کینیا:جھڑپوں کے بعد ریلی ملتوی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افریقی ملک کینیا میں اپوزیشن نے دارالحکومت نیروبی میں صدارتی انتخاب میں دھاندلی کے خلاف آج کی اپنی ریلی ملتوی کردی ہے۔ یہ اعلان سارا دن نیروبی میں پولیس اور وسط شہر میں احتجاج کے لیے پہنچنے کی کوشش کرنے والے مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کے بعد کیا گیا۔ حزب اختلاف کے حامی اپنی سرگرمیوں کو پرامن قرار دیتے رہے تھے لیکن جمعرات کے روز فسادات روکنے کے لیے تعینات کی گئی خصوصی پولیس سے ان کی بار بار جھڑپیں ہوئی ہیں۔ سینکڑوں نوجوانوں کے گروہ مرکز شہر جانے کی بار بار کوشش کرتے رہے لیکن ہر بار پولیس نے آنسو گیس اور پانی کی دھار چھوڑنے والی توپیں استعمال کرکے ان کی کوشش ناکام بنادی۔ خود اخبارنویسوں نے اوہورو پارک کے سامنے پولیس کو اپوزیشن کے حامیوں پر زبردست لاٹھی چارج کرتے دیکھا جہاں اس احتجاجی ریلی کو منعقد ہونا تھا۔ حزب اختلاف کے صدارتی امیدوار رائلا اوڈنگا کی مہم کے مینیجر سلیم لون کے مطابق حزب اختلاف ہر قیمت پر اس احتجاجی ریلی میں خون خرابہ روکنا چاہتی تھی۔ ’ساری دنیا کی نظرین ہماری ریلی پر ہیں۔ رائلا اوڈنگا جہاں بھی جاتے ہیں ان سے پوچھا جاتا ہے کہ کیا آپ یہ ریلی منعقد کریں گے کیونکہ اس میں تو تشدد کا خطرہ ہے۔ اسی وجہ سے ہر جگہ رائلا اوڈنگا نے لوگوں سے یہ کہا کہ اگر یہ ریلی پرامن نہ ہوئی تو الزام ہم پر آئے گا۔‘ اپوزیشن نے ریلی کے انعقاد کی کوششیں کم سے کم آج کے لیے تو ترک کردی ہیں لیکن ساتھ ہی اس کا یہ بھی اصرار ہے کہ یہ ریلی کسی اور دن ضرور منعقد کی جائے گی۔ ایسی صورتحال میں اس بات کا بھی امکان کم ہی ہے کہ حکام ایسی کسی بھی ریلی کو غیرقانونی قرار دینے کا اپنا نقطۂ نظر تبدیل کرلیں۔ | اسی بارے میں کینیا: کشیدگی بڑھنے کے خدشات02 January, 2008 | آس پاس کینیا میں کشیدگی، متعدد ہلاکتیں 31 December, 2007 | آس پاس کینیا کا طیارہ ’کیمرون میں تباہ‘05 May, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||