شہاب ثاقب دیکھنے والے بیمار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنوبی امریکہ کے ملک پیرو میں زمین سے ٹکرانے والے شہابِ ثاقب کا مشاہدہ کرنے کے لیے جمع ہونے والے سینکڑوں افراد بیماری کا شکار ہو گئے ہیں۔ حکام کے مطابق کرنکس کے قصبے کے قریب شہابِ ثاقب کے زمین سے ٹکرانے سےایک بہت بڑا گڑھا بن گیا ہے۔ جو لوگ آسمان سے گرنے والے اس پتھر کو دیکھنے گئے تھے انہوں نے اس پتھر میں سے خارج ہونے والی گیسوں کی وجہ سے سر میں درد، متلی اور قے کی شکایت کی ہے۔
اس شہابِ ثاقب کا تجزیہ کرنے کے لیے سائنسدانوں کی ایک ٹیم روانہ کر دی گئی ہے جو اس کے نمونے حاصل کرکے اس بات کا اندازہ لگانے کی کوشش کرے گی کہ یہ واقعی ہی میں کوئی خلائی پتھر ہے۔ ایک مقامی باشندے ہبر ممانی نے بی بی سی کو بتایا کہ آسمان سے گرنے والے یہ پتھر زمین میں دھنس گیا ہے۔ ہبر ممانی نے مزید کہا کہ اس وجہ سے وہ اس پتھر کا سائنسی تجزیہ کرنے کا کہہ رہے ہیں کیونکہ اس میں خارج ہونے والی گیسوں سے لوگ خوف زدہ ہیں اور ایک بھینسا ہلاک ہو گیا اور چند اور جانور بیمار ہیں۔ ہفتے کی رات کو پیرو کے شہر لیما سے آٹھ سو میل کے فاصلے پر کرنکس سے لوگوں نے اطلاع دی کہ ایک بہت بڑا شعلہ آسمان سے ان کی طرف آ رہا ہے۔ اس کے بعد یہ شعلہ زمین سے آ ٹکرایا اور اس کی وجہ سے زمین میں تیس میٹر وسیع اور چھ میٹر گہرا گڑھا پڑ گیا ہے۔ اس گڑھے سے زہریلی گیسوں کا اخراج ہونے لگا۔ پیرو کے جوہری توانائی کے ادارے کے ایک انجینئر نے فرانسیسی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ اس میں کوئی تابکاری دیکھنے میں نہیں آئی اور اس بات کو بعید از امکان قرار دے دیا کہ گرنے والی شے کوئی سیارہ ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک عام شہابِ ثاقب ہے جو زمین سے ٹکرانے کے بعد زمینی عناصر سے مل کر زہریلی گیسوں کے اخراج کا باعث بناتا ہے۔ ان گیسوں کی وجہ سے سینکڑوں لوگ جو اسے دیکھنے گئے تھے بیماریوں کا شکار ہو گئے ہیں۔ ماہرین نے حکام کو تجویز کیا ہے کہ وہ لوگوں اس جگہ پر جانے سے روکنے کے لیے اقدامات کریں۔ | اسی بارے میں شہابیوں کی بارش30 September, 2003 | نیٹ سائنس زمین پر ’گڑھے‘ پر نئی تحقیق10 March, 2005 | نیٹ سائنس ٹوٹتے ستاروں کی روشنیوں بھری بارش13 August, 2007 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||