| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
تاروں کی بہاریں
ایسے میں جب اس ہفتے کرۂ ارض ایک بار پھر شہابیوں کی بارش سے دوچار ہونے والا ہے، ہر سال آسمان کو روشن کردینے والے شہاب ثاقب یا ٹوٹتے ہوئے تارے ایک بار آسمان پر نظر آنے لگے ہیں۔ ماہرین نے پیشنگوئی کی ہے کہ ایک گھنٹے کے دوران تقریباً سو شہابیے یا ٹوٹتے تارے آسمان پر دیکھے جاسکیں گے لیکن چاند سے منعکس ہوکر آنے والی روشنی کی وجہ سے بدھ تک ان شہابیوں کا دیکھا جانا مشکل رہے گا۔ اس برس ویسے بھی زیادہ شہابیے نظر آنے کی امید گزشتہ برس کے مقابلے میں کافی کم ہے جب یورپ کے مختلف علاقوں فی گھنٹہ تین ہزار شہابیے دیکھے گئے تھے۔ فلکیات سے متعلق ادارے ’سوسائٹی فار پاپولر اسٹرانمی‘ سے منسلک رابن سیگال کا کہنا ہے ’ایک بھرپور آتشبازی جیسے مناظر نظر آنا تو مشکل ہے لیکن یہ امید ضرور رہے گی کہ کسی بھی وقت یہ اچانک نظر آنے لگیں۔‘ یہ شہابیے دراصل اس دمدار ستارے کی گرد و دھول ہوتے ہیں جس سورج کے گرد اپنا چکر تینتیس برس میں مکمل کرتا ہے اور جب زمین اپنے مدار کے اس گرد آلود حصے میں پہنچتی ہے تو یہ شہابیے روشن ہوکر نظر آتے ہیں آسمان پر عجیب سا منظر پیدا کردیتے ہیں۔ زیادہ تر شہابیے چاول کے دانے کے برابر ہوتے ہیں اور زمین کے مدار میں پینسٹھ کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے داخل ہوتے ہیں۔ یہ عمل ہر سال نومبر کے مہینے میں ہوتا ہے۔ ویسے تو ان شہابیوں کو گیارہ بجے رات سے قبل نہیں دیکھا جاسکتا لیکن ان کے دیکھا جانے کا بہترین وقت تین سے چار بجے رات تک ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||