غزہ:’ہلاکتوں کی آزادانہ تحقیق ہو‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے کہا ہے کہ چند روز قبل غزہ میں کیمرہ مین اور دیگر شہریوں کی ہلاکتوں کے واقعے کی آزادانہ تحقیق ہونی چاہیے۔ کیمرہ مین فضل شناعۃ تین دوسرے فلسطینیوں کے ساتھ بظاہر اسرائیل فوج کے ٹینک کا نشانہ بن گئے تھے۔ ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ جائے وقوعہ پر ان کی تفتیش کے مطابق اسرائیل ٹینک کے عملے بے احتیاطی سے یا جان بوجھ کر کیمرہ مین کو نشانہ بنایا۔ تنظیم کے ترجمان کے مطابق اسرائیلی فوجیوں نے اس بات کی تصدیق کرنے کی کوشش نہیں کی کہ ان کے ہدف کی نوعیت عسکری ہے یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کو بھی واقعے کی تفتیش کرنی چاہیے اور ذمہ دار لوگوں کے خلاف کارروائی کرنے چاہیے۔ | اسی بارے میں ’غزہ میں بدترین انسانی بحران‘06 March, 2008 | آس پاس ’غزہ میں اسرائیلی کردار نازیوں جیسا‘08 April, 2008 | آس پاس غزہ:عسکریت پسند رہنما ہلاک15 April, 2008 | آس پاس اسرائیلی حملہ، بچے سمیت آٹھ ہلاک11 April, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||