توہین مذہب: ٹیچر کی وطن واپسی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سوڈان میں توہین مذہب کی جرم میں پندرہ دن قید کی سزا پانے والی برطانوی ٹیچر واپس وطن پہنچ گئی ہیں۔ سوڈان میں مقیم برطانوی سکول ٹیچر جلیئن گبنز پر الزام ہے کہ انہوں نے سکول کے بچوں کو یہ اجازت دی تھی کہ وہ اپنے ٹیڈی بیئر کا نام محمد رکھ لیں۔ ان پر لگائے گئے تین الزامات میں سے انہیں صرف توہین مذہب کا مرتکب پایا گیا تھا جبکہ مذہبی عقائد سے حقارت اور نفرت کے فروغ جیسے الزامات سے وہ بری قرار پائی ہیں۔ برطانیہ کے شہر لیورپول کی رہنے والی 54 سالہ جلیئن گبنز آٹھ دن قید کی سزا کاٹ چکی تھیں جب سوڈان کے حکمران عمر البشیر نے ان کی باقی ماندہ سزا ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ برطانیہ واپس پہنچنے پر انہوں نے کہا کہ وہ مکمل طور پر صدمے کی حالت میں ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ جیل میں ان کے ساتھ اچھا سلوک کیا گیا اور ہر کوئی ان کے ساتھ شفقت سے پیش آیا۔ جلیئن گبنز جب لندن کے ہیتھرو ائرپورٹ پر پہنچیں تو ان کے بیٹے نے ان کا استقبال کیا۔ وہ برطانوی دارالامراء کی مسلم ارکان لارڈ نذیر احمد اور بیرونس وارثی کے ساتھ براستہ دبئی لندن پہنچیں۔ سوڈان سے روانگی سے پہلے ایک بیان میں انہوں نے کہا تھا کہ انہوں نے جان بوجھ کر کسی کی دل آزاری نہیں کی۔ انہوں نے کسی کے مذہبی جذبات کو پہنچنے والے آزار پر معذرت چاہی ہے۔ برطانیہ میں جلیئن گبنز کی لوکل رکن پارلیمنٹ لوئیز ایلمین نے ان کی واپسی کا خیرمقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ ان قید کی سزا ہونی ہی نہیں چاہیے تھی۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ اصل واقعہ بہت ہی معصوم طرح کا واقعہ تھا اور اسے ایک معمولی غلطی سمجھا جانا چاہیے تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعے کو سیاق و سباق سے ہٹا کر بہت اہمیت دی گئی اور یہ ایک بہت ہی تشویشناک شکل اختیار کر گیا جس کے نتائج خطرناک ہو سکتے تھے۔ | اسی بارے میں ٹیچر پر توہینِ رسالت کا الزام29 November, 2007 | آس پاس توہین مذہب: ٹیچر کو سزا30 November, 2007 | آس پاس ٹیچر کو سخت سزا دینے کا مطالبہ01 December, 2007 | آس پاس اولادِ نرینہ،اسقاطِ حمل کی بڑی وجہ04 December, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||