عراق میں امریکی کمانڈر پر تنقید | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں امریکی فوج کے کمانڈر جنرل پیٹرئس کی کانگریس میں پیشی کو حزب مخالف کے کارکنوں نے تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ دس ستمبر کو جنرل پیٹرئس نے کانگریس کو بتایا تھا کہ عراق میں امریکی فوج کے نمایاں اضافے سے عراق میں پُرتشدد واقعات میں کمی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ فوجی حکمت عملی کے اعتبار سے یہ منصوبہ کامیاب رہا ہے تاہم علاقائی اور سیاسی اعتبار سے یہ کامیاب نہیں تھا۔ فروسی سے لے کر جون تک مزید تیس ہزار فوجیوں کو عراق بھیجا گیا تھا اور اس وقت عراق میں 16800 امریکی فوجی تعینات ہیں۔ جنرل پیٹرئس نے کانگریس کی مسلح افواج اور امور خارجہ کی کمیٹیوں کی مشترکہ سماعت کے سامنے پیشی میں کہا کہ اب امریکی فوج کو عراق سے نکالنے کا عمل شروع کر دینا مناسب ہوگا اور ان کا خیال ہے کہ اگلے سال کے نصف تک تقریباً تیس ہزار فوجیوں کو عراق سے نکالنا ممکن ہوگا۔ عراق کے وزیر خارجہ ہوشیار زباری نے بھی جنرل پیٹرئس کی اس رائے سے اتفاق کیا تھا کہ عراق میں امریکی فوج میں اضافے سے ملک میں تشدد پر کافی حد تک قابو پا لیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فرقہ وارانہ تشدد میں کمی دیکھی گئی ہے۔ تاہم امریکی کمانڈر کے اس دعوے پر حزب اختلاف کے ارکان نے کافی تنقید کی۔ کانگریس میں ڈیموکریٹک پارٹی کی رکن لِن ولزلی کے مطابق جنرل پیٹرئں وائٹ ہاؤس کی محض ترجمانی کر رہے تھے۔ ’ساڑھے چار سال ہو گئے ہیں، اگر صرف فوج میں اضافے سے کامیابی ہوتی تو اب تک ہمیں عراق میں کامیاب ہو جانا چاہیے تھا۔‘ ڈیموکریٹ رکن ٹام لینٹوس کا بھی کہنا تھا کہ عراق میں فوج کی تعداد بڑھانے کو کامیاب قرار دینا غلط ہے۔ ’اب ہمارا وہاں سے نکلنا ضروری ہے، عراق کے لیے اور ہمارے لیے بھی۔‘ تاہم حکمراں جماعت ریپبلکن پارٹی کے رکن ڈنکن ہنٹر نے جنرل کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ امریکی فوجی کی کوششوں کے نتیجے میں عراقی فوج ایک پیشہ ور فوج کی شکل میں ابھر رہی ہے۔ امریکی فوج کو عراق سے نکالنے کے بارے میں جنرل پیٹرئس نے بتایا کہ اس ماہ تقریباً دو ہزار مرینز کو عراق سے واپس بلا لیا جائے گا اور اگلے ایک سال تک تیس ہزار فوجیوں کو عراق سے نکال لیا جائے گا۔ عراق میں امریکی فوج کی تعداد میں مزید کمی کرنے پر فیصلہ اگلے سال مارچ میں کیا جائے گا۔ امریکی کمانڈر نے وائٹ ہاؤس کی ترجمانی کرنے کے الزام کو رد کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنا بیان نہ پینٹاگون اور نہ ہی وائٹ ہاؤس کو دکھایا تھا اور یہ انہوں نے خود تیار کیا تھا۔ امریکی کمانڈر کے بعد عراق میں امریکی سفیر رائن کروکر بھی پیش ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ عراق میں امریکی مقاصد پورے ہونے کا امکان ہے۔ | اسی بارے میں ’فوج میں کمی کی جاسکتی ہے‘05 September, 2007 | آس پاس ’عراق مسئلے کا فوجی حل نہیں‘ 08 March, 2007 | آس پاس عراق میں امریکی فوجی کمان تبدیل 10 February, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||