طوفان ’ڈین‘ جمیکا ہائی الرٹ پر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بحیرۂ غرب الہند سے اٹھنے والے خطرناک طوفان ’ڈین‘ سے قبل جزیرہ نما ملک جمیکا میں حفاظتی انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ جمیکا براہِ راست ڈین طوفان کے رستے میں آتا ہے اور ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس سے بڑے پیمانے پر تباہی پھیل سکتی ہے۔ طوفان کی وجہ سے جمیکا میں بیس انچ یعنی پچاس سینٹی میٹر تک بارشیں ہونے کا امکان ہے۔ حفاظتی تدابیر کے پیشِ نظر نچلی سطح کے علاقوں کو خالی کروا لیا گیا ہے اور سکولوں اور گرجا گھروں کو ایمرجنسی پناہ گاہوں میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ طوفان کی وجہ سے جمیکا میں لوگ کھانے پینے کی اشیاء ذخیرہ کر رہے ہیں جبکہ سیاح ملک چھوڑنے کی تیاری میں ہیں۔ ڈین طوفان جمیکا کے ساحل کے قریب سے گزرتا ہوا میکسیکو سے جا ٹکرائے گا۔ جمیکا کے حکام نے ملک میں کرفیو نافذ کردیا ہے اور ہوائی اڈے کو بند کرنے کا حکم دیا ہے جبکہ امریکہ نے کہا ہے کہ اگر ضرورت پڑی وہ ہنگامی بنیادوں پر امداد پہنچانے کے لیے تیار ہے۔ کریبین کے مشرقی حصوں میں دو سو تین کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی طوفانی ہواؤں کی وجہ سے چار افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
ہیٹی اور ڈومیکن رپبلک بھی اس طوفان سے متاثرہ ہو رہے ہیں جہاں طوفانی بارشوں اور نشیبی اور ساحلی علاقوں میں سیلاب آ گئے ہیں۔ وزیر اعظم پورتیا سمپسن ملر نے چھٹیوں پر گئے پولیس اہلکاروں، آگ بجھانے والے عملے اور جیلوں پر تعینات اہلکاروں کو واپس طلب کر لیا تھا تاکہ طوفان سے پیدا ہونےوالی ممکنہ صورت حال سے نبٹنے کے لیے تیاریاں کی جا سکیں۔ ستائیس اگست کو ہونے والے عام انتخابات کے لیے مہم بھی روک دی گئی ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ’ہمیں متحدہ ہو کر اس طوفان سے نمٹنا چاہیے۔‘ ہزاروں کی تعداد میں سیاح ہوائی اڈے پر قطاروں میں کھڑے ہیں تاکہ طوفان سے پہلے وہاں سے نکلا جا سکے۔ ڈین طوفان کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے اور خیال کیا جا رہا ہے کہ پیر کی صبح تک جب اس کا میکسیکو پہچنے کا امکان ہے یہ انتہائی شدت اختیار کر لے گا اور پانچویں درجے یا انہتائی درجے کا طوفان بن جائے۔ | اسی بارے میں ریٹا طوفان سے نمٹنے کی تیاریاں23 September, 2005 | آس پاس ریٹا کی تباہی سامنے آنا شروع24 September, 2005 | آس پاس ریٹاطوفان:جانی نقصان نہیں ہوا25 September, 2005 | آس پاس ولما نے مکسیکو میں تباہی مچا دی22 October, 2005 | آس پاس زحل سمندری طوفان کی زد میں11 November, 2006 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||