’اولمرٹ کا ساتھ نہ چھوڑیں گے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیل کے وزیر دفاع ایہود باراک نے کہا ہے کہ 2006 میں حزب اللہ کے خلاف اسرائیلی جنگ میں ’ بڑی اور سنگین ناکامی‘ کے باوجود ایہود اولمرٹ کی حکومت کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے۔ وزیر دفاع ایہود باراک نے دھمکی دی تھی کہ اگر حزب اللہ کے خلاف جنگ کی انکوائری میں حکومت کے خلاف ریمارکس دیئے گئے تو وہ ایہود اولمرٹ کی حکومت کا حصہ نہیں رہیں گے۔ وزیر دفاع ایہود باراک کے استعفیٰ نہ دینے کا مطلب ہے کہ ایہود اولمرٹ کو پارلیمنٹ میں ضروری حمایت حاصل رہے گی۔ ایہود باراک اسرائیل کی 2006 میں حزب اللہ کے خلاف جنگ کے ایک سال بعد وزیر دفاع مقرر ہوئے تھے۔ ایہود باراک کی لیبر پارٹی کی اسرائیلی پارلیمنٹ میں انیس نشستیں ہیں اور اگر وہ ایہود اولمرٹ کی حکومت کی حمایت ترک کر دیں تو ملک میں انتخابات ناگزیر ہو جائیں گے۔ ایہود باراک نے کہا کہ وہ اس لیے حکومت کا ساتھ نہیں چھوڑ رہے کہ اسرائیل کو اس وقت کئی چیلنجوں کا سامنا ہے اور فوری انتخابات سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ اسرائیلی عوام 2006 میں حزب اللہ کے خلاف اسرائیلی جنگ کو ناکامی تصور کرتے ہیں۔ حکومت کی جانب سے مقرر کی جانی والی انکوائری رپورٹ میں ایہود اولمرٹ کو براہ راست تنقید کا نشانہ تو نہیں بنایا گیا لیکن چونتیس روز تک جاری رہنے والی جنگ کو ایک بڑی ناکامی قرار دیا گیا ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم ایہود اولمرٹ نے بھی مستعفیٰ ہونے سے انکار کیا ہے۔ | اسی بارے میں لبنان جنگ،’بڑی اور سنگین‘ ناکامی30 January, 2008 | آس پاس اسرائیل، فلسطین کے’مثبت‘مذاکرات15 January, 2008 | آس پاس قبضوں کا سلسلہ بند ہو: بش 11 January, 2008 | آس پاس فلسطینی قیدیوں کی رہائی پر غور24 December, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||