہ انہیں نہیں معلوم کہ یہ رقم خرچ کیسے کی گئی۔ ’مجھے صرف یہ پتہ ہے کہ ایہود اولمرت کو مہنگے سگار اور قیمتی پین رکھنے کا شوق تھا۔‘ انہوں نے کہا کہ ایہود اولمرت نے ’مجھ سے اس وقت 25 سے 30 ہزار ڈالر کا قرض مانگا تھا جب وہ اٹلی میں چھٹیاں گزار رہے تھے‘۔ ’ایک بار میں نے اپنے بینک سے پندرہ ہزار ڈالر نکلوائے اور ایک بڑے ہوٹل میں انتظار کر رہے ایہود اولمرت کو قرض دیئے۔ البتہ ایہود اولمرت نے کبھی قرض واپس نہیں کیا۔‘ | اسی بارے میں اسرائیلی صدر پر استعفیٰ کا دباؤ23 January, 2007 | آس پاس جنوبی ایشیا: انسانی حقوق کی پامالی18 January, 2006 | آس پاس ’لبنان میں حالات اب بھی نازک‘22 August, 2006 | آس پاس رائس: صدر عباس کی حمایت05 October, 2006 | آس پاس امریکی فوجی، زنا بالجبر کی کارروائی06 August, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||