BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 05 January, 2008, 12:57 GMT 17:57 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کینیا:قومی حکومت کی تجویز
مسٹر کیباکی
مسٹر کیباکی حالیہ بدامنی کے خاتمے پر حزبِ اختلاف کے رہنماؤں سے بات چیت کے لیے تیار ہیں
کینیا کے صدر موائی کیباکی نے ملک میں قومی مصالحت کی حکومت بنانے کی پیش کش کی ہے۔

اس پیش کش سے قبل مسٹر کیباکی نے افریقی امور سے متعلق امریکہ کی اعلیٰ ترین سفارتکار جیندئیی فریزر سے ملاقات کی تھی۔ امریکی اہلکار نے حزب اختلاف کے رہنما رائلا اوڈینگا سے بھی بات چیت کی تھی۔

کینیا میں گزشتہ ماہ کے صدارتی انتخابات کے بعد تشدد پھوٹ پڑا تھا کیونکہ حزب اختلاف کا الزام ہے کہ صدر کیباکی نے دھاندلی سے یہ الیکشن جیتا تھا۔ تشدد نے جلد ہی قبائلی دشمنی کی شکل اختیار کر لی تھی کیونکہ دونوں رہنماؤں کا تعلق مختلف قبائل سے ہے۔

 مسٹر کیباکی قومی اتحاد کی حکومت بنانے کو تیار ہیں تاکہ عوام کو متحد کیا جاسکے اور مصالحت کے عمل کو آگے بڑھایا جاسکے
سرکاری بیان

تشدد کے نتیجے میں ڈھائی سو سے زیادہ لوگ مارے گئے ہیں جبکہ ڈھائی لاکھ بے گھر ہوئے ہیں۔

ایک سرکاری بیان کے مطابق ’مسٹر کیباکی قومی اتحاد کی حکومت بنانے کو تیار ہیں تاکہ ملک کے عوام کو متحد کیا جاسکے اور مصالحت کے عمل کو آگے بڑھایا جاسکے۔‘

لیکن بی بی سی کے ایک نامہ نگار کے مطابق مسٹراوڈینگا اپنے اس موقف پر قائم ہیں کہ صدر استعفیٰ دیں اور انتخابات دوبارہ کرائے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ مسٹر کیباکی سے کوئی بات چیت نہیں ہوگی۔ خیال کیا جاتا ہے کہ محترمہ فریزر مسٹر اوڈنگا سے دبارہ بات چیت کریں گے۔

بیان کے مطابق امریکی سفارتکار نے حزب اختلاف سے بات چیت کرنے اور ملک میں تشدد پر قابو پانے کے لیے مسٹر کیباکی کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات کی ستائش کی اور فریقین سے اپیل کی کہ وہ اپنے اختلافات کا حل تلاش کرنے کے لیے مذاکرات کا سہارا لیں۔

امریکی سفارت کار مسٹر اوڈنگا سے دوبارہ ملاقات کریں گی

جمعہ کو مسٹر کیباکی نے کہا تھا کہ وہ حالیہ بدامنی کے خاتمے کے بعد حزبِ اختلاف کے رہنماؤں سے بات چیت کے لیے تیار ہیں۔ تاہم انہوں نے خبر دار کیا کہ’جو لوگ قانون کی خلاف ورزی جاری رکھیں گے انہیں حکومت کی پوری طاقت کا سامنا کرنا ہو گا۔

’میں اس بے وجہ تشدد سے بہت پریشان ہوں جسے کچھ رہنماؤں نے اپنے ذاتی و سیاسی مفادات کے حصول کے لیے ہوا دی ہے‘۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد