ایشیائی بازاروں میں بھی تیزی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں مرکزی بینک کی طرف سے شرح سود میں کمی کے بعد امریکہ کے حصص بازار وال اسٹریٹ میں دیکھی جانے والی تیزی کے اثرات بدھ کو ایشیائی حصص بازاروں میں بھی نظر آ رہے ہیں۔ جاپان کے حصص بازار نکی میں انڈکس میں تین فیصد کا اضافہ ہوا جبکہ آسٹریلیا، تائیوان، اور جنوبی کوریا کے حصص بازاروں کے انڈکس میں بھی دو فیصد کا اضافہ ہوا۔ اس سے قبل گزشتہ روز منگل کو نیویارک کے حصص بازار ڈاؤ جون میں انڈکس میں حالیہ دنوں میں ہونے والا سارا خسارا پورا کرلیا جو ایک دن میں گزشتہ پانچ برسوں میں ہونے والا سب سے زیادہ اضافہ ہے۔ امریکہ کے مرکزی بینک نے شرح سود میں پونے ایک فیصد کی کمی کرے اس تین فیصد سے دو آعشاریہ دو پانچ فیصد کر دیا ہے۔ اکثر اقتصادی ماہرین کا خیال ہے کہ امریکی معیشت مندی کا شکار ہے۔ امریکی مرکزی بینک نے یہ سخت اقدامات ایک امریکی بینک بیئر سٹنرز کی فروخت کے بعد پیدا ہونے والے بحران سے بچنے کے لیے کیئے ہیں۔ امریکہ کے وزیر خزانہ ہینری پالسن نے منگل کو اعتراف کیا تھا کہ معیشت کو شدید خسارے کا سامنا ہے تاہم انہوں نے امید ظاہر کی تھی کہ یہ مندی اس سال کے آخر تک ختم ہو جائے گی۔ امریکی مرکزی بینک نے گزشتہ ستمبر سے چھ مرتبہ شرح سود میں مجبوراً کمی کی ہے اور اس کی وجہ مکانات کی خریداری کے لیے بینکوں کی طرف سے دیئے جانے والے قرضوں سے پیدا ہونے والے مالی بحران ہے۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ کے حصص بازاروں میں دیکھے جانے والی تیزی کا مطلب یہ نہیں کہ امریکہ میں مالی بحران ختم ہوگیا ہے۔ تاہم خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ تیزی امریکی مرکزی بینک کی طرف سے لیے جانے والا اقدامات پر سرمایہ کاروں کے اعتماد کو ظاہر کرتی ہے۔ |
اسی بارے میں حصص بازار میں غیر معمولی تیزی19 February, 2008 | الیکشن 2008 ایشیا: شیئرز میں پھر مندی11 March, 2008 | آس پاس عالمی دہشت گردی: صد سالہ جنگ16 March, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||