اولمرت پر رشوت لینے کا الزام | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیل میں میڈیا کے مطابق ملک کے وزیرِ اعظم ایہود المرت کے بارے میں شبہہ ہے کہ انہوں نے وزیرِ اعظم بننے سے قبل ناجائز طور پر لاکھوں ڈالر رشوت لی۔ پولیس کو شبہہ ہے کہ جب وہ یروشلم کے میئر تھے تو انہوں نے ایک غیر ملکی کاروباری شخص سے اپنی انتخابی مہم کے لیے غیر قانونی طور پر رقوم لیں۔ وزیرِ اعظم نے یہ تسلیم کیا ہے کہ انہوں نے امریکہ کی ایک کاروباری شخصیت سے مدد لی تھی لیکن انہیں اس بات سے انکار ہے کہ انہوں نے کبھی رشوت لی ہے۔ ایہود اولمرت کے خلاف بدعنوانی کے الزامات پر کئی انکوائریاں ہو رہی ہیں گزشتہ جمعہ کو وزیرِ اعظم اولمرت سے ایک گھنٹے تک الزامات پر پوچھ گچھ کی گئی جس سے انہوں نے انکار کیا۔ ایہود اولمرت نے کہا ہے کہ اگر ملک کے اٹارنی جنرل نے ان کے خلاف فردِ جرم جاری کی تو وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہو جائیں گے۔ انہوں نے جمعرات کی رات ٹی وی پر ایک بیان دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے لیے کبھی ایک پیسہ نہیں لیا نہ کبھی رشوت لی۔ گزشتہ سال نومبر میں پولیس نے ایہود اولمرت کے خلاف ایک بینک کی نجکاری کے سلسلے میں لگنے والے الزامات تفتیش کے بعد ختم کر دیئے تھے۔ | اسی بارے میں اسرائیلی صدر پر استعفیٰ کا دباؤ23 January, 2007 | آس پاس جنوبی ایشیا: انسانی حقوق کی پامالی18 January, 2006 | آس پاس ’لبنان میں حالات اب بھی نازک‘22 August, 2006 | آس پاس رائس: صدر عباس کی حمایت05 October, 2006 | آس پاس امریکی فوجی، زنا بالجبر کی کارروائی06 August, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||