زمین پر ’گڑھے‘ پر نئی تحقیق | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نئی تحقیق کے مطابق 49,000 سال پہلے جو لوہے کا بڑا ٹکڑا ایریزونا کے مقام پر زمین سے ٹکرایا تھا وہ ایک بہت بڑے شہابی پتھر کا ایک حصہ تھا۔ اس کے علاوہ تحقیق سے یہ بھی پتا چلا ہے کہ آسمان سے گرنے والے شہابی پتھر اتنی تیزی سے زمین پر نہیں آئے تھے جتناکہ پہلے سمجھا رہا تھا۔ یہ نئی تحقیق ڈاکٹر جے میلوش اور ذاکٹر گیرتھ کولنز نے کی ہے۔ ان دونوں سائنسدانوں نے جریدے ’نیچر‘ کو بتایا کہ نئی تحقیق زمین پر اس ڈیڑھ کلومیٹر لمبے گڑھے پر مزید روشنی ڈالتی ہے۔
یونیورسٹی آف ایریزونا کے ڈاکٹر میلوش نے بی بی سی نیوز کو بتایا کہ ’اس سے ہم بہت حیران ہیں، کیونکہ ہم سمجھتے تھے کہ میٹیور کریٹر پر سب کچھ کہا جا چکا ہے‘۔ ایک سو ستر میٹر لمبا گڑھا زمین پر خلا سے آ کر ٹکرانے والی شے کی سب سے بڑی شہادت ہے اور اس پر پہلے بھی بہت تحقیق ہو چکی ہے۔ زیادہ تر سائنسدان اس بات پر متق ہیں کہ زمین کی حدود میں داخل ہونے والا ٹکڑا 40 میٹر چوڑا تھا اور 9.4 کلومیٹر فی سیکنڈ سے لے کر 20 کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے زمین سے ٹکرایا تھا۔ تاہم میلوش اور کولنز نے ایک نیا اور سادہ طریقہ استعمال کیا ہے اور کہا ہے کہ اصلی چیز زمین کی فضا سے ٹکرانے کے بعد آہستہ ہو گئئ اور اس کے کئی ٹکڑے ہو گئے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||